المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
59. الشرب من زمزم وآدابه
زمزم کا پانی پینے اور اس کے آداب کا بیان۔
حدیث نمبر: 1756
أخبرنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حدثنا أحمد بن يحيى، حدثنا محمد بن الصبَّاح، حدثنا إسماعيل بن زكريا، عن عثمان بن الأسوَد، قال: جاء رجلٌ إلى ابن عباسٍ، فقال له: من أين جئتَ؟ فقال: شربتُ من زمزم، فقال له ابن عباس: أشربتَ منها كما ينبغي؟ قال: وكيف ذاك يا أبا عباس؟ قال: إذا شربتَ منها فاستقبِلِ القِبلةَ، واذكُر اسمَ الله، وتنفَّسْ ثلاثًا، وتضلَّعْ منها، وإذا فرغتَ فاحمَدِ الله، فإنَّ رسولَ الله ﷺ قال:"آيةٌ بينَنا وبينَ المنافقين أنَّهم لا يَتضلَّعون من زمزمَ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، إن كان عثمان بن الأَسوَد سَمِع من ابن عباس (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، إن كان عثمان بن الأَسوَد سَمِع من ابن عباس (2) .
سیدنا عثمان بن اسود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک شخص ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا۔ آپ نے اس سے پوچھا: تم کہاں سے آئے ہو؟ اس نے جواب دیا: میں آبِ زم زم پی کر آیا ہوں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے کہا: کیا تم نے اس کے آداب کا لحاظ رکھتے ہوئے پیا ہے؟ اس نے کہا: اس کے آداب کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: جب آبِ زم زم پینے لگو تو قبلہ رو ہو جاؤ، بسم اللہ پڑھو، تین سانسوں میں پیئو اور سیر ہو کر پیئو، جب فارغ ہو جاؤ تو الحمدللّٰہ پڑھو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ہمارے اور منافقوں کے مابین فرق قرار دیا ہے۔ کیونکہ منافقین زم زم کا پانی سیر ہو کر نہیں پیتے ہیں۔ ٭٭ اگر عثمان بن الاسود نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ حدیث سنی ہے تو یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1756]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1756 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث ضعيف، وهذا إسناد سقط منه الواسطة بين عثمان بن الأسود وابن عباس في رواية "المستدرك" هذه، وهو ابن أبي مليكة، فقد أثبته البيهقي في "السنن الكبرى" 5/ 147 حيث رواه عن الحاكم نفسه بإسناده ومتنه. وقد اضطرب الرواة عن عثمان بن الأسود في تسمية ابن أبي مليكة، فسماه بعضهم: عبد الله بن أبي مليكة، وسماه بعضهم: عبد الرحمن بن أبي مليكة، وقال بعضهم: ابن أبي مليكة، ولم يسمّه البعض فقال: جليس لابن عباس، وخالف آخرون فقالوا في الراوي عن ابن عباس: محمد بن عبد الرحمن بن أبي بكر.
⚖️ حدیث ضعیف: "المستدرک" کی اس روایت میں عثمان بن الاسود اور ابن عباسؓ کے درمیان سے واسطہ ساقط (حذف) ہے، جو کہ ابن ابی ملیکہ ہیں۔ بیہقی نے اسے امام حاکم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے اور اس میں ابن ابی ملیکہ کو ثابت کیا ہے۔ 🔍 علّت / فنی نکتہ: عثمان بن الاسود کے شاگردوں نے ابن ابی ملیکہ کے نام میں اضطراب پیدا کیا ہے؛ کسی نے عبداللہ، کسی نے عبدالرحمن، کسی نے صرف ابن ابی ملیکہ اور کسی نے "ابن عباس کا ہم نشین" کہا ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (3061) من طريق عبيد الله بن موسى، عن عثمان بن الأسود، عن محمد بن عبد الرحمن بن أبي بكر قال: كنت عند ابن عباس جالسًا، فجاءه رجل … فذكره. ومحمد بن عبد الرحمن بن أبي بكر هذا هو الجمحي، روى عنه اثنان ولم يوثقه أحد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (3061) نے عبید اللہ بن موسیٰ کے طریق سے محمد بن عبدالرحمن بن ابی بکر (الجمحی) سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: اس راوی (محمد بن عبدالرحمن) سے صرف دو لوگوں نے روایت کی ہے اور کسی نے اسے ثقہ قرار نہیں دیا۔
(2) تعقبه الذهبي في "تلخيصه" بقوله: لا والله ما لحقه، توفي عام خمسين ومئة، وأكبر مشيخته سعيد بن جبير.
🔍 فنی نکتہ: امام ذہبی نے "تلخیص" میں حاکم کے قول پر تعاقب کرتے ہوئے کہا: "اللہ کی قسم! اس نے اسے نہیں پایا (یعنی ملاقات نہیں ہوئی)، وہ 150ھ میں فوت ہوا اور اس کے سب سے بڑے استاد سعید بن جبیر ہیں"۔