🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. إجازة الصوم فى السفر
سفر میں روزہ رکھنے کی اجازت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1600
حدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا عَبْدان الأهوازيّ، حدثنا محمد بن أبي صفوان الثَّقَفي، حدثنا عبد الرحمن بن مَهدي، حدثنا سفيان، عن أبي حازم، عن سَهْل بن سعدٍ قال: قال رسول الله ﷺ:"لا تزالُ أُمتي على سُنّتي ما لم تنتظرْ بفِطْرها النُّجومَ"، وكان النبيُّ ﷺ إذا كان صائمًا أمَرَ رجلًا، فأَوفَى على نَشَزٍ، فإذا قال: قد غابتِ الشمسُ، أفطَرَ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما خرَّجا بهذا الإسناد للثَّوري:"لا يزالُ الناس بخير ما عجَّلوا الفطرَ"، فقط (2) .
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت اس وقت تک میری سنت پر قائم رہے گی جب تک روزہ افطار کرنے میں ستاروں کا انتظار نہیں کرے گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب روزہ رکھتے تو (شام کے وقت) ایک شخص صلی اللہ علیہ وسلم کو بلند جگہ پر بٹھا دیتے جب وہ کہتا کہ سورج غروب ہو گیا ہے تو آپ روزہ افطار کر لیتے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سند کے ہمراہ نقل نہیں کیا بلکہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے اس اسناد کے ہمراہ ثوری کے حوالے سے یہ حدیث نقل کی ہے لوگ اس وقت تک بھلائی پر رہیں گے جب تک روزہ افطار کرنے میں جلدی کریں گے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1600]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1600 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح، رجاله ثقات، إلَّا أنَّ ابن خزيمة قال بعد أن أخرجه في "صحيحه" (2061): هكذا حدثنا به ابن أبي صفوان، وأهاب أن يكون الكلام الأخير عن غير سهل بن سعد، لعله من كلام الثوري أو من قول أبي حازم، فأُدرج في الحديث.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے اور تمام راوی ثقہ ہیں۔ 🔍 علّت / فنی نکتہ: امام ابن خزیمہ کہتے ہیں کہ مجھے اندیشہ ہے کہ آخری الفاظ سہل بن سعد ؓ کے بجائے سفیان ثوری یا ابوحازم کے ہوں جو حدیث میں شامل (ادراج) ہو گئے ہیں۔
سفيان: هو الثوري، وأبو حازم: هو سلمة بن دينار.
👤 راوی پر جرح: سفیان سے مراد الثوری ہیں اور ابو حازم سے مراد سلمہ بن دینار ہیں۔
وأخرجه ابن حبان (3510) عن ابن خزيمة، عن محمد بن أبي صفوان، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (3510) نے ابن خزیمہ کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقد روي الحديث بلفظ آخر كما سيشير المصنف إليه بعد هذا الحديث.
🧾 تفصیلِ روایت: یہ حدیث دیگر الفاظ کے ساتھ بھی مروی ہے جس کی طرف مصنف آگے اشارہ کریں گے۔
وانظر حديث أبي هريرة السالف برقم (1589).
📝 توضیح: حضرت ابوہریرہ ؓ کی گزشتہ حدیث نمبر (1589) ملاحظہ فرمائیں۔
والنَّشَز - بفتحتين، وقد تسكن الشين -: المرتفع من الأرض.
📌 اہم نکتہ: "النَّشَز": (نون اور شین کے زبر کے ساتھ) زمین کے ابھرے ہوئے یا بلند حصے کو کہتے ہیں۔
(2) أما مسلم فنعم، وأما البخاري فقد أخرجه من غير طريق الثوري.
📝 توضیح: جہاں تک امام مسلم کا تعلق ہے تو جی ہاں (انہوں نے اسے ثوری کے طریق سے روایت کیا ہے)، لیکن امام بخاری نے اسے ثوری کے علاوہ دوسرے طریقوں سے نقل کیا ہے۔
فقد أخرجه أحمد 37/ (22846)، ومسلم (1098)، والترمذي (699) من طريق عبد الرحمن بن مهدي، عن سفيان، بهذا الإسناد. باللفظ الذي أشار إليه المصنف.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (37/ 22846)، مسلم (1098) اور ترمذی (699) نے عبدالرحمن بن مہدی عن سفیان کی سند سے انہی الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے جن کی طرف مصنف نے اشارہ کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (22827) عن عبد الرزاق، و (22846) عن إسحاق بن يوسف الأزرق، كلاهما عن سفيان الثوري، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے عبدالرزاق (22827) اور اسحاق بن یوسف الازرق (22846) کے واسطے سے سفیان ثوری سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (22804) و (22859) و (22870)، والبخاري (1957)، ومسلم (198)، وابن ماجه (1697)، والترمذي (699)، والنسائي (3298)، وابن حبان (3502) و (3506) من طرق ¤ ¤ ليس فيها سفيان الثوري عن أبي حازم، به.
🧾 تفصیلِ روایت: اسے احمد (22804 وغیرہ)، بخاری (1957)، مسلم (198)، ابن ماجہ (1697)، ترمذی، نسائی اور ابن حبان نے ابوحازم کے مختلف طریقوں سے روایت کیا ہے جن میں سفیان ثوری شامل نہیں ہیں۔