المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
14. رُخْصَةُ الْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ
روزہ دار کے لیے پچھنا لگوانے کی رخصت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1583
حدثنا أحمد بن كامل القاضي، حدثنا محمد بن سعد العَوْفي، حدثنا رَوْح بن عُبادةَ. وحدثنا علي بن عيسى، حدثنا أحمد بن النَّضْر بن عبد الوهاب. وحدثنا أبو الوليد الفقيه، حدثنا الحسن بن سفيان. وأخبرني أبو عليٍّ الحافظ، أخبرنا أبو يعلى؛ قالوا: حدثنا أبو خَيثَمة زُهير بن حرب، حدثنا رَوْح بن عُبادةَ، عن سعيد بن أبي عَرُوبةَ، عن مَطَر الورَّاق، عن بكر بن عبد الله المُزَني، عن أبي رافع قال: دخَلْنا على أبي موسى وهو يَحتجِمُ بعد المغرب، فقلت: ألا احتَجَمتَ نهارًا؟ فقال: تأمرُني أن أُهريقَ دمي وأنا صائم؟! سمعت رسول الله ﷺ يقول:"أفطَرَ الحاجمُ والمحجوم" (3)
ابو رافع بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو وہ مغرب کے بعد پچھنے لگوا رہے تھے، میں نے عرض کیا: ”آپ نے یہ کام دن کے وقت کیوں نہ کیا؟“ انہوں نے فرمایا: ”کیا تم مجھے یہ کہتے ہو کہ میں روزے کی حالت میں اپنا خون بہاؤں؟! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: پچھنے لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا۔“
میں نے ابوعلی حافظ کو کہتے سنا کہ میں نے عبدان اہوازی سے پوچھا: کیا یہ بات درست ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے کی حالت میں پچھنے لگوائے؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے عباس عنبری سے سنا کہ علی بن مدینی فرماتے تھے کہ ابوموسیٰ سے مروی ابو رافع کی یہ حدیث صحیح ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پچھنے لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا۔“ یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس باب میں صحابہ کی ایک جماعت سے ایسی معتبر اسانید مروی ہیں جن کی تفصیل یہاں طویل ہو جائے گی۔
میں نے ابوالحسن احمد بن محمد عنزی کو کہتے سنا کہ عثمان بن سعید دارمی فرماتے تھے کہ میرے نزدیک ثوبان اور شداد بن اوس کی حدیث ”پچھنے لگانے والے اور لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ گیا“ صحیح ثابت ہے اور میں اسی کے مطابق فتویٰ دیتا ہوں، اور میں نے امام احمد بن حنبل کو بھی اسی کا قائل پایا کہ ان کے نزدیک بھی ثوبان اور شداد کی روایات صحیح ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1583]
میں نے ابوعلی حافظ کو کہتے سنا کہ میں نے عبدان اہوازی سے پوچھا: کیا یہ بات درست ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے کی حالت میں پچھنے لگوائے؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے عباس عنبری سے سنا کہ علی بن مدینی فرماتے تھے کہ ابوموسیٰ سے مروی ابو رافع کی یہ حدیث صحیح ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پچھنے لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا۔“ یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس باب میں صحابہ کی ایک جماعت سے ایسی معتبر اسانید مروی ہیں جن کی تفصیل یہاں طویل ہو جائے گی۔
میں نے ابوالحسن احمد بن محمد عنزی کو کہتے سنا کہ عثمان بن سعید دارمی فرماتے تھے کہ میرے نزدیک ثوبان اور شداد بن اوس کی حدیث ”پچھنے لگانے والے اور لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ گیا“ صحیح ثابت ہے اور میں اسی کے مطابق فتویٰ دیتا ہوں، اور میں نے امام احمد بن حنبل کو بھی اسی کا قائل پایا کہ ان کے نزدیک بھی ثوبان اور شداد کی روایات صحیح ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1583]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،من أجل مطر بن طهمان الوراق، وأما محمد بن سعد العوفي - وإن لينه بعضهم - فهو متابع، لكن قد اختُلف في رفعه ووقفه كما سيأتي. أبو الوليد الفقيه: اسمه حسان بن محمد، وأبو علي الحافظ: اسمه الحسين بن علي، وأبو يعلى: هو أحمد بن علي بن المثنى الحافظ ...» [ترقيم الرساله 1583] [ترقيم الشركة 1572]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1583 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده حسن من أجل مطر بن طهمان الوراق، وأما محمد بن سعد العوفي - وإن لينه بعضهم - ¤ ¤ فهو متابع، لكن قد اختُلف في رفعه ووقفه كما سيأتي. أبو الوليد الفقيه: اسمه حسان بن محمد، وأبو علي الحافظ: اسمه الحسين بن علي، وأبو يعلى: هو أحمد بن علي بن المثنى الحافظ صاحب "المسند"، وأبو رافع: هو نفيع الصائغ.
