المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
54. من كسر أو عرج فقد حل وعليه الحج فى قابل
جو ٹوٹ جانے یا لنگڑا ہونے کی وجہ سے (احرام سے) کھل جائے، اس پر آئندہ سال حج لازم ہے۔
حدیث نمبر: 1743
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا مروان بن معاوية الفَزَاري، حدثنا الحجّاج بن أبي عثمان الصوّاف، عن يحيى بن أبي كثير، عن عِكرِمةَ قال: حدّثني الحجّاج بنُ عمرو الأنصاريُّ قال: قال رسولُ الله ﷺ:"مَن كُسِرَ أو عَرَجَ فقد حَلَّ، وعليه الحجُّ من قابلٍ". قال عكرمة: فسألتُ أبا هريرةَ وابنَ عباسٍ، فقالا: صَدَق (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
سیدنا حجاج بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس کے پاؤں پر چوٹ لگ گئی یا قدرتی طور پر وہ لنگڑا ہو گیا، وہ حلالی ہو گیا اور اس پر اگلے سال کا حج فرض ہے، عکرمہ فرماتے ہیں: میں نے یہ بات سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھی، تو انہوں نے بھی اس کی تصدیق کی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1743]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1743 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. أبو بكر بن إسحاق اسمه: أحمد، ويحيى بن يحيى: هو النيسابوري. ¤ ¤ وأخرجه أحمد 24/ (15731)، وأبو داود (1862)، وابن ماجه (3077)، والترمذي (940)، والنسائي (3829) و (3830) من طرق عن حجاج الصواف، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: ابوبکر بن اسحاق کا نام احمد ہے اور یحییٰ بن یحییٰ سے مراد نیشاپوری ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، ابوداؤد (1862)، ابن ماجہ (3077)، ترمذی (940) اور نسائی (3829) نے حجاج الصواف کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے اسے "حسن" کہا ہے۔
وسيأتي برقم (1795) من طريق عبد الوارث بن سعيد، عن الحجاج الصواف، به، وبرقم (1796) من طريق عبد الرزاق عن معمر، عن يحيى بن أبي كثير، عن عكرمة، عن عبد الله بن رافع، عن الحجاج بن عمرو الأنصاري، فزاد معمر - وتابعه معاوية بن سلام - بين عكرمة والحجاج بن عمرو: عبدَ الله بن رافع، ورجح البخاري رواية معمر ومعاوية بن سلام، فيما نقله عنه الترمذي في "الجامع" وفي "العلل الكبير" (238)، ثم تعقبه الترمذي بقوله: وحجاج الصواف ثقة حافظ عند أهل الحديث. ونقل البيهقي 5/ 220 عن علي بن المديني قوله: الحجاج الصواف عن يحيى بن أبي كثير أثبت. وقال الإمام أحمد كما في "مسائله - رواية أبي داود السجستاني" (1882): ما أدري ما مخرجه، وبعضهم يقول: عن عبد الله بن رافع. قلنا: لا يمنع أن يكون عكرمة رواه أولًا عن الحجاج بن عمرو بواسطة عبد الله بن رافع، ثم لقي الحجاج فسمعه منه بلا واسطة، فيكون حينئذ من المزيد في متصل الأسانيد، والله تعالى أعلم.
🔍 علّت / فنی نکتہ: اسے حجاج الصواف کے واسطے سے نقل کیا گیا ہے، جبکہ معمر اور معاوية بن سلام نے عکرمہ اور حجاج بن عمرو کے درمیان 'عبد اللہ بن رافع' کا اضافہ کیا ہے۔ امام بخاری نے اسی اضافے والی روایت کو ترجیح دی ہے۔ 📌 اہم نکتہ / خلاصہ: (محقق کہتے ہیں کہ) ممکن ہے عکرمہ نے پہلے اسے واسطے سے سنا ہو اور پھر خود صحابی (حجاج بن عمرو) سے براہِ راست سن لیا ہو، ایسی صورت میں یہ "مزید فی متصل الاسانید" کی قسم ہوگی اور سند متصل ہی رہے گی۔
قوله: "أو عَرَج" قال ابن الأثير في "النهاية": يقال: عَرَجَ يَعرُجُ عَرَجانًا: إذا غمز من شيء أصابه، وعَرِجَ يَعرَجُ عَرَجًا: إذا صار أعرَجَ أو كان خِلقةً فيه.
📝 توضیح: قول "أو عَرَج" کے بارے میں ابن الاثیر کہتے ہیں: اگر 'عَرَجَ' (زبر کے ساتھ) ہو تو اس کا مطلب ہے کسی چوٹ کی وجہ سے لنگڑانا، اور اگر 'عَرِجَ' (زیر کے ساتھ) ہو تو اس کا مطلب ہے پیدائشی لنگڑا ہونا۔