🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. لا يمنع أحد عن الطواف بالبيت والصلاة فيه أى ساعة أحب
کسی کو بھی بیت اللہ کا طواف کرنے اور وہاں نماز پڑھنے سے کسی وقت نہ روکا جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1661
حدثني علي بن عيسى، حدثنا مُسدَّد بن قَطَن، حدثنا عثمان بن أبي شَيبة، حدثنا أبو خالدٍ الأحمر، عن ابن جُرَيج، عن عمر بن عطاء، عن عكرمة، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ: لا صَرُورة في الإسلام" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسلام میں صرورۃ (زندگی بھر شادی نہ کرنے اور حج نہ کرنے) کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1661]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1661 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف، عمر بن عطاء - وهو ابن وزَّار، ويقال: وزَّارة - ضعيف، وليس هو ابن أبي الخُوار كما ظنه الطحاوي في "شرح مشكل الآثار" (1282).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔ 👤 راوی پر جرح: عمر بن عطاء بن وزار ضعیف راوی ہیں۔ امام طحاوی کو وہم ہوا کہ یہ ابن ابی الخوار ہیں، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔
أبو خالد الأحمر: هو سليمان بن حيان وابن جريج: هو عبد الملك بن عبد العزيز.
👤 راوی پر جرح: ابوالخالد الاحمر (سلیمان بن حیان) اور ابن جریج (عبدالملک بن عبدالعزیز) اس کے راوی ہیں۔
وأخرجه أبو داود (1729) عن عثمان بن أبي شيبة، بهذا الإسناد. وانظر تمام تخريجه فيه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (1729) نے عثمان بن ابی شیبہ کی سند سے روایت کیا ہے۔
وتابع أبا خالد الأحمر محمدُ بنُ بكر البرساني على هذا الإسناد، وسيأتي عند المصنف برقم (2706).
🧩 متابعات و شواہد: محمد بن بکر البرسانی نے اس سند میں ابوالخالد الاحمر کی تائید کی ہے (رقم 2706)۔
وخالف روح بن عبادة فرواه عن ابن جريج، عن عمر بن عطاء وغيره، عن عكرمة، عن النبي ﷺ مرسلًا، ولفظه: "لا صرورة في الحج". أخرجه أحمد 5/ (3113 م).
⚠️ سندی اختلاف: روح بن عبادہ نے ابن جریج سے اسے "مرسل" روایت کیا ہے (مسند احمد 5/ 3113 م) جس کے الفاظ ہیں: "اسلام میں صرورہ (شادی نہ کرنا یا حج نہ کرنا) نہیں ہے"۔
والصَّرُورة في هذا الحديث: هو التبتل وترك النكاح، كما قال أبو عبيد في "غريب الحديث" 3/ 98، قال: والذي تعرفه العامة من الصرورة أنه إذا لم يحج قط، وقد علمنا أنَّ ذلك يسمى بهذا الاسم، إلّا أنه ليس واحدٌ منهما يدافع الآخر، والأول أحسنهما وأعرفُهما وأعربُهما.
📌 اہم نکتہ: "صرورہ" کا مطلب: ابوعبید کہتے ہیں کہ اس سے مراد نکاح ترک کر کے تجرد کی زندگی گزارنا ہے۔ عام لوگ اس سے مراد وہ شخص لیتے ہیں جس نے کبھی حج نہ کیا ہو، دونوں معنی اپنی جگہ درست ہیں مگر پہلا زیادہ فصیح ہے۔