🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
65. يرفع ما يقبل من أحجار الرمي
رمی کی کنکریوں میں سے جو قبول ہوتی ہیں وہ اٹھا لی جاتی ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1771
أخبرني يحيى بن منصور القاضي، حدثنا أبو عمرو أحمد بن المبارك المُستَمْلي، حدثنا سعيد بن يحيى بن سعيد الأُمَوي، حدثنا أبي، حدثنا يزيد بن سِنَان [عن زَيد بن أبي أُنَيسة] (2) عن عمرو بن مُرَّة، عن عبد الرحمن بن أبي سعيد الخُدْري، عن أبيه أبي سعيدٍ قال: قلنا: يا رسولَ الله، هذه الأحجارُ التي نَرمِي بها تُحمَلُ فنَحسِبُ أنها تَنقَعِرُ، قال:"إنَّه ما تُقُبِّلَ منها يُرفَع، ولولا ذلك لرأيتَها مثلَ الجبال" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، ويزيد بن سنان ليس بالمتروك.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کنکریاں جو ہم مارتے ہیں (یہ تو بہت زیادہ ہوتی ہیں لیکن جمرات کے پاس اُتنی مقدار میں کنکریاں موجود نہیں ہوتیں بلکہ) ہمارا خیال ہے کہ یہ کم ہوتی ہیں، یہ کہاں جاتی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی کنکریاں قبول ہو جاتی ہیں وہ اٹھا لی جاتی ہیں اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ کنکریاں پہاڑوں کے برابر ہو جاتیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا اور یزید بن سنان متروک راوی نہیں ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1771]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1771 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) ما بين معقوفين سقط من نسخ "المستدرك"، والمحفوظ أنَّ هذا الحديث من رواية يزيد بن سنان، عن زيد بن أبي أنيسة، عن عمرو بن مرة، هكذا رواه البيهقي في "السنن الكبرى" 5/ 128 عن الحاكم نفسه بهذا الإسناد، وهو ثابت في رواية سعيد بن يحيى الأموي كما في مصادر التخريج، والله أعلم.
🔍 فنی نکتہ: بریکٹ [ ] والی عبارت "المستدرک" کے نسخوں سے گر گئی ہے، بیہقی نے امام حاکم سے اسے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے جس میں یزید بن سنان عن زید بن ابی انیسہ عن عمرو بن مرہ کا ذکر ثابت ہے۔
(1) الصحيح موقوفًا، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن سنان، وهو أبو فروة الرهاوي، وبه أعلّه الذهبي في "تلخيصه".
⚖️ درجۂ حدیث: صحیح بات یہ ہے کہ یہ "موقوف" (صحابی کا قول) ہے۔ یزید بن سنان (ابو فروہ الرہاوی) کے ضعف کی وجہ سے یہ سند "ضعیف" ہے، اور امام ذہبی نے بھی یہی علت بیان کی ہے۔
وأخرجه الطبراني في "الأوسط" (1750) عن أحمد بن محمد بن أبي موسى الأنطاكي، والدارقطني (2789) عن الحسين بن إسماعيل، كلاهما عن سعيد بن يحيى بن سعيد الأموي، بهذا الإسناد. ووقع عندهما ذكر زيد بن أبي أنيسة بين سعيد وعمرو.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی اور دارقطنی نے سعید بن یحییٰ الاموی کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، اور ان کے ہاں سعید اور عمرو کے درمیان زید بن ابی انیسہ کا ذکر موجود ہے۔
وأخرج ابن أبي شيبة 4/ 32، والأزرقي في "أخبار مكة" 2/ 177، والبيهقي 5/ 128 من طريق سفيان بن عيينة، عن سليمان بن المغيرة، عن عبد الرحمن بن أبي نُعم، عن أبي سعيد الخدري قال: ما تُقُبِّل من حصى الجمار رُفع. هكذا موقوفًا، وهذا إسناد صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: ابن ابی شیبہ (4/32) اور بیہقی نے سفیان بن عیینہ کے طریق سے ابوسعید خدریؓ کا یہ قول روایت کیا ہے کہ "جو کنکریاں قبول ہو جاتی ہیں وہ اٹھا لی جاتی ہیں"۔ یہ سند "صحیح" ہے۔
وفي الباب عن ابن عباس موقوفًا عند ابن أبي شيبة 4/ 32، والأزرقي 2/ 177، والبيهقي 5/ 128.
🧩 متابعات و شواہد: اسی طرح کا قول حضرت ابن عباسؓ سے بھی موقوفاً مروی ہے (دیکھیں ابن ابی شیبہ 4/32)۔
وعن سعيد بن جبير موقوفًا أيضًا عند الأزرقي 2/ 177.
🧩 متابعات و شواہد: حضرت سعید بن جبیر سے بھی یہ قول موقوفاً مروی ہے۔
وعن عبد الله بن عمر موقوفًا عند الأزرقي 2/ 177، والفاكهي في "أخبار مكة" (2659).
🧩 متابعات و شواہد: حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے بھی ازرقی اور فاکہی نے اسے موقوفاً روایت کیا ہے۔
وأخرج حديث ابن عمر أبو نعيم في "دلائل النبوة" مرفوعًا، كما في "نصب الراية" للزيلعي 3/ 79، وضعَّفه البيهقي في "السنن الكبرى" 5/ 128.
📖 حوالہ / مصدر: ابو نعیم نے ابن عمرؓ کی حدیث کو "مرفوع" ذکر کیا ہے، مگر امام بیہقی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