🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. لا يحرم بالحج إلا فى أشهر الحج
حج کے لیے صرف حج کے مہینوں ہی میں احرام باندھا جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1659
حدثنا علي بن حَمْشاذ العدل وعلي بن محمد المُستَمْلي في آخرين، قالوا: حدثنا محمد بن إسحاق بن خُزَيمة، حدثنا محمد بن العلاء بن كُرَيب، حدثنا أبو خالد، عن شعبة، عن الحَكَم، عن مِقسَم، عن ابن عباس قال: لا يُحرَمُ بالحجِّ إِلَّا في أشهُر الحجِّ، فإنَّ من سُنَّة الحجِّ أن يُحرمَ بالحجِّ في أشهُر الحج (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد جَرَتْ فيه مناظرةٌ بيني وبين شيخنا أبي محمد السَّبيعي، فإنه أنكره وقال: إنما رواه الناسُ عن أبي خالد عن الحجّاج بن أَرطاة عن الحَكَم، فمِن أين جاء به شيخُكم عن شعبة؟ فقلت: تأمَّل ما تقول، فإنَّ شيخنا أتى بالإسناديَن جميعًا، فكأنما ألقَمْتُه حجرًا (1) .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: حج کا احرام حج کے مہینوں میں ہی باندھا جائے۔ حج کی سنت یہ ہے کہ حج کا احرام حج کے مہینے میں باندھا جائے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اور اس حدیث کے متعلق شیخ ابوسبیعی کے ساتھ میرا مناظرہ بھی ہوا تھا کیونکہ وہ اس کا انکار کرتے ہیں۔ ان کا موقف یہ ہے کہ اس حدیث کو بہت سارے راویوں نے ابوخالد سے حجاج بن ارطاۃ کے واسطے سے حکم سے روایت کیا ہے۔ تو تمہارے استاد نے اس حدیث کو شعبہ کے واسطے سے کیسے روایت کر دیا؟ میں نے کہا: آپ اپنے موقف پر نظرثانی فرمائیں۔ کیونکہ ہمارے استاد نے اس حدیث کو دونوں اسنادوں کے ہمراہ روایت کیا ہے تو (وہ اس طرح خاموش ہو گئے) گویا کہ ان کے منہ میں پتھر ڈال دیا گیا ہو۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1659]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1659 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) خبر صحيح عن ابن عباس، وهذا إسناد قوي إن كان أبو خالد - وهو سليمان بن حيان الأحمر - قد حفظه عن شعبة عن الحكم، وإلَّا فقد رواه أبو كريب محمد بن العلاء نفسه عن أبي خالد الأحمر عن الحجاج بن أرطاة عن الحكم، وتابعه في روايته عن الحجاج عن الحكم غير واحد، قال الإسماعيلي: وهو المحفوظ. الحكم: هو ابن عتيبة، ومقسم: هو مولى ابن عباس.
⚖️ درجۂ حدیث: ابن عباس ؓ سے یہ اثر صحیح ہے۔ اگر ابوعالم (سلیمان بن حیان الاحمر) نے اسے شعبہ سے صحیح حفظ کیا ہو تو سند قوی ہے، ورنہ دیگر راویوں نے اسے حجاج بن ارطاہ کے واسطے سے نقل کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: حجاج والا طریق ہی "محفوظ" (درست) ہے۔
وهو في "صحيح ابن خزيمة" (2596)، وعن ابن خزيمة أخرجه الإسماعيلي في "معجم شيوخه" (89)، ومن طريق الإسماعيلي أخرجه البيهقي في "معرفة السنن والآثار" (9240).
📖 حوالہ / مصدر: یہ "صحیح ابن خزیمہ" (2596) میں ہے اور وہیں سے اسماعیلی اور بیہقی نے اسے روایت کیا ہے۔
قال الإسماعيلي: المحفوظ عن أبي خالد عن الحجاج بن أرطاة.
📌 اہم نکتہ: اسماعیلی کے نزدیک محفوظ روایت ابی خالد عن الحجاج بن ارطاہ ہی ہے۔
وأخرجه البيهقي في "السنن الكبرى" 4/ 343، وفي "الصغرى" (1510)، وفي "فضائل الأوقات" (165) عن أبي عبد الله الحاكم، عن علي بن حمشاذ وحده، بهذا الإسناد. لم يذكر فيه المستملي، وذكر بدلًا منه في "الكبرى": أحمد بن محمد بن جعفر البحيري.
