المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
62. دلالة العمل الذى تستحق به الجنة
اس عمل کی رہنمائی جس کے ذریعے جنت کی مستحق ٹھہرا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 1417
أخبرني أبو الحسن أحمد بن محمد بن سَلَمة العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدَّارمي، حدثنا أصْبَغ بن الفَرَج المِصري، حدثنا عبد الله بن وَهْب، أخبرني يونس، عن ابن شهاب، أنَّ خارجة بن زيد أخبره، أنَّ أُمَّ العلاء - امرأةً من الأنصار قد بايَعَتْ رسول الله ﷺ أخبرته: أنهم اقتَسَموا المهاجرين (1) قُرْعةً، فطارَ لنا عثمانُ بن مَظعُون، فأنزلْناه في أبياتنا، فوَجِعَ وَجَعَه الذي مات فيه، فلما تُوفِّي غُسِّل وكُفِّن في أثوابه، دَخَلَ رسولُ الله ﷺ فقلت: يا عثمانُ بنَ مظعونٍ، رحمةُ الله عليكَ أبا السائب، فشهادتي عليك لقد أكرَمَكَ الله، فقال رسولُ الله ﷺ:"وما يُدريكِ أنَّ الله أكرَمَه؟" فقالت: بأبي أنتَ وأمي يا رسول الله، فمَنْ؟ فقال رسولُ الله ﷺ:"أمّا هو فقد جاءَه اليقينُ، فوالله إنِّي لأرجو له الخير، واللهِ ما أَدري وأنا رسولُ الله ماذا يُفعَلُ بي" قالت: فواللهِ ما أُزكِّي بعدَه أحدًا أبدًا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!.
ام العلاء رضی اللہ عنہا - جو ایک انصاری خاتون ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی - بیان کرتی ہیں کہ جب انصار نے مہاجرین کو ٹھہرانے کے لیے قرعہ اندازی کی تو ہمارے حصے میں سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ آئے، ہم نے انہیں اپنے گھروں میں ٹھہرایا، پھر وہ اس بیماری میں مبتلا ہوئے جس میں ان کا انتقال ہو گیا۔ جب وہ فوت ہو گئے، انہیں غسل دیا گیا اور ان کے کپڑوں میں کفنایا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ میں نے کہا: ”اے عثمان بن مظعون! تم پر اللہ کی رحمت ہو اے ابوسائب، میری تمہارے بارے میں گواہی ہے کہ یقیناً اللہ نے تمہیں معزز فرمایا ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ اللہ نے انہیں معزز فرمایا ہے؟“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، پھر اور کون ہوگا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تو ان کے پاس یقین (موت) آ چکا ہے، بخدا! میں ان کے لیے خیر کی امید رکھتا ہوں، لیکن اللہ کی قسم! میں اللہ کا رسول ہو کر بھی نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا۔“ ام العلاء کہتی ہیں: ”بخدا! میں اس کے بعد کبھی کسی کی پاکیزگی (حتمی طور پر) بیان نہیں کروں گی۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا!۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1417]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا!۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1417]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1417 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في النسخ الخطية: للمهاجرين، والمثبت من مصادر التخريج، وهو أوجه.
🔍 فنی نکتہ: (1) نسخوں میں "للمهاجرين" تھا، درست "للمؤمنين" (مؤمنوں کے لیے) ہے۔