المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
56. الْأَمْرُ بِخَلْعِ النِّعَالِ فِي الْقُبُورِ
قبروں میں جوتے اتارنے کا حکم۔
حدیث نمبر: 1396
أخبرنا أبو سَهْل أحمد بن محمد بن عبد الله النَّحْوي، حدثنا أبو قِلَابة، حدثنا أبو عاصم، حدثنا الأسْوَد بن شَيْبان، حدثنا خالد بن سُمَير، حدثني بشير بن نَهِيك، حدثني بَشيرُ رسولِ الله ﷺ وكان اسمُه في الجاهلية زَحْم بن مَعبَد، فقال رسول الله ﷺ:"ما اسمُك؟" قال: زَحْم بن مَعبَد فقال:"أنت بَشِير" فكان اسمَه - قال: بينا أنا أُماشي رسولَ الله ﷺ فقال:"يا ابنَ الخَصاصِيَة، ما أصبحتَ تَنقِمُ على الله؟ تُماشي رسولَ الله ﷺ"، فقلت: ما أَنقِمُ على الله شيئًا، كلَّ خيرٍ فَعَلَ بيَ (1) الله، فأَتى على قُبورٍ من المشركين فقال:"لقد سُبِق هؤلاءِ بخيرٍ كثير" ثلاث مرارٍ، ثم أَتى على قُبورِ المسلمين فقال:"لقد أدركَ هؤلاءِ خيرًا كثيرًا" ثلاث مراتٍ، فبينما هو يمشي إذ حانت منه نظرةٌ، فإذا هو برجلٍ يمشي بين القبور عليه نَعلانِ، فقال:"يا صاحبَ السِّبْتِيَّتينِ، وَيحَكَ أَلْقِ سِبْتِيَّتَيكَ"، فنظر فلما عَرَفَ الرجلُ رسول الله ﷺ، خَلَعَ نَعلَيه فرمى بهما (2) .
بشیر بن نہیک بیان کرتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک بشیر (خوشخبری دینے والے صحابی) نے بتایا جن کا نام جاہلیت میں زحم بن معبد تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”تمہارا نام کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: زحم بن معبد۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بشیر ہو“، چنانچہ یہی ان کا نام پڑ گیا۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیدل چل رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابن خصاصیہ! تم اللہ سے کس بات کا شکوہ کرتے ہو؟ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیدل چل رہے ہو۔“ میں نے عرض کیا: میں اللہ سے کسی بات کا شکوہ نہیں کرتا، اس نے میرے ساتھ ہر طرح کی بھلائی کی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین کی قبروں کے پاس آئے اور تین بار فرمایا: ”یہ لوگ بہت سی بھلائی سے پیچھے رہ گئے۔“ پھر مسلمانوں کی قبروں پر آئے اور تین بار فرمایا: ”ان لوگوں نے بہت سی بھلائی پا لی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چل رہے تھے کہ اچانک آپ کی نظر ایک شخص پر پڑی جو قبروں کے درمیان جوتے پہن کر چل رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بالوں والے جوتے «السِّبْتِيَّتَيْنِ» والے! تجھ پر افسوس، اپنے یہ جوتے اتار دے۔“ اس شخص نے دیکھا اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان لیا تو اپنے جوتے اتار کر پھینک دیے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1396]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 1396] [ترقيم الشركة 1384]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1396 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرف في النسخ الخطية إلى: نبي. والتصويب من "سنن البيهقي" 4/ 80 حيث رواه عن المصنف.
🔍 فنی نکتہ: (1) نسخوں میں "نبی" ہو گیا تھا، بیہقی سے تصحیح کی گئی۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 1396 in Urdu