📖 حوالہ / مصدر: بیہقی نے اسے "السنن الکبریٰ" 4/ 343 اور دیگر کتب میں امام حاکم کے طریق سے روایت کیا ہے۔
ورواية أبي خالد عن الحجاج عن الحكم أخرجها ابن خزيمة بإثر الحديث (2596) عن أبي كريب محمد بن العلاء، عن أبي خالد، به.
🧾 تفصیلِ روایت: ابی خالد عن الحجاج کی روایت ابن خزیمہ نے (2596) کے بعد ابوکریب کے طریق سے ذکر کی ہے۔
وتابع أبا خالد على هذه الرواية غير واحد، فقد أخرجه ابن أبي شيبة (14837 - عوامة) عن حفص بن غياث وأحمد بن منيع في "مسنده" كما في "المطالب العالية" لابن حجر (1160) عن أسد بن موسى، والدارقطني (2486) - ومن طريقه البيهقي في "الكبرى" 4/ 343 - من طريق يحيى بن زكريا بن أبي زائدة، ثلاثتهم عن الحجاج، عن الحكم، به.
🧩 متابعات و شواہد: ابی خالد کی تائید میں حفص بن غیاث، اسد بن موسیٰ اور یحییٰ بن زکریا نے بھی اسے حجاج عن الحکم کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرج الدارقطني (2487)، والبيهقي 4/ 343 من طريق حمزة الزيات عن الحكم، عن مقسم، عن ابن عباس في الرجل أحرم بالحج في غير أشهر الحج، قال: ليس ذاك من السنة.
📖 حوالہ / مصدر: دارقطنی (2487) نے حمزہ الزیات عن الحکم کے طریق سے ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا کہ حج کے مہینوں کے علاوہ حج کا احرام باندھنا سنت نہیں ہے۔
وأخرج الطبراني في "الأوسط" (5047) من طريق خصيف بن عبد الرحمن، عن مقسم، عن ابن عباس في قول الله: ﴿الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ﴾ قال: شوال وذو القعدة وعشر ذي الحجة، ولا يفرض الحج إلّا فيهن. ¤ ¤ وأخرج ابن جرير الطبري في "تفسيره" 2/ 257 - 258 من طريق علي بن أبي طلحة، عن ابن عباس قوله: ﴿الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ﴾ وهنَّ شوال وذو القعدة وعشر ذي الحجة، جعلهن الله سبحانه للحج، وسائر الشهور للعمرة، فلا يصلح أن يحرم أحد بالحج إلا في أشهر الحج، والعمرة يحرم بها في كل شهر.
📖 حوالہ / مصدر: طبرانی اور طبری نے ابن عباس ؓ سے آیت ﴿الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ﴾ کی تفسیر میں نقل کیا کہ حج کے مہینے شوال، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ کے دس دن ہیں۔ ان کے علاوہ حج کا احرام درست نہیں، جبکہ عمرہ ہر مہینے میں ہو سکتا ہے۔
وأخرج ابن أبي حاتم في "تفسيره" 1/ 345 من طريق عكرمة مولى ابن عباس، عن ابن عباس: لا ينبغي لأحد أن يحرم بالحج إلّا في أشهر الحج من أجل قول الله: ﴿الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ﴾.
📖 حوالہ / مصدر: ابن ابی حاتم نے عکرمہ کے طریق سے بھی یہی مفہوم نقل کیا ہے۔
وعلَّق البخاري في "صحيحه" في كتاب الحج، باب (33) قول الله تعالى: ﴿الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ﴾ الآية، قبل الحديث (1560) قول ابن عباس: من السنة أن لا يحرم بالحج إلّا في أشهر الحج.
📌 اہم نکتہ: امام بخاری ؒ نے اپنی "صحیح" میں کتاب الحج کے باب 33 میں ابن عباس ؓ کا یہ قول بطور تعلیق ذکر کیا ہے کہ: "سنت یہ ہے کہ حج کا احرام صرف حج کے مہینوں میں ہی باندھا جائے"۔
وروي ذلك عن غير واحد من الصحابة موقوفًا، انظر "المصنف" لابن أبي شيبة.
🧩 متابعات و شواہد: یہی موقف دیگر کئی صحابہ سے بھی موقوفاً مروی ہے (دیکھیے: مصنف ابن ابی شیبہ)۔
(1) يعني بشيخه: محمد بن إسحاق بن خزيمة، وقد بيَّنّا في التخريج أنه أخرجه من طريق أبي خالد وشعبة عن الحكم، ثم أخرجه بإثره من طريق أبي خالد عن الحجاج عن شعبة.
📝 توضیح: مصنف (حاکم) نے اپنے شیخ ابن خزیمہ کا ذکر کیا ہے اور سند کے مختلف طرق کی وضاحت کی ہے۔