⚖️ درجۂ حدیث: مطر الوراق کی وجہ سے سند حسن ہے، محمد بن سعد العوفی کی تائید بھی موجود ہے۔ ⚠️ سندی اختلاف: اس کے مرفوع یا موقوف ہونے میں اختلاف واقع ہوا ہے۔ 👤 راوی پر جرح: ابو الولید الفقیہ (حسان)، ابو علی الحافظ (حسین)، ابو یعلیٰ (احمد بن علی) اور ابو رافع (نفیع الصائغ) اس کے راوی ہیں۔
وأخرجه النسائي (3195) عن الحسن بن إسحاق، عن روح بن عبادة، بهذا الإسناد. وقال النسائي: هذا خطأ، وقد وقفه حفص.
⚠️ سندی اختلاف: امام نسائی (3195) نے اسے روح بن عبادہ کی سند سے روایت کیا اور اسے "خطا" قرار دیا کیونکہ حفص نے اسے "موقوف" روایت کیا ہے۔
ثم أخرجه النسائي (3196) من طريق حفص بن عبد الرحمن البلخي، عن سعيد بن أبي عروبة، به إلى أبي موسى موقوفًا، لم يرفعه.
⚖️ درجۂ حدیث: نسائی نے حفص بن عبدالرحمن عن سعید بن ابی عروبہ کی سند سے اسے ابوموسیٰ ؓ پر "موقوف" (ان کا اپنا قول) روایت کیا ہے، اسے مرفوع نہیں کیا۔
وأخرجه موقوفًا أيضًا (3200) من طريق شعبة، عن قتادة، عن بكر بن عبد الله، به.
📖 حوالہ / مصدر: شعبہ عن قتادہ عن بکر بن عبد اللہ کی سند سے بھی یہ روایت "موقوف" مروی ہے۔
وأخرجه موقوفًا أيضًا (3201) من طريق حميد الطويل، عن بكر بن عبد الله، عن أبي العالية، عن أبي موسى.
📖 حوالہ / مصدر: حمید الطویل عن بکر عن ابی العالیہ عن ابی موسیٰ کی سند سے بھی یہ "موقوف" ہی ہے۔
لكن سأل ابن أبي حاتم أبا زرعة: موقوف أو مرفوع؟ قال: فسكت. كما في "العلل" 3/ 50 (682).
🔍 علّت / فنی نکتہ: ابن ابی حاتم نے جب ابوزُرعہ سے اس کے مرفوع یا موقوف ہونے کے بارے میں پوچھا تو وہ خاموش رہے۔
وأخرجه النسائي (3199) من طريق حفص، عن سعيد بن أبي عروبة، عن أبي مالك، عن ابن بريدة قال: دخلت على أبي موسى وهو يحتجم … فذكره مرفوعًا. قال أبو حاتم كما في "العلل" لابنه: ولا أعرف من البصريين أحدًا كنيته أبو مالك من القدماء، إلّا عبيد الله بن الأخنس.
🧾 تفصیلِ روایت: نسائی نے اسے حفص عن سعید بن ابی عروبہ کی سند سے ابن بریدہ کے واسطے سے مرفوعاً روایت کیا کہ وہ ابوموسیٰ ؓ کے پاس گئے جبکہ وہ پچھنا لگوا رہے تھے۔ 👤 راوی پر جرح: ابو حاتم کے مطابق بصری راویوں میں "ابو مالک" نامی کوئی قدیم راوی سوائے عبید اللہ بن الاخنس کے معروف نہیں۔
وأخرجه مرفوعًا أيضًا النسائي (3197) من طريق عبد الأعلى، و (3198) من طريق سعيد بن عامر، كلاهما عن سعيد بن أبي عروبة، عن بعض أصحابنا - قال سعيد بن عامر: عن صاحب له - عن ابن بريدة عن أبي موسى.
