المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
65. استثناء النياحة
نوحہ کرنے کی ممانعت میں بعض استثنا کا بیان۔
حدیث نمبر: 1430
أخبرنا أبو الفضل محمد بن إبراهيم المزكِّي، حدثنا جعفر بن محمد بن الحسين (3) ، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا أبو معاوية، حدثنا عاصم بن سليمان، عن حَفْصة بنت سِيرين، عن أُم عَطيَّة قالت: لما نزلَتْ: ﴿إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ﴾ إلى قوله: ﴿وَلَا يَعْصِينَكَ﴾ [الممتحنة: 12] ، كانت منه النِّياحةُ، فقلت: يا رسول الله، إلّا آلَ فلان، فإنهم كانوا أسعَدُوني في الجاهلية، فلا بدَّ لي من أن أُسعِدَهم، فقال:"إلّا آلَ فلان" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ﴾ [سورہ ممتحنہ: 12] ”جب آپ کے پاس مومن عورتیں بیعت کے لیے آئیں“ یہاں تک کہ اللہ کا یہ فرمان ﴿وَلَا يَعْصِينَكَ﴾ ”اور وہ آپ کی نافرمانی نہ کریں“، تو اس بیعت کی شرائط میں بین نہ کرنا بھی شامل تھا، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! فلاں خاندان کے سوا (اجازت دے دیں)، کیونکہ انہوں نے جاہلیت کے زمانے میں (میرے غم میں رو کر) میرا ساتھ دیا تھا، تو میرے لیے ضروری ہے کہ میں بھی ان کا بدلہ اتاروں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فلاں خاندان کے سوا (یعنی تمہیں ان کے ہاں جانے کی اجازت ہے)۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1430]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1430]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1430 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) تحرَّف في نسخنا الخطية إلى: الحسن، والتصويب من "إتحاف المهرة" 18/ 97، وقد تكرر على الصواب في غير موضع من "المستدرك"، وهو محمد بن جعفر بن الحسين النيسابوري، المعروف بالترك، وهو من كبار أصحاب يحيى بن يحيى. انظر ترجمته في "سير أعلام النبلاء" ¤ ¤ 14/ 46، و"تاريخ الإسلام" 6/ 923.
🔍 فنی نکتہ: (3) نسخوں میں "الحسن" لکھا تھا، درست "محمد بن جعفر" ہے جو کہ "الترک" کے نام سے مشہور ثقہ راوی ہیں۔
(1) إسناده صحيح، لكن انفرد عاصم بن سليمان - وهو الأحول - بالتصريح بإذنه ﷺ لها بالنياحة، وبقوله: "إلّا آل فلان"، وبذلك أعله البيهقي في "السنن الكبرى" 4/ 62 فقال: كذلك رواه عاصم بن سليمان الأحول عن حفصة بنت سيرين، ولا أدري هل حفظ ما روى من الإذن في الإسعاد أم لا، فقد رواه أيوب السختياني، وهو أحفظ منه، على ما ذكرنا - وسيأتي بيانه في التخريج - ورواه هشام بن حسان عن حفصة، فلم يذكر شيئًا من ذلك.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) سند صحیح ہے، مگر عاصم الاحول نے نوحہ کی اجازت اور "فلاں خاندان کے سوا" والے الفاظ اکیلے بیان کیے ہیں، جس کی وجہ سے امام بیہقی نے اسے معلول (مشکوک) قرار دیا ہے کیونکہ ایوب السختیانی ان سے بڑے حافظ ہیں اور انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا۔
يحيى بن يحيى: هو النيسابوري، وأبو معاوية: هو محمد بن خازم الضرير.
🔍 فنی نکتہ: یحییٰ بن یحییٰ النیسابوری اور ابومعاویہ الضریر ثقہ راوی ہیں۔
وأخرجه أحمد 34/ (20796)، ومسلم (936) (33)، والنسائي (11523)، وابن حبان (3145) من طريق أبي معاوية الضرير، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (20796/34)، مسلم (936)، نسائی اور ابن حبان نے ابومعاویہ کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 45/ (27037) من طريق عبد الواحد بن زياد، عن عاصم الأحول، به. وفيه: فقالت امرأة من الأنصار: إنَّ آل فلان أسعدوني في الجاهلية، وفيهم مأتم، فلا أبايعك حتى أُسعدهم لما أسعدوني، فقالت: فكأنَّ رسول الله ﷺ وافقها على ذلك، فذهبت فأسعدتهم، ثم رجعت فبايعت النبي ﷺ.
📖 حوالہ / مصدر: احمد (27037/45) کی روایت میں صراحت ہے کہ ایک انصاری خاتون نے عرض کی کہ جاہلیت میں ایک خاندان نے میرے ساتھ مل کر بین (ماتم) کیا تھا، اب میں ان کا بدلہ چکانا چاہتی ہوں، تو نبی ﷺ نے خاموشی اختیار فرمائی یا بظاہر موافقت کی۔
وأخرجه البخاري (4892) و (7215) من طريق أيوب بن أبي تميمة السختياني، عن حفصة بنت سيرين، به. لكن فيه: فقبضت امرأة يدها، فقالت: أسعدتني فلانة، أريد أن أجزيها، فما قال لها النبي ﷺ شيئًا، فانطلقت ورجعت، فبايعها. وزاد في الموضع الثاني: فما وَفَت امرأة إلّا أم سليم، وأم العلاء، وابنة أبي سبرة امرأة معاذ، أو ابنة أبي سبرة وامرأة معاذ.
