🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
49. منى مناخ من سبق
مِنیٰ جس نے پہلے جگہ لی وہی اس کا حق دار ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1732
أخبرنا علي بن محمد بن عُقْبة الشَّيباني بالكوفة، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الزُّهري، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن إبراهيم بن مُهاجِر، عن يوسف بن ماهَكَ، عن أمه مُسَيكة، عن عائشةَ قالت: قيل: يا رسولَ الله، ألا نَبْني لك بمِنًى بناءً يُظِلُّك؟ قال:"لا، مِنًى مُناخُ مَن سَبَق" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
اُمّ المؤمنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: کیا ہم آپ کے لیے منٰی میں کوئی عمارت نہ بنا دیں؟ جس سے آپ کو سایہ ملتا رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (نہیں، کیونکہ) منٰی میں (قیام کا حق) پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1732]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1732 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف، إبراهيم بن مهاجر ضعيف يعتبر به في المتابعات، ولم يتابع، ومسيكة تفرَّد بالرواية عنها ابنها يوسف ولم يؤثر توثيقها عن أحد، فهي مجهولة الحال. عبيد الله بن موسى: هو ابن أبي المختار، وإسرائيل: هو ابن يونس بن أبي إسحاق السبيعي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف" ہے۔ ابراہیم بن مہاجر ضعیف ہے اور اس کی متابعت نہیں ملی؛ جبکہ مسیکہ نامی خاتون "مجہولہ" (نامعلوم حال) ہے، ان سے صرف ان کے بیٹے یوسف نے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 42/ (25541) و (25718)، وأبو داود (2019)، وابن ماجه (3006) و (3007)، والترمذي (8801) من طرق عن إسرائيل، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن غريب.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، ابوداؤد (2019)، ابن ماجہ اور ترمذی (8801) نے اسرائیل کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے اسے "حسن غریب" کہا ہے۔