🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. سئل أى العمل أفضل قال " العج والثج "
پوچھا گیا کون سا عمل افضل ہے؟ فرمایا: بلند آواز سے تلبیہ کہنا اور قربانی کا خون بہانا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1673
أخبرنا إسماعيل بن محمد بن الفضل الشَّعراني، حدثنا جَدِّي، حدثنا إبراهيم بن حمزة، حدثني محمد بن إسماعيل بن أبي فُدَيك، أخبرنا الضَّحّاك بن عثمان، عن محمد بن بن المُنكَدِر، عن عبد الرحمن بن يَرْبُوع، عن أبي بكرٍ الصِّدِّيق: أنَّ رسولَ الله ﷺ سُئِل: أيُّ العملِ أفضل؟ قال:"العَجُّ والثَّجُّ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. قال أبو عُبيد: العَجُّ: رفع الصوت بالتلبية، والثّجُ: نحر البُدْن ليثُجَّ الدم من المَنْحَر.
سیدنا ابوبکر صدیق فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا: (حج کے موقع پر) کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عج (بلند آواز سے تلبیہ کہنا) اور ثج (قربانی کے جانوروں کو ذبح کر کے ان کا خون بہانا)۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1673]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1673 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، فإنَّ محمد بن المنكدر لم يسمع من عبد الرحمن بن يربوع، كما قال الترمذي. الفضل جد إسماعيل: هو ابن محمد بن المسيب الشعراني، وإبراهيم ابن حمزة: هو ابن محمد بن حمزة بن مصعب الزبيري.
⚖️ درجۂ حدیث: دیگر شواہد کی بنا پر حسن لغیرہ ہے، مگر یہ سند انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے۔ 🔍 علّت / فنی نکتہ: محمد بن المنکدر نے عبدالرحمن بن یربوع سے نہیں سنا۔
وأخرجه ابن ماجه (2924)، والترمذي (827) من طرق عن ابن أبي فديك بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (2924) اور ترمذی (827) نے ابن ابی فدیک کی اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقال الترمذي: غريب لا نعرفه إلّا من حديث ابن أبي فديك عن الضَّحاك بن عثمان، ومحمد بن المنكدر لم يسمع من عبد الرحمن بن يربوع.
⚠️ سندی اختلاف: امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ روایت صرف ابن ابی فدیک کے واسطے سے پہچانی جاتی ہے اور یہ منقطع ہے۔
وله شاهد بإسناد حسن من حديث عبد الله بن مسعود، أخرجه أبو يوسف القاضي في "الآثار" (459)، وأبو يعلى (5086).
🧩 متابعات و شواہد: اس کا ایک حسن شاہد حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی حدیث ہے جو ابویعلیٰ (5086) میں موجود ہے۔
وآخر من حديث ابن عمر، أخرجه ابن ماجه (2896)، والترمذي (2998)، وفيه إبراهيم بن يزيد الخُوزي، متروك، وبعضهم اتهمه.
🧩 متابعات و شواہد: ابن عمر ؓ سے بھی ایک شاہد مروی ہے مگر اس میں ابراہیم بن یزید "متروک" راوی ہے۔