🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. مَنْ صَامَ الشَّكَّ فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ -
جس نے شک کے دن روزہ رکھا اس نے ابو القاسم ﷺ کی نافرمانی کی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1560
فأخبرَناه أحمد بن محمد بن سَلَمَة العَنَزي، عن عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن سِمَاك، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنهم شَكُّوا في هلال رمضان، فأرادوا أن لا يَقومُوا ولا يَصومُوا، فجاء أعرابيٌّ من الحَرّةِ فشَهِدَ أنه رأى الهلال، فأمرَ النبيُّ ﷺ بلالًا فنادى في الناس: أن يقوموا ويصوموا (2) . قد احتجَّ البخاريُّ بأحاديث عكرمة، واحتجَّ مسلمٌ بأحاديث سِمَاك بن حرب وحمّاد بن سَلَمة، وهذا الحديث صحيح، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ لوگوں کو رمضان کے چاند کے متعلق شک ہوا اور انہوں نے ارادہ کیا کہ (ثبوت نہ ہونے کی بنا پر) نہ تو قیام کریں گے اور نہ ہی روزہ رکھیں گے، اتنے میں حرہ کے علاقے سے ایک اعرابی آیا اور اس نے گواہی دی کہ اس نے چاند دیکھا ہے، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے لوگوں میں پکار کر اعلان کیا کہ وہ قیام بھی کریں اور روزہ بھی رکھیں۔
امام بخاری نے عکرمہ کی احادیث سے استدلال کیا ہے اور امام مسلم نے سماک بن حرب اور حماد بن سلمہ کی احادیث سے، اور یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1560]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره كسابقه. موسى بن إسماعيل: هو أبو سلمة التَّبوذكي.» [ترقيم الرساله 1560] [ترقيم الشركة 1551]

الحكم على الحديث: حسن لغيره ك

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1560 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حسن لغيره كسابقه. موسى بن إسماعيل: هو أبو سلمة التَّبوذكي.
⚖️ درجۂ حدیث: گزشتہ کی طرح "حسن لغیرہ" ہے۔ 👤 راوی پر جرح: موسیٰ بن اسماعیل سے مراد ابوسلمہ التبوذکی ہیں۔
وأخرجه أبو داود (2341) عن موسى بن إسماعيل، عن حماد بن سلمة، عن سماك بن حرب، عن عكرمة: أنهم شكُّوا .... الحديث، فذكره هكذا مرسلًا. وقال أبو داود: رواه جماعة عن سماك عن عكرمة مرسلًا، لم يذكر القيام أحد إلا حماد بن سلمة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو داود (2341) نے موسیٰ بن اسماعیل عن حماد بن سلمہ عن سماک عن عکرمہ کی سند سے "مرسل" روایت کیا ہے کہ: "لوگوں کو شک ہوا (کہ کل رمضان ہے یا نہیں)..."۔ ابوداود کہتے ہیں کہ ایک جماعت نے سماک سے اسے مرسل ہی روایت کیا ہے اور حماد بن سلمہ کے علاوہ کسی نے بھی اس میں (نبی ﷺ کے ساتھ) کھڑے ہونے کا ذکر نہیں کیا۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 1560 in Urdu