🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. منع صيام أيام التشريق ويوم النحر
ایامِ تشریق اور یومِ نحر کے روزے رکھنے کی ممانعت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1604
أخبرني يوسف بن يعقوب العدل، حدثنا أحمد بن محمد بن نَصْر، حدثنا أحمد بن محمد بن حنبل، حدثنا عبد الأعلى بن عبد الأعلى، حدثنا محمد بن إسحاق، عن حَكِيم بن حَكِيم بن عبَّاد بن حُنَيف، عن مسعود بن الحَكَم الزُّرَقي، عن أمه أنها حدثته قالت: كأني أنظرُ إلى علي بن أبي طالب على بغلة رسولِ الله ﷺ البيضاءِ في شِعْبِ الأنصار، وهو يقول: أيها الناس، إنَّ رسول الله ﷺ قال:"إنَّها ليست أيامَ صيامٍ، إنها أيامُ أكلٍ وشُربٍ وذِكْرٍ" (2)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ صحيح:
سیدنا مسعود بن حکم زرقی رضی اللہ عنہ اپنی والدہ کا بیان نقل کرتے ہیں کہ وہ فرماتی ہیں: میں سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو گویا دیکھ رہی ہوں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خچر پر سوار انصار کے قبیلے میں یہ منادی کر رہے تھے: اے لوگو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: یہ دن روزے کے دن نہیں ہیں بلکہ یہ کھانے پینے اور ذکرِ الٰہی کے دن ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ اور ایک صحیح حدیث اس کی شاہد بھی ہے۔ (جو کہ درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1604]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1604 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) مرفوعه صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل حكيم بن حكيم، ومحمد بن إسحاق ¤ ¤ - وهو ابن يسار - وإن كان قد عنعنه إلَّا أنَّ له شيخًا آخر فيه عن حكيم بن حكيم، وهو عبد الله بن أبي سلمة، وقد صرَّح بالتحديث عنه، كما سيأتي. أم مسعود بن الحكم: اسمها حبيبة بنت شريق، بفتح الشين، الهذلية، ويقال: الأنصارية.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کا مرفوع حصہ "صحیح لغیرہ" ہے، اور یہ سند حکیم بن حکیم کی وجہ سے حسن ہے۔ 🔍 علّت / فنی نکتہ: محمد بن اسحاق اگرچہ عنعنہ کر رہے ہیں لیکن ان کی تائید عبد اللہ بن ابی سلمہ کی روایت سے ہو رہی ہے جس میں انہوں نے سماع کی صراحت کی ہے۔
وأخرجه النسائي (2899) من طريق أحمد بن خالد الوهبي، عن محمد بن إسحاق، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے نسائی (2899) نے احمد بن خالد الوہبی عن محمد بن اسحاق کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 2/ (708)، والنسائي (2900) من طريق إبراهيم بن سعد بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف، عن محمد بن إسحاق قال: حدثني عبد الله بن أبي سلمة، عن مسعود بن الحكم، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (2/ 708) اور نسائی نے ابراہیم بن سعد عن محمد بن اسحاق کی سند سے روایت کیا جس میں انہوں نے عبد اللہ بن ابی سلمہ سے براہِ راست سماع کا ذکر کیا ہے۔
وأخرجه النسائي (2901) من طريق عبدة بن سليمان، عن محمد بن إسحاق قال: حدثني من سمع عبد الله بن أبي سلمة، ولا أراني إلّا سمعته منه يحدث عن مسعود بن الحكم، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے نسائی (2901) نے عبدہ بن سلیمان عن محمد بن اسحاق کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه النسائي (2892) من طريق عمرو بن الحارث، عن بكير بن عبد الله الأشج، عن سليمان بن يسار، عن مسعود بن الحكم، عن أمه قالت: مرَّ بنا راكب ونحن بمنى مع رسول الله ﷺ ينادي في الناس … فذكرته هكذا موقوفًا، وفي آخره: فقالت أختي: هذا علي بن أبي طالب، وقلت أنا: لا بل هو فلان.
⚠️ سندی اختلاف: نسائی (2892) نے عمرو بن الحارث کے طریق سے اسے مسعود بن الحکم کی والدہ کے حوالے سے "موقوف" روایت کیا ہے، جس میں حضرت علی ؓ کے منادی ہونے کا ذکر ہے۔
وتابع عمرو بن الحارث على وقفه مخرمةُ بن بكير، لكنه أخطأ فيه وقال: الحكم الزرقي، بدلًا من مسعود بن الحكم الزرقي، أخرجه النسائي (2891) من طريق مخرمة بن بكير، عن أبيه بكير بن عبد الله الأشج، عن سليمان بن يسار، عن الحكم الزرقي، عن أمه: أنهم كانوا مع رسول الله ﷺ بمنى، فسمعوا راكبًا يصرح يقول، فذكره موقوفًا، ولم يذكر علي بن أبي طالب.