📖 حوالہ / مصدر: بخاری (4892) کی روایت میں ہے کہ اس خاتون نے بیعت سے ہاتھ کھینچ لیا تاکہ بدلہ چکا آئے، آپ ﷺ نے کچھ نہ فرمایا، وہ چلی گئی اور پھر آکر بیعت کی۔
فرواية أيوب عن حفصة هذه ليس فيها التصريح بالإذن بالإسعاد، ثم إنها أخرت البيعة إلى ما بعد ذلك.
⚖️ درجۂ حدیث: ایوب کی روایت میں نوحہ کرنے کی "صریح اجازت" نہیں ہے، بلکہ صرف بدلہ چکانے کے لیے بیعت میں تاخیر کا ذکر ہے۔
وأخرج أحمد 34/ (20791) و (20798) و 45/ (27305)، ومسلم (936) (31) من طريق هشام بن حسان، عن حفصة بنت سيرين، عن أم عطية قالت: أخذ علينا رسول الله ﷺ في البيعة ألا تَنُحْنَ، فما وفت منهن غير خمس، منهن أم سليم. ولم يذكر بعضهم أم سليم، وزاد في الموضع الثاني عند أحمد: ولا نحدِّث من الرجال إلّا محرمًا، وهي زيادة ضعيفة، تفرد بها غسان ¤ ¤ ابن الربيع، وهو ممن لا يحتمل تفرده.
📖 حوالہ / مصدر: مسلم (936) کی روایت میں ہے کہ صرف پانچ خواتین نے اس عہد کو مکمل طور پر نبھایا، جن میں ام سلیم رضی اللہ عنہا شامل تھیں۔
وأخرجه البخاري (1306)، ومسلم (936) (31)، والنسائي (7755) من طريق حماد بن زيد، عن أيوب السختياني، عن محمد بن سيرين، عن أم عطية قالت: أخذ علينا رسول الله ﷺ عند البيعة أن لا ننوح، فما وفت منا امرأة غير خمس نسوة. وذكرتهن.
📖 حوالہ / مصدر: بخاری (1306) اور مسلم کی روایت کے مطابق بیعت میں نوحہ نہ کرنے کا عہد لیا گیا اور اسے صرف پانچ عورتوں نے نبھایا۔
ورواه سفيان بن عيينة، عن أيوب السختياني، عن محمد بن سيرين، عن أم عطية، وفيه: لما أردت أن أبايع رسول الله ﷺ، قلت: يا رسول الله، إني امرأة أسعدتني في الجاهلية، فأذهب فأسعدها، ثم أجيئك فأبايعك، قال: "اذهبي" فذهبت فساعدتها، ثم جئت فبايعت النبي ﷺ. أخرجه النسائي (7754).
📖 حوالہ / مصدر: نسائی (7754) کی روایت میں سفیان بن عیینہ نے "اذهبي" (جاؤ) کے الفاظ کے ساتھ بدلہ چکانے کی اجازت کا ذکر کیا ہے۔
وخالف سفيانَ هشامُ بنُ حسان وحبيبُ بنُ الشهيد فروياه عن محمد بن سيرين عن أم عطية، ليس فيه الإذن بالإسعاد، بل فيه: فقبضت يدها، وقبض رسول الله ﷺ يده، فلم يبايعها. أخرجه أحمد 45/ (27308).
⚖️ درجۂ حدیث: ہشام اور حبیب نے ابن سیرین سے روایت کرتے ہوئے اجازت کا ذکر نہیں کیا، بلکہ کہا کہ آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور اسے بیعت نہیں کیا۔
ويؤيد عدم الإذن في الإسعاد، ما جاء في حديث أنس: أنَّ رسول الله ﷺ أخذ على النساء حين بايعهن أن لا يَنُحْنَ، فقلن: يا رسول الله، إنَّ نساءً أسعدننا في الجاهلية، أفنسعدهن؟ فقال رسول الله ﷺ: "لا إسعاد في الإسلام". أخرجه أحمد 20/ (12658) و (13032)، والنسائي (1991) - واللفظ له - وابن حبان (3146)، وإسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: حضرت انس رضی اللہ عنہ کی صحیح سند والی روایت (احمد 12658/20) اس کی تائید کرتی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: "اسلام میں نوحہ میں ایک دوسرے کی مدد کرنا (إسعاد) جائز نہیں"۔
وانظر تتمة أحاديث الباب عند الحديث رقم (20796) من "مسند أحمد".
🔍 فنی نکتہ: مزید تفصیل کے لیے مسند احمد (20796) ملاحظہ کریں۔