⚠️ سندی اختلاف: عبد الاعلیٰ اور سعید بن عامر نے اسے سعید بن ابی عروبہ عن "بعض اصحابنا" کی سند سے مرفوعاً روایت کیا (یعنی واسطہ مبہم ہے)۔
قال أبو زرعة وأبو حاتم كما في "العلل" 3/ 49 و 50: كأن حديث أبي رافع أشبه.
📌 اہم نکتہ: ابوزُرعہ اور ابو حاتم کے نزدیک ابورافع کی (موقوف) روایت زیادہ درست اور قرینِ قیاس ہے۔
قلنا: وانظر "تنقيح التحقيق" لابن عبد الهاد" 3/ 269 - 271.
📖 حوالہ / مصدر: مزید تفصیل کے لیے ابن عبد الہادی کی "تنقیح التحقیق" (3/ 269-271) ملاحظہ کریں۔
(1) أثر علي بن المديني هذا رواه ابن خزيمة (1964) عن عباس - وهو ابن عبد العظيم - العنبري.
📖 حوالہ / مصدر: علی بن المدینی کا یہ اثر ابن خزیمہ (1964) نے عباس العنبری کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 1583M1
سمعتُ أبا عليٍّ الحافظ يقول: قلتُ لعَبْدان الأهوازيِّ: صحَّ أنَّ النبيَّ ﷺ احتَجَم وهو صائم؟ فقال: سمعتُ عباس العَنْبريَّ يقول: سمعتُ عليَّ بن المَدِيني يقول: قد صحَّ حديثُ أبي رافع عن أبي موسى، أنَّ النبيَّ ﷺ قال:"أفطَرَ الحاجمُ والمحجوم" (1) .
هذا حديث صحيحٌ على شرط الشيخين ولم يُخرجاه. وفي الباب عن جماعة من الصحابة بأسانيد مستقيمة مما يطول شرحُه في هذا الموضع.
هذا حديث صحيحٌ على شرط الشيخين ولم يُخرجاه. وفي الباب عن جماعة من الصحابة بأسانيد مستقيمة مما يطول شرحُه في هذا الموضع.
امام حاکم فرماتے ہیں کہ میں نے ابوعلی حافظ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے عبدان اہوازی سے پوچھا: کیا یہ ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ کی حالت میں پچھنے لگوائے تھے؟ تو انہوں نے کہا: میں نے عباس عنبری سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے علی بن مدینی کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ابورافع کی ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت صحیح ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پچھنے لگانے والے اور لگوانے والے (دونوں) کا روزہ ٹوٹ گیا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس باب میں صحابہ کی ایک جماعت سے ایسی معتبر سندوں کے ساتھ روایات مروی ہیں جن کی تفصیل یہاں طوالت کا باعث ہوگی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1583M1]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس باب میں صحابہ کی ایک جماعت سے ایسی معتبر سندوں کے ساتھ روایات مروی ہیں جن کی تفصیل یہاں طوالت کا باعث ہوگی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1583M1]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 1583M1]
حدیث نمبر: 1583M2
سمعت أبا الحسن أحمد بن محمد العَنَزي يقول: سمعتُ عثمان بنَ سعيد الدارميّ يقول: قد صحَّ عندي حديث"أفطَرَ الحاجم والمحجوم" لحديث ثَوْبانَ وشدّادِ بن أوس، وأقول به، وسمعتُ أحمد بن حنبل يقول به، ويَذكُر أنه صحَّ عنده حديثُ ثوبان وشداد.
امام حاکم فرماتے ہیں کہ میں نے ابوالحسن احمد بن محمد عنزی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے عثمان بن سعید دارمی کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میرے نزدیک ثوبان اور شداد بن اوس رضی اللہ عنہما کی احادیث کی وجہ سے یہ روایت کہ ”پچھنے لگانے والے اور لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ گیا“ صحیح ثابت ہے اور میں اسی کا قائل ہوں، اور میں نے امام احمد بن حنبل کو بھی اسی کا قائل پایا ہے اور وہ ذکر کرتے تھے کہ ان کے نزدیک ثوبان اور شداد کی حدیث صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1583M2]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 1583M2]
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 15832 in Urdu