المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
23. مِنْ تَلْبِيَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ -
رسولُ اللہ ﷺ کے تلبیہ کے الفاظ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1672
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أنبأ ابن وَهْب، أخبرني أسامة بن زيد، أنَّ محمد بن عبد الله بن عمرو بن عثمان وعبدَ الله بنَ أبي لَبِيد، أخبراه عن المطَّلب بن عبد الله بن حَنْطَب قال: سمعت أبا هريرة يقول: قال رسول الله ﷺ:" أمرني جبريلُ برفع الصَّوت بالإهلال، فإنَّه من شعائر الحج" (2) . هذه الأسانيد كلُّها صحيحة، وليس يُعلِّل واحدٌ منها الآخر، فإنَّ السلف ﵃ كان يجتمع عندهم الأسانيد لمتنٍ واحدٍ كما يجتمع عندنا الآن، ولم يخرج الشيخان هذا الحديث.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے جبرائیل علیہ السلام نے تلبیہ پکارتے ہوئے آواز بلند کرنے کا حکم دیا ہے، کیونکہ یہ حج کے شعائر میں سے ہے۔“
یہ تمام اسناد صحیح ہیں اور ان میں سے کوئی ایک بھی دوسری کے لیے باعثِ علت نہیں ہے، کیونکہ سلف صالحین کے پاس ایک ہی متن کے لیے کئی اسناد جمع ہو جاتی تھیں جیسا کہ آج ہمارے پاس جمع ہیں، اور شیخین نے اس حدیث کو روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1672]
یہ تمام اسناد صحیح ہیں اور ان میں سے کوئی ایک بھی دوسری کے لیے باعثِ علت نہیں ہے، کیونکہ سلف صالحین کے پاس ایک ہی متن کے لیے کئی اسناد جمع ہو جاتی تھیں جیسا کہ آج ہمارے پاس جمع ہیں، اور شیخین نے اس حدیث کو روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1672]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، لكن من غير حديث أبي هريرة، أسامة بن زيد - وهو الليثي - عنده مناكير، وقد وهم فيه فجعله من حديث أبي هريرة، والصواب أنه من حديث عبد الله بن أبي لبيد عن المطلب عن خلاد بن السائب عن زيد بن خالد الجهني، كما في الرواية التي قبل ...» [ترقيم الرساله 1672] [ترقيم الشركة 1660]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1672 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، لكن من غير حديث أبي هريرة، أسامة بن زيد - وهو الليثي - عنده مناكير، ¤ ¤ وقد وهم فيه فجعله من حديث أبي هريرة، والصواب أنه من حديث عبد الله بن أبي لبيد عن المطلب عن خلاد بن السائب عن زيد بن خالد الجهني، كما في الرواية التي قبل هذه. ثم إنه لا يصح تصريح المطلب بن عبد الله بسماعه من أبي هريرة، إذ لا يُعرف له سماع منه كما ذكر البخاري في "التاريخ الأوسط" 1/ 292، وذكر أبو حاتم الرازي كما في "المراسيل" (780)، "والعلل" (243) - كلاهما لابنه - أنَّ المطلب بن عبد الله عن أبي هريرة مرسل. وانظر "تحفة التحصيل" ص 307.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث اصلاً صحیح ہے مگر حضرت ابوہریرہ ؓ سے اس کی نسبت وہم ہے۔ 🔍 علّت / فنی نکتہ: اسامہ بن زید اللیثی سے غلطی ہوئی کہ انہوں نے اسے ابوہریرہ ؓ کی حدیث بنا دیا، جبکہ درست سند وہی ہے جو پچھلی روایت میں گزری۔ نیز مطلب بن عبداللہ کا ابوہریرہ ؓ سے سماع ثابت نہیں۔
والحديث أخرجه أحمد 14/ (8314) عن روح بن عباد، عن أسامة بن زيد، عن عبد الله بن أبي لبيد وحده، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (14/ 8314) نے روح بن عبادہ عن اسامہ بن زید کے طریق سے روایت کیا ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 1672 in Urdu