⚠️ سندی اختلاف: مخرمہ بن بکیر نے اس روایت کو موقوفاً بیان کرنے میں تائید کی ہے مگر نام میں غلطی کرتے ہوئے "مسعود" کے بجائے صرف "الحکم الزرقی" کہا ہے۔ اسے نسائی (2891) نے روایت کیا ہے۔
قال النسائي: ما علمت أنَّ أحدًا تابع مخرمة على هذا الحديث على الحكم الزرقي، والصواب: مسعود بن الحكم.
🔍 علّت / فنی نکتہ: امام نسائی فرماتے ہیں کہ مخرمہ کی "حکم زرقی" والی روایت میں کسی نے تائید نہیں کی، صحیح نام "مسعود بن الحکم" ہی ہے۔
وأخرجه أحمد (992)، والنسائي (2898) من طريق يحيى بن سعيد الأنصاري، عن يوسف بن مسعود بن الحكم، عن جدته قالت: بينما نحن بمنى إذا أقبل راكب سمعته ينادي … فذكرته هكذا موقوفًا، وفي آخره: قلت: من هذا؟ قال: علي بن أبي طالب.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (992) اور نسائی نے یحییٰ بن سعید الانصاری عن یوسف بن مسعود کی سند سے موقوفاً روایت کیا، جس کے آخر میں ہے کہ وہ منادی حضرت علی بن ابی طالب ؓ تھے۔
وأخرجه مرفوعًا أحمد (821) من طريق المفضل بن فضالة، وأحمد أيضًا (824)، والنسائي (2902) من طريق الليث بن سعد، كلاهما عن يزيد بن عبد الله بن الهاد، عن عبد الله بن أبي سلمة، عن عمرو بن سليم الزرقي، عن أمه قالت: بينما نحن بمنى إذا علي بن أبي طالب … الحديث.
⚖️ درجۂ حدیث: اسے امام احمد (821، 824) اور نسائی نے مفضل بن فضالہ اور لیث بن سعد کے طریقوں سے "مرفوعاً" روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (567) من طريق سعيد بن سلمة بن أبي الحسام، عن يزيد بن عبد الله بن الهاد، عن عمرو بن سليم، عن أمه قالت: بينما نحن بمنى إذا علي بن أبي طالب … الحديث، لم يذكر ¤ ¤ فيه ابنُ أبي الحسام عبدَ الله بن أبي سلمة، وقد أشار إلى رواية ابن أبي الحسام هذه الدارقطني في "العلل" (467).
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (567) نے سعید بن سلمہ کے طریق سے روایت کیا ہے، دارقطنی نے "العلل" (467) میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔
ثم قال الدارقطني بعد أن أورد هذه الأسانيد كلها وبيّن الخلاف في رفعه ووقفه: ورفعه صحيح وأسانيدها كلها محفوظة.
⚖️ درجۂ حدیث: امام دارقطنی ان تمام سندوں کو بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں: اس کا "مرفوع" ہونا ہی صحیح ہے اور اس کی تمام سندیں محفوظ ہیں۔
وأخرج النسائي (2903) من طريق عبد الرحمن بن عبد الله المسعودي، عن حبيب بن أبي ثابت، عن نافع بن جبير، عن بشير بن سحيم، عن علي بن أبي طالب: أنَّ منادي رسول الله ﷺ خرج في أيام التشريق … فذكر نحوه. كذا رواه عبد الرحمن المسعودي، قال الدارقطني في "العلل" (320): وخالفه أصحاب حبيب، منهم: منصور بن المعتمر، وشعبة، والثوري، وحمزة الزيات، فرووه عن حبيب، عن نافع بن جبير، عن بشر بن سحيم، عن النبي ﷺ، لم يذكروا فيه عليًا، ثم قال: وهو الصواب.
🔍 علّت / فنی نکتہ: نسائی (2903) نے مسعودی عن حبیب کی سند سے اسے حضرت علی ؓ سے روایت کیا ہے، مگر دارقطنی کے مطابق ثقہ راویوں (منصور، شعبہ، ثوری) نے حبیب سے اسے بغیر حضرت علی ؓ کے ذکر کے مرفوع روایت کیا ہے، اور یہی زیادہ صحیح ہے۔
وسيأتي الحديث عن المصنف برقم (3025) من طريق عيسى بن مسعود بن الحكم، عن جدته حبيبة بنت شريق، وفيه أنَّ المنادي الذي جاءهم هو بديل بن ورقاء.
🧾 تفصیلِ روایت: یہ حدیث آگے مصنف کے ہاں (رقم 3025) پر عیسیٰ بن مسعود کی سند سے آئے گی جس میں منادی کا نام "بدیل بن ورقاء" بتایا گیا ہے۔
وبرقم (6795) من طريق مسعود بن الحكم عن عبد الله بن حذافة السهمي.
📖 حوالہ / مصدر: یہ آگے حدیث نمبر (6795) پر مسعود بن الحکم عن عبد اللہ بن حذافہ کی سند سے بھی آئے گی۔
وفي الباب أيضًا عن عقبة بن عامر، سلف برقم (1602)، وأشرنا هناك إلى باقي أحاديث الباب.
🧩 متابعات و شواہد: اس باب میں عقبہ بن عامر ؓ کی حدیث پیچھے (رقم 1602) پر گزر چکی ہے۔