🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. آداب الركوب
سواری کے آداب کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1641
أخبرنا علي بن محمد بن عُقْبة الشَّيباني بالكوفة، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الزُّهري، حدثنا محمد بن عبيد الطَّنافِسي، حدثنا محمد بن إسحاق، عن محمد بن إبراهيم التَّيميّ، عن عمر بن الحكم بن ثَوْبان، عن أَبي لاسٍ الخُزاعي قال: حَمَلَنا رسولُ الله ﷺ على إبلٍ من إبل الصدقة ضِعافٍ للحج، فقلنا: يا رسولَ الله، ما نُرَى أَن تَحْمِلَنا هذه، فقال:"ما من بعيرٍ إلَّا على ذُروتِه شيطان، فاذكروا اسمَ الله إذا رَكِبتُموها كما أمرَكُم، ثم امتَهِنُوها لأنفُسِكم، فإنما يَحمِلُ اللهُ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ صحيح:
سیدنا ابولاس خزاعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حج کے لیے تیار کیے گئے صدقے کے اونٹوں پر سوار ہونے کا فرمایا، ہم نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا واقعی ہم ان پر سوار ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر اونٹ کی کوہان پر شیطان ہوتا ہے، اس لیے جب تم ان پر سوار ہونے لگو تو اللہ کا نام پڑھ لیا کرو جیسا کہ اللہ نے تم کو حکم دیا ہے پھر ان کو اپنے لیے تیار کر لو تو اللہ تمہیں سوار کروا دے گا۔ ٭یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ اور ایک صحیح حدیث اس کی شاہد بھی ہے (جو کہ درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1641]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1641 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق، وقد صرَّح بالتحديث عند أحمد في "المسند"، وصحابيه أبو لاس اختلف في اسمه، فقيل: عبد الله، وقيل: زياد.
⚖️ درجۂ حدیث: محمد بن اسحاق کی وجہ سے سند حسن ہے۔ 👤 راوی پر جرح: صحابی "ابو لاس" کے نام میں اختلاف ہے، بعض نے عبداللہ اور بعض نے زیاد کہا ہے۔
وأخرجه أحمد 29/ (17938) عن محمد بن عبيد الطنافسي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (29/ 17938) نے محمد بن عبید الطنافسی کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أيضًا (17939) من طريق إبراهيم بن سعد الزهري، عن محمد بن إسحاق، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابراہیم بن سعد الزہری عن محمد بن اسحاق کے طریق سے بھی روایت کیا گیا ہے۔
وفي الباب عن حمزة بن عمرو الأسلمي وعن أبي هريرة سيأتيان بعد قليل.
🧩 متابعات و شواہد: اس باب میں حمزہ بن عمرو اور ابوہریرہ ؓ کی روایات آگے آئیں گی۔
وعن عمر بن الخطاب عند ابن السني في "عمل اليوم والليلة" (497).
🧩 متابعات و شواہد: حضرت عمر ؓ کی روایت ابن السنی کے ہاں موجود ہے۔
وعن ابن عمر عند الطبراني في "الأوسط" (6688).
🧩 متابعات و شواہد: حضرت ابن عمر ؓ کی روایت طبرانی (الاوسط 6688) میں ہے۔
وعن عبد الرحمن بن أبي عميرة، أخرجه مسدد كما في "المطالب العالية" 9/ 349.
🧩 متابعات و شواہد: عبدالرحمن بن ابی عمیرہ کی روایت مسدد نے اپنی مسند میں نقل کی ہے۔