🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. وإن ريح الصوم ريح المسك
اور روزے دار کے منہ کی بو مشک کی خوشبو جیسی ہوتی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1548
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب إملاءً، حدثنا بكَّار بن قُتيبةَ القاضي، حدثنا أبو داود الطَّيالسي، حدثنا أبان بن يزيد العطّار، عن يحيى بن أبي كَثِير، عن زيد بن سلَّام، عن أبي سلَّام، عن الحارث الأشعري: أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إِنَّ الله أَوحى إلى يحيى بن زكريا بخَمسِ كلمات أن يَعملَ بهنَّ ويأمرَ بني إسرائيل أن يعملوا بهنّ، فكأنه أبطأَ بهنَّ، فأتاه عيسى، فقال: إنَّ الله أمرَكَ بخمس كلماتٍ أن تَعمَلَ بهِنَّ وتأمرَ بني إسرائيل أن يعملوا بهنّ، فإما أن تُخبِرَهم، وإما أن أُخبِرَهم، قال: يا أخي لا تفعلْ، فإني أخاف إن سَبَقْتَني بهنَّ أن يُخسَفَ بي وأُعذَّبَ. قال: فجَمَعَ بني إسرائيل ببيت المَقدِس حتى امتَلأَ المسجد، وقَعَدُوا على الشُّرُفات، ثم خَطَبَهم فقال: إنَّ الله أوحى إليَّ بخمس كلماتٍ أن أعمَلَ بهنَّ، وآمرَ بني إسرائيل أن يعملوا بهنَّ: أوّلُهنَّ أن لا تُشرِكوا بالله شيئًا، فإِنَّ مَثَلَ مَن أشرك بالله كمَثَل رجلٍ اشترى عبدًا من خالص ماله بذهبٍ أو وَرِقٍ، ثم أَسْكنَهُ دارًا فقال: اعمَلْ وارفَعْ إليَّ، فجعل يعملُ ويرفعُ إلى غير سيِّدِه، فأيكم يَرضَى أن يكون عبدُه كذلك؟ فإِنَّ الله خلقكم ورَزَقكم، فلا تُشرِكوا به شيئًا. وإذا قمتم إلى الصلاة فلا تَلْتَفِتوا، فإنَّ الله يُقبِلُ بوجهه إلى وجهِ عبدِه ما لم يَلتفِتْ، وآمُرُكم بالصيام، ومَثَلُ ذلك كمَثل رجلٍ في عصابةٍ معه صُرَّة مِسْكٍ، كلهم يحبُّ أن يَجِدَ ريحَها، وإنَّ الصيام أطيبُ عند الله من ريح المِسْك. وآمرُكم بالصدقة، ومَثَلُ ذلك كمَثَل رجلٍ أسَرَه العدوُّ، فأوثَقوا يدَه إلى عُنُقِه، وقرَّبوه ليضربوا عُنُقَه، فجعل يقول: هل لكم أن أَفدِيَ نفسي منكم؟ وجعل يُعطي القليلَ والكثيرَ حتى فَدَى نفسَه. وآمُرُكم بذِكر الله كثيرًا، ومَثَلُ ذِكرِ الله كمَثَلِ رجلٍ طلبه العدوُّ سِرَاعًا في أَثرِه، حتى أتى حِصْنًا حَصِينًا، فأحرَزَ نفسَه فيه، وكذلك العبدُ لا ينجو من الشيطان إلَّا بذِكرِ الله". قال رسول الله ﷺ:"وأنا آمُرُكم بخمسٍ أمَرَني الله بهنَّ: الجماعةِ، والسَّمْعِ، والطاعةِ، والهجرةِ، والجهادِ في سبيل الله، ومَن فارَقَ الجماعة قِيدَ شِبرٍ فقد خلعَ رِبْقةَ الإيمان من عُنُقِه - أو من رأسِه - إلَّا أن يُراجِع، ومن ادَّعى دعوى جاهليةٍ، فهو من جُثَاءِ جهنم" قيل: يا رسول الله، وإن صامَ وصلَّى؟ قال:"وإن صام وصلَّى. تَدَاعَوا بدَعْوَى الله التي سمَّاكم بها: المؤمنينَ المسلمينَ، عبادَ الله" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا حارث اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے یحیی بن زکریا علیہ السلام کی طرف پانچ (5) کلمات وحی کیے تاکہ ان پر عمل کیا جائے اور بنی اسرائیل کو اس پر عمل کرنے کا حکم دے۔ لیکن انہوں نے ان پر عمل کرنے میں سستی کی۔ ان کے پاس سیدنا عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائے اور کہا: اللہ تعالیٰ نے تمہیں پانچ کلمات پر عمل کرنے کا حکم دیا تھا اور بنی اسرائیل کو بھی ان پر عمل کرنے کا حکم دیا۔ اب یا تو آپ ان کو خبر دے دیں یا میں دیتا ہوں۔ سیدنا یحیی علیہ السلام نے جواب دیا: اے بھائی! ایسا مت کرو کیونکہ اگر آپ ان میں مجھ سے سبقت لے گئے تو مجھے خوف ہے کہ مجھے عذاب دیا جائے گا۔ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) نے فرمایا: پھر سیدنا یحیی علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو بیت المقدس میں جمع کیا یہاں تک کہ ساری مسجد بھر گئی اور لوگ میناروں پر چڑھ گئے، پھر انہوں نے بنی اسرائیل کو خطبہ دیا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری طرف پانچ کلمات وحی کیے ہیں تاکہ میں ان پر عمل کروں اور بنی اسرائیل کو ان پر عمل کرنے کا حکم دوں۔ ان میں سے پہلی بات یہ ہے کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ اور جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہے اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے اپنے خالص سونے اور چاندی کے مال سے غلام خریدا: پھر اس کو ایک گھر میں ٹھہرایا اور کہا: تم عمل کر کے میرے قریب آتے رہو لیکن وہ شخص اپنے آقا کو چھوڑ کر کسی اور کے لیے عمل کرے اور اس کے قریب ہوتا رہے۔ تو تم میں سے کون شخص یہ بات پسند کرتا ہے کہ اس کا غلام ایسا ہو؟ اللہ تعالیٰ نے تمہیں پیدا کیا اور تمہیں رزق دیا، اس لیے تم اس کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ۔ اور جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو اِدھر اُدھر متوجہ نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی طرف اس وقت تک متوجہ رہتا ہے، جب تک آدمی خود اپنی توجہ نہ ہٹائے۔ اور اللہ تعالیٰ نے تجھے روزے کا حکم دیا ہے اور اس کی مثال اس جیسی ہے کہ کوئی شخص لوگوں کی ایک جماعت میں ہو، اس کے پاس مشک کی ایک تھیلی ہو اور سب لوگ اس کی خوشبو حاصل کرنے کی آرزو رکھتے ہوں اور روزے کی خوشبو مشک کی خوشبو جیسی ہے۔ اور اس نے تمہیں صدقہ کا حکم دیا ہے اور اس کی مثال ایسے ہے جیسے کہ کسی شخص کو دشمن پکڑ لیں اور اس کے ہاتھ گردن پر باندھ دیں اور بالکل اس کی گردن مارنے ہی لگے ہوں کہ وہ کہنے لگ جائے: کیا تمہارے پاس یہ گنجائش ہے کہ میں تمہیں جان کا کوئی فدیہ دے دوں پھر وہ چھوٹی بڑی سب چیزیں دینا شروع کر دے یہاں تک کہ اس کی جان کا فدیہ ہو جائے۔ اور اللہ نے تمہیں حکم دیا کہ اس کا کثرت سے ذکر کرو۔ اور اللہ کے ذکر کی مثال ایسی ہے جیسا کہ کسی شخص کو اس کا دشمن ڈھونڈتے ہوئے اس کے قدموں کے نشانات پر بہت تیزی سے آ رہا ہو یہاں تک کہ وہ ایک مضبوط قلعے میں پہنچ جائے اور اپنی جان بچائے۔ اسی طرح بندہ اللہ کے ذکر کے ساتھ ہی شیطان سے بچ سکتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور میں بھی تمہیں پانچ (5) چیزوں کا حکم دیتا ہوں جن کا اللہ تعالیٰ نے بھی حکم دیا ہے: (1) جماعت (2) غور سے سننا۔ (3) فرمانبرداری۔ (4) ہجرت۔ (5) جہاد فی سبیل اللہ۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1548]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1548 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. زيد بن سلام: هو ابن أبي سلام ممطور الحبشي، يروي هنا عن جده.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ زید بن سلام اپنے دادا (ممطور الحبشی) سے روایت کر رہے ہیں۔
وأخرجه الترمذي (2864) عن محمد بن بشار، عن أبي داود الطيالسي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (2864) نے محمد بن بشار عن ابی داود الطیالسی کی سند سے اسی واسطے سے روایت کیا ہے۔
وانظر ما سلف برقم (411).
📝 توضیح: گزشتہ حدیث نمبر (411) ملاحظہ فرمائیں۔