المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
67. أولاد المؤمنين يكفلهم إبراهيم وسارة عليهما السلام
مؤمنوں کے بچوں کی کفالت سیدنا ابراہیم اور سیدہ سارہ علیہما السلام کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 1434
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا حميد بن عيَّاش الرَّمْلي، حدثنا مُؤمَّل بن إسماعيل، حدثنا سفيان، عن عبد الرحمن بن الأصبهاني، عن أبي حازم، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ:"أولادُ المؤمنينَ في جَبَلٍ في الجنة، يَكْفُلُهم إبراهيم وسارةُ حتى يَرُدَّهم إلى آبائِهم يومَ القيامة" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومنوں کی (فوت شدہ) اولاد جنت کے ایک پہاڑ میں ہے، جہاں ابراہیم علیہ السلام اور سارہ علیہا السلام ان کی کفالت کر رہے ہیں یہاں تک کہ وہ قیامت کے دن انہیں ان کے والدین کے حوالے کر دیں گے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1434]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1434]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1434 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده حسن في المتابعات والشواهد إلى أبي هريرة، من أجل مؤمَّل بن إسماعيل، وقد توبع، لكن قد اختُلف في رفعه ووقفه كما سيأتي. سفيان: هو الثوري، وأبو حازم: هو سلمان الأشجعي.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) مؤمل بن اسماعیل کی وجہ سے متابعات میں سند حسن ہے، اگرچہ اس کے موقوف و مرفوع ہونے میں اختلاف ہے۔ سفیان ثوری اور ابوحازم اس کے راوی ہیں۔
وأخرجه البيهقي في "البعث والنشور" (210) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "البعث والنشور" (210) میں حاکم کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أبو نعيم في "أخبار أصبهان" 2/ 263، وأبو القاسم بن بشران في "أماليه" (925) و (1251)، وأبو منصور الديلمي - كما في "الغرائب الملتقطة" لابن حجر (379) - وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 69/ 189 من طرق عن مؤمَّل بن إسماعيل، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابونعیم، ابن بشران اور ابن عساکر نے مؤمل بن اسماعیل کے طریقوں سے روایت کیا ہے۔
ورواه وكيع عن سفيان، واختُلف عليه في رفعه ووقفه، فقد رواه محمد بن عبد الله بن سليمان عنه، عن سفيان به، مرفوعًا. أخرجه البيهقي في "القضاء والقدر" (634).
⚖️ درجۂ حدیث: وکیع نے سفیان سے اسے مرفوع اور موقوف دونوں طرح روایت کیا ہے۔
وخالف محمدًا أبو بكر بن أبي شيبة، فأخرجه في "مصنفه" 3/ 379 عن وكيع، عن سفيان، عن ابن الأصبهاني، عن أبي حازم، عن أبي هريرة من قوله.
⚖️ درجۂ حدیث: ابن ابی شیبہ (379/3) نے اسے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول (موقوف) کے طور پر روایت کیا ہے۔
ووقفه أيضًا عن سفيان يحيى بن سعيد القطان، فقد أخرجه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 69/ 190 من طريق مسدد، عن يحيى القطان، عن سفيان، به موقوفًا.
⚖️ درجۂ حدیث: یحییٰ القطان نے بھی سفیان سے اسے موقوفاً ہی روایت کیا ہے۔
وقد رجح الدارقطني وقفه كما في "العلل" له (2211)، حيث قال: والموقوف أشبه.
⚖️ درجۂ حدیث: امام دارقطنی نے موقوف ہونے کو ہی راجح قرار دیا ہے۔
قلنا: لكن مثل هذا الحديث له حكم المرفوع، فمثله لا يقال بالرأي، ويؤيد ذلك ما رواه أحمد 14/ (8324)، وابن حبان (7446) من وجه آخر عن أبي هريرة بإسناد حسن مرفوعًا: "ذراري ¤ ¤ المؤمنين يكفلهم إبراهيم في الجنة"، ولم يذكر فيه سارة، وسيأتي في "المستدرك" برقم (3439).
⚖️ درجۂ حدیث: ہم عرض کرتے ہیں کہ یہ غیب کی خبر ہے اس لیے یہ حکمِ مرفوع میں ہے۔ اس کی تائید احمد (8324/14) کی حسن روایت سے ہوتی ہے کہ: "مومنوں کے بچے جنت میں ابراہیم علیہ السلام کی کفالت میں ہیں"۔
وكذلك ما أخرجه البخاري في "صحيحه" (1386) في حديث سمرة بن جندب الطويل، وفيه: "والشيخ في أصل الشجرة إبراهيم ﵇، والصبيان حوله فأولاد الناس"، وفي رواية برقم (7047): "وأما الرجل الطويل الذي في الروضة فإنه إبراهيم ﷺ، وأما الوِلدان الذين حوله فكل مولود مات على الفطرة".
🧩 متابعات و شواہد: بخاری (1386) کی سمرہ بن جندب والی طویل حدیث میں بھی ذکر ہے کہ جنت کے ایک باغ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے گرد بچے موجود تھے، جو فطرت پر مرنے والے اولادِ آدم ہیں۔