المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
16. من تحل له الصدقة
کن لوگوں کے لیے صدقہ حلال ہے اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 1493
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سليمان المَوصِلي، حدثنا علي بن حرب، حدثنا سفيان. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه - واللفظ له - أخبرنا بشرُ بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، عن منصور، عن أبي حازم، عن أبي هريرةَ، يَبلُغُ به:"لا تَحِلُّ الصدقةُ لِغنيٍّ ولا لذي مِرَّةٍ سَوِيٍّ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. شاهدُه حديث عبد الله بن عمرو:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. شاهدُه حديث عبد الله بن عمرو:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ (زکوٰۃ) نہ تو کسی مالدار کے لیے حلال ہے اور نہ ہی کسی ایسے تندرست و توانا شخص کے لیے جو صحیح اعضاء کا مالک (اور کمانے کے قابل) ہو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کی شاہد حدیث سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1493]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کی شاہد حدیث سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1493]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1493 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد فيه اختلاف سيأتي بيانه. علي بن حرب: هو الطائي، وسفيان: هو ابن عيينة، وأبو بكر بن إسحاق: اسمه أحمد، والحميدي: هو عبد الله بن الزبير، ومنصور: هو ابن المعتمر، وأبو حازم: هو سلمان الأشجعي.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اگرچہ سند میں کچھ اختلاف ہے۔ 👤 راوی پر جرح: علی بن حرب الطائی، سفیان بن عیینہ، احمد بن اسحاق، الحمیدی، منصور بن المعتمر اور ابوحازم سلمان الاشجعی سب معروف راوی ہیں۔
وهو في "حديث سفيان بن عيينة" برواية علي بن حرب الطائي (38).
📖 حوالہ / مصدر: یہ "حدیث سفیان بن عیینہ" بروایت علی بن حرب (38) میں موجود ہے۔
وتابع عليَّ بن حرب والحميديَّ عن سفيان في رفعه جمعٌ، فقد أخرجه البزار (9725) عن محمد بن الوليد القرشي، والطبري في مسند عبد الرحمن بن عوف من "تهذيب الآثار" (749) عن صالح بن مسمار المروزي، وابن خزيمة (2387) عن عبد الجبار بن العلاء، وأبو طاهر المخلص في "المخلصيات" (1268) و (3077) عن محمد بن ميمون المكي، أربعتهم عن سفيان بن عيينة، بهذا الإسناد مرفوعًا. وفي رواية صالح بن مسمار: قال ابن عيينة: أظنه منصورًا عن أبي حازم عن أبي هريرة.
🧩 متابعات و شواہد: علی بن حرب اور حمیدی کی تائید ایک جماعت نے کی ہے جنہوں نے اسے سفیان سے مرفوعاً روایت کیا ہے، جن میں البزار، الطبری، ابن خزیمہ (2387) اور المخلص شامل ہیں۔
وخالفهم غيرهم فرووه عن سفيان وقد شكَّ في رفعه، كما أخرجه سعدان بن نصر في "جزئه" (96) - ومن طريقه أخرجه البيهقي 7/ 13 - 14 - وأخرجه أبو يعلى (6199) عن محمد بن عباد، كلاهما (سعدان ومحمد بن عباد) عن سفيان، عن منصور، عن أبي حازم، عن أبي هريرة. قيل لسفيان: هو عن النبي ﷺ؟ قال: لعله. وفي رواية سعدان: قال سفيان: أظنه عن منصور.
⚠️ سندی اختلاف: سعدان بن نصر اور محمد بن عباد نے اسے سفیان سے روایت کیا لیکن سفیان کو اس کے مرفوع ہونے میں شک تھا، جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ نبی ﷺ سے ہے؟ تو انہوں نے کہا: "شاید"۔
ورواه حصين بن عبد الرحمن السلمي عن أبي حازم الأشجعي، واختلف عليه فيه، فقد أخرجه الطبراني في "الأوسط" (7859)، والقضاعي في "مسند الشهاب" (885) من طريق خالد بن عبد الله الواسطي عنه، عن أبي حازم، عن أبي هريرة مرفوعًا.
⚠️ سندی اختلاف: حصین بن عبدالرحمن نے اسے ابوحازم عن ابی ہریرہ کی سند سے مرفوعاً روایت کیا (طبرانی الاوسط 7859)۔
وخالفه هشيم بن بشير عند الطبري في "تهذيب الآثار" (748)، وأبو يوسف - كما ذكر الجصاص في "أحكام القرآن" 4/ 333 - فروياه عن حصين، عن أبي حازم، عن أبي هريرة موقوفًا.
⚠️ سندی اختلاف: ہشیم بن بشیر اور امام ابو یوسف نے اسے حصین عن ابی ہریرہ سے "موقوف" (صحابی کا قول) روایت کیا ہے۔
وقد أعلّ البزار رواية سفيان بن عيينة عن منصور عن أبي حازم عن أبي هريرة، وقال: الصواب حديث إسرائيل عن منصور عن سالم عن أبي هريرة، وقد تابع إسرائيل على روايته أبو حَصين ¤ ¤ فرواه عن سالم عن أبي هريرة.
🔍 علّت / فنی نکتہ: امام بزار نے سفیان بن عیینہ کی اس سند پر جرح کی ہے اور کہا ہے کہ درست سند اسرائیل عن منصور عن سالم عن ابی ہریرہ ہے۔
قلنا: أما حديث إسرائيل فقد أخرجه البزار (9627)، والدارقطني في "السنن" (1989)، وأما حديث أبي حصين عن سالم - وهو ابن أبي الجعد - فقد أخرجه أحمد 14/ (8908) و 15/ (9061)، وابن ماجه (1839)، والنسائي (2389)، وابن حبان (3290) من طريق أبي بكر بن عياش، عنه مرفوعًا.
📖 حوالہ / مصدر: اسرائیل کی روایت بزار اور دارقطنی میں ہے، جبکہ ابوحصین عن سالم (ابن ابی الجعد) کی روایت احمد (14/ 8908)، ابن ماجہ (1839) اور نسائی (2389) میں ابوبکر بن عیاش کے طریق سے مرفوعاً موجود ہے۔
وانظر "علل الدارقطني" (2209).
📖 حوالہ / مصدر: مزید تفصیل کے لیے "علل دارقطنی" (2209) دیکھیں۔
وفي الباب عن عبد الله بن عمرو بن العاص سيأتي بعد هذا، وعن غير واحد من الصحابة ذكرناها عند حديث عبد الله بن عمرو في "مسند أحمد" 11/ (6530).
🧩 متابعات و شواہد: اس باب میں عبداللہ بن عمرو بن العاص کی روایت بھی ہے جو آگے آئے گی، اور دیگر صحابہ کی روایات ہم نے مسند احمد (11/ 6530) میں ذکر کی ہیں۔