المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
70. قِرَاءَةُ الْفَاتِحَةِ فِي صَلَاةِ الْجِنَازَةِ مِنَ السُّنَّةِ
نمازِ جنازہ میں سورۃ الفاتحہ پڑھنا سنت ہے۔
حدیث نمبر: 1441
أخبرنا أبو علي محمد بن عليٍّ الواعظ ببُخارى، حدثنا علي بن عبد الله بن مُبشِّرٍ الواسطي، حدثنا أحمد بن سِنَان، حدثنا عبد الرحمن بن مَهْدي، حدثنا سفيان، عن سعد بن إبراهيم، عن طلحة بن عبد الله بن عَوف، قال: صلَّى ابنُ عباسٍ على جنازةٍ، فقرأ بفاتحة الكتاب، فقلتُ له، فقال: إنَّه من السُّنة، أو من تَمَامِ السُّنة (2) .
هذا حديث صحيح على شرطهما، ولم يُخرجاه!
هذا حديث صحيح على شرطهما، ولم يُخرجاه!
طلحہ بن عبداللہ بن عوف بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک جنازہ پڑھایا اور اس میں سورہ فاتحہ کی تلاوت فرمائی، میں نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ سنت ہے، یا (فرمایا) یہ سنت کی تکمیل میں سے ہے۔
یہ حدیث ان دونوں (بخاری و مسلم) کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا! [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1441]
یہ حدیث ان دونوں (بخاری و مسلم) کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا! [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1441]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،سفيان: هو ابن عيينة، وأخرجه الترمذي (1027) عن محمد بن بشار، عن عبد الرحمن بن مهدي، بهذا الإسناد.» [ترقيم الرساله 1441] [ترقيم الشركة 1429]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1441 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح. سفيان: هو ابن عيينة. ¤ ¤ وأخرجه الترمذي (1027) عن محمد بن بشار، عن عبد الرحمن بن مهدي، بهذا الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند صحیح ہے۔ سفیان بن عیینہ اور امام شافعی اس کے راوی ہیں۔ ترمذی (1027) نے بھی اسے روایت کیا ہے۔
وأخرجه البخاري (1335)، وأبو داود (3198) من طريق محمد بن كثير، عن سفيان بن عيينة، به فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری (1335) اور ابوداؤد (3198) نے محمد بن کثیر عن سفیان بن عیینہ کی سند سے روایت کیا ہے۔ حاکم کا استدراک یہاں سہو ہے۔
وانظر ما سلف برقم (1340).
🔍 فنی نکتہ: نمبر (1340) ملاحظہ فرمائیں۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 1441 in Urdu