🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. مَنْ صَامَ الشَّكَّ فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ -
جس نے شک کے دن روزہ رکھا اس نے ابو القاسم ﷺ کی نافرمانی کی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1556
أخبرنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثنا أبو بكر بن أبي شَيبةَ، حدثنا أبو خالد الأحمر، عن عمرو بن قيس المُلَائي، عن أبي إسحاق، عن صِلَةَ بن زُفَرَ قال: كنَّا عند عمَّار بن ياسر فأمَرَ بشاةٍ مَصْليَّةٍ، فقال: كُلُوا، فتنحَّى بعضُ القوم فقال: إنِّي صائم، فقال عمّار: مَن صامَ يومَ الشَّكِّ فقد عَصَى أبا القاسم ﷺ (2) .
هذا حديث صحيحٌ على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا صلہ بن زفر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے، انہوں نے ایک بھنی ہوئی بکری منگوائی اور فرمایا: کھاؤ، تو بعض لوگوں نے روزے کا عذر پیش کرتے ہوئے اس کو کھانے سے گریز کیا، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ بولے: جس شخص نے یومِ شک کا روزہ رکھا، اس نے ابوالقاسم (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کی نافرمانی کی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1556]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1557
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو البَخْتَري عبدُ الله بن محمد بن شاكر، حدثنا الحسين بن علي الجُعْفي، حدثنا زائدة، عن سِمَاك بن حَرْب، عن عِكرِمة، عن ابن عباسٍ قال: جاء أعرابيٌّ إلى النبي ﷺ فقال: إِنِّي رأيتُ الهلال - يعني هلالَ رمضان - فقال:"أتشهدُ أن لا إلهَ إِلَّا الله؟" قال: نعم، قال:"أتشهدُ أنَّ محمدًا رسولُ الله؟" قال: نعم، قال:"يا بلالُ، أذِّن في الناس أن يَصُوموا غدًا" (1) . تابعه سفيانُ الثَّوريُّ وحمَّاد بن سَلَمة عن سِمَاك بن حرب. أما حديث الثوري:
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک دیہاتی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر کہنے لگا: میں نے رمضان کا چاند دیکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لا الٰہ اللہ کی گواہی دیتے ہوئے یہ بات کہتے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ محمد اللہ کے رسول ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: لوگوں میں اعلان کر دو کہ وہ کل روزہ رکھیں۔ ٭٭ یہ حدیث سماک بن حرب سے روایت کرنے میں سفیان ثوری اور حماد بن سلمہ نے زائدہ کی متابعت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1557]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1558
فحدَّثَناه عبد الباقي بن قانِع الحافظ، حدثنا الحسن بن علي بن شَبِيب المَعْمَري، حدثنا محمد بن بكَّار العَيْشي (2) ، حدثنا أبو عاصم، عن سفيان، عن سِمَاك، عن عِكْرِمة، عن ابن عباسٍ قال: جاء رجلٌ أعرابيٌّ ليلةَ هلالِ رمضان، فقال: يا رسول الله، إنِّي قد رأيتُ الهلال، فقال:"تشهدُ أن لا إله إلَّا الله، وتشهدُ أنَّ محمدًا رسولُ الله؟" قال: نعم، قال:"فنادِ في الناس أن يَصُوموا" (3) . وهكذا رواه الفضل بن موسى عن سفيان الثوري:
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک دیہاتی رمضان کی چاند رات میں آیا اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے چاند دیکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور یہ گواہی دیتے ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: لوگوں میں یہ منادی کر دو کہ کل روزہ رکھیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1558]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1559
أخبرَناه الحسن بن حَلِيم، أخبرنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرنا الفضل بن موسى، حدثنا سفيان الثَّوري، عن سِمَاك، عن عِكْرِمة، عن ابن عباس قال: جاء أعرابيٌّ ليلةَ هلالِ رمضان، فقال: يا رسولَ الله، قد رأيتُ الهلال، فقال:"أتشهدُ أن لا إله إلَّا الله، وأني رسولُ الله؟" قال: نعم، قال:"فنادِ أن يَصُوموا" (1) . أما حديث حماد بن سَلَمة:
