🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. تلبية ما على الأرض من يمين الملبي وشماله
تلبیہ کہنے والے کے دائیں بائیں زمین کی ہر چیز کا تلبیہ کہنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1675
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثني يعقوب بن إبراهيم بن سعد، حدثنا أبي، عن ابن إسحاق، حدثني خُصَيف بن عبد الرحمن الجَزَري، عن سعيد بن جُبير قال: قلتُ لعبد الله بن عباس: يا أبا العباس عَجِبتُ لاختلاف أصحاب رسول الله ﷺ في إهلالِ رسولِ الله ﷺ حين أَوجَبَ، فقال: إنِّي لأعلمُ الناسِ بذلك، إِنَّهَا إِنَّما كانت من رسول الله ﷺ حَجةٌ واحدة، فمن هناك اختَلَفوا، خرج رسولُ الله ﷺ حاجًّا، فلمّا صلَّى في مسجده بذي الحُلَيفة ركعتيه أوجَبَه في مَجلِسه، فأهلَّ بالحجِّ حين فَرَغَ من ركعتيه، فسمع ذلك منه أقوامٌ فحَفِظَه (2) عنه، ثم ركب، فلمّا استَقلَّت به ناقتُه أهلَّ، وأدرَكَ ذلك منه أقوامٌ، وذلك أنَّ الناس كانوا يأتون أرسالًا، فسَمِعوه حين استقلَّت به ناقتُه يُهِلُّ، فقالوا: إنما أهلَّ رسول الله ﷺ حين استقلَّت به ناقتُه، ثم مَضَى رسولُ الله ﷺ، فلما عَلَا على شَرَفِ البَيْداء أهلَّ، وأدرَكَ ذلك منه أقوامٌ، فقالوا: إنما أهلَّ حين عَلَا على شَرَفِ البيداء، وايمُ الله، لقد أوجَبَ في مُصلّاه، وأهلَّ حين استقلَّت به ناقتُه وأهلَّ حين عَلَا شَرَفَ البَيْداء. قال سعيد بن جُبير: فمَن أخذ بقول ابن عباس، أهلَّ في مُصلّاه إِذا فَرَغَ من ركعتيه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم مفسَّر في الباب، ولم يخُرجاه. حدثنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ إملاءً في جُمادى الآخرة سنة سَتِّ وتسعين وثلاث مئة:
سیدنا سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: اے ابن عباس رضی اللہ عنہما! مجھے بڑی حیرانگی ہوتی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تسبیح پڑھنے میں صحابہ کرم رضی اللہ عنہم کا اختلاف ہے، انہوں نے جواب دیا: اس سلسلہ میں میرے پاس سب سے زیادہ معلومات ہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی حج میں یہ عمل کیا ہے، اس لیے صحابہ رضی اللہ عنہم کا آپس میں اختلاف ہو گیا (اصل واقعہ میں آپ کو بتاتا ہوں) رسول اللہ حج کے کرنے کیلئے روانہ ہوئے، آپ نے ذوالحلیفہ کے اندر مسجد میں جب دو رکعتیں پڑھ لیں تو اسی مسجد میں احرام کا ایجاب کیا اور جب دو رکعتیں پڑھ کے فارغ ہوئے تو حج کے لیے تسبیح پڑھی۔ کچھ لوگوں نے اس وقت کی تسبیح سنی اور اسی کو یاد کر لیا پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹنی پر سوار ہوئے اور اونٹنی (روانہ ہونے کے لیے اٹھ کر مکمل طور پر) کھڑی ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر تسبیح پڑھی، کچھ لوگوں نے اس وقت آپ کی تسبیح سنی، بات دراصل یہ تھی کہ لوگ گروہ در گروہ آتے تھے اور جب آپ کی اونٹنی اٹھتی تو وہ آپ کو تسبیح پڑھتے سنتے تھے تو انہوں نے یہ سمجھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تسبیح پڑھی ہے، جب آپ کی اونٹنی کھڑی ہوئی پھر آپ چلتے رہے اور جب آپ مقام بیداء کی اونچائی میں پہنچے تو اس وقت بھی تسبیح پڑھی کچھ لوگوں نے اس وقت تسبیح سنی، تو انہوں نے یہ کہہ دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت (فلاں) تسبیح کہی ہے۔ اور خدا کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں پر نماز پڑھی تھی وہیں پر احرام کا ایجاب کیا اور جب آپ کی اونٹنی مقام بیداء میں (روانگی کے لیے اُٹھ کر مکمل طور پر) کھڑی ہوئی تو اس وقت آپ نے تسبیح کہی۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں: جو لوگ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول پر عمل کرتے ہیں وہ جب دو رکعتیں پڑھ کر فارغ ہوتے ہیں، تب تسبیح کہتے ہیں۔ ٭٭ اس باب میں یہ حدیث تفصیلی حدیث ہے جو کہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار پر صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1675]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1675 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) كذا في نسخنا الخطية، أما في "مسند أحمد": فحفظوا، وفي "سنن أبي داود" و"سنن البيهقي": فحفظته.
📝 توضیح: ہمارے نسخوں میں "حفظوا" ہے جبکہ احمد و ابوداؤد میں "فحفظته" (میں نے اسے یاد رکھا) کے الفاظ ہیں۔
(1) حسن لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين، ابن إسحاق - وهو محمد - صرَّح بالتحديث، وخصيف بن عبد الرحمن الجزري - وإن كان في حفظه شيء - مختلف فيه، وحديثه يصلح للمتابعات، وباقي رجاله ثقات. وهو في "مسند أحمد" 4/ (2358).
⚖️ درجۂ حدیث: دیگر شواہد کی بنا پر حسن لغیرہ ہے۔ ابن اسحاق نے سماع کی صراحت کی ہے اور خصیف بن عبدالرحمن متابعات میں معتبر ہیں۔ 📖 یہ مسند احمد 4/ (2358) میں موجود ہے۔
وأخرجه أبو داود (1770) عن يعقوب بن إبراهيم بن سعد الزهري، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو داود (1770) نے یعقوب بن ابراہیم الزہری کی سند سے روایت کیا ہے۔
وانظر ما سلف برقم (1655).
📝 توضیح: گزشتہ حدیث نمبر (1655) ملاحظہ فرمائیں۔