فضل بن موسیٰ، سفیان ثوری رضی اللہ عنہ سے سماک بن حرب کے واسطے سے عکرمہ کی روایت نقل کرتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ایک دیہاتی ماہِ رمضان کی چاند رات میں آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے چاند دیکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور بے شک میں اللہ کا رسول ہوں؟ اس نے کہا: جی ہاں! آپ علیہ السلام نے فرمایا: تو اعلان کر دو کہ لوگ روزہ رکھیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1559]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1560
فأخبرَناه أحمد بن محمد بن سَلَمَة العَنَزي، عن عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن سِمَاك، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنهم شَكُّوا في هلال رمضان، فأرادوا أن لا يَقومُوا ولا يَصومُوا، فجاء أعرابيٌّ من الحَرّةِ فشَهِدَ أنه رأى الهلال، فأمرَ النبيُّ ﷺ بلالًا فنادى في الناس: أن يقوموا ويصوموا (2) . قد احتجَّ البخاريُّ بأحاديث عكرمة، واحتجَّ مسلمٌ بأحاديث سِمَاك بن حرب وحمّاد بن سَلَمة، وهذا الحديث صحيح، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: لوگوں کو ماہِ رمضان کے چاند میں شک ہوا، انہوں نے یہ ارادہ کر لیا کہ وہ نہ تراویح پڑھیں گے اور نہ کل روزہ رکھیں گے۔ پھر حرہ سے ایک دیہاتی آیا اور اس نے گواہی دی کہ اس نے چاند دیکھ لیا ہے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ تراویح پڑھیں اور (کل) روزہ رکھیں۔ ٭٭ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے عکرمہ کی احادیث نقل کی ہیں اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے سحاک بن حرب اور حماد بن سلمہ کی روایات نقل کی ہیں۔ اور یہ حدیث بھی صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کو نقل نہیں کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1560]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1561
أخبرنا أبو بكر أحمد بن كامل بن خَلَف القاضي، حدثنا عبد الملك بن محمد بن عبد الله الرَّقاشي، حدثنا أبو غسان يحيى بن كَثِير العَنْبَري، حدثنا شعبة، عن سِمَاك قال: دخلتُ على عِكرِمةَ في اليوم الذي يُشَكُّ فيه من رمضان وهو يأكل، فقال: ادْنُ فكُلْ، قلت: إنِّي صائم، قال: واللهِ لَتدنُوَنَّ، قلت: فحدِّثْني، قال: حدَّثَني ابن عباسٍ، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لا تَستقبِلوا الشَّهرَ استِقبالًا، صُومُوا لِرُؤيتِهِ، وأفطِرُوا لِرُؤيتِه، فإن حالَ بينَكم وبينَ مَنظَرِه سحابةٌ أو قَتَرةٌ، فأكمِلُوا العِدّةَ ثلاثين" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
سیدنا سماک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں عکرمہ رضی اللہ عنہ کے پاس اُس دن گیا جس دن کے بارے میں شک تھا کہ رمضان شروع ہوا ہے یا نہیں۔ تو سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ کھانا کھا رہے تھے، انہوں نے مجھے کہا: قریب آئیے اور کھانا کھائیے۔ میں نے کہا: میں نے تو روزہ رکھا ہوا ہے۔ عکرمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: خدا کی قسم! تم ضرور قریب آؤ گے (اور کھانا کھاؤ گے) میں نے کہا: (تو پھر مجھے اس بارے میں کوئی) حدیث سنائیے! سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہینے کو (یونہی اپنی مرضی سے) شروع نہ کرو (بلکہ) چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر روزے ختم کرو اور اگر مطلع ابرآلود ہو تو اس (مہینے) کے تیس دن پورے کرو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح ہے لیکن امام بخاری اور امام مسلم نے اس کو ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 1561]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں