🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
75. عمرة فى رمضان تعدل حجة
رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1794
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزوق، حدثنا وهب بن جَرير، حدثنا شعبة. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن إبراهيم بن مُهاجر، عن أبي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام، قال: أَرسَل مروانُ إلى أم مَعْقِل يسألها عن هذا الحديث، فحدَّثَتْ أنَّ زوجها جعل بَكْرًا في سبيل الله، وأنها أرادت العُمرةَ فسألتْ زوجَها البَكْرَ، فأَبى عليها، فأتت رسولَ الله ﷺ فذَكَرَت ذلك له، فأمره النبيُّ ﷺ أن يُعطيَها، وقال:"إنَّ الحج والعُمرة لَمِنْ سبيل الله، وإِنَّ عُمرةً في رمضان تَعدِلُ حَجَّةً" أو"تُجزِئُ بحَجَّةٍ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مروان نے ان کو اُمّ معقل کی طرف بھیجا کہ ان سے اس حدیث سے متعلق دریافت کروں، میں نے ان سے جا کر پوچھا تو انہوں نے بتایا: ان کے شوہر نے راہ خدا میں سفر پر جانے کے لیے اونٹ تیار کیا جبکہ ان (ام معقل) کا ارادہ عمرہ کرنے کا تھا، تو انہوں نے اپنے شوہر سے اونٹ مانگا لیکن اس نے انکار کر دیا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور یہ معاملہ آپ کے سامنے رکھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے شوہر کو حکم دیا کہ وہ اپنی بیوی کو اونٹ دے دے اور فرمایا: حج و عمرہ بھی راہِ خدا سے تعلق رکھتے اور رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ثواب رکھتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1794]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1794 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لضعف إبراهيم بن مهاجر، ولم يتابع على هذا السياق، وقد اختلف عليه في هذا الإسناد، ورواه غيره واختلف فيه اختلافًا كبيرًا، فضعف بسبب اضطرابه، وقد فصلنا القول في ذلك في تعليقنا على "مسند أحمد" 45/ (27106)، وانظر "علل الدارقطني" (3179).
⚖️ درجۂ حدیث: ابراہیم بن مہاجر کے ضعف کی وجہ سے یہ سند "ضعیف" ہے، اور اس سیاق کے ساتھ ان کی متابعت بھی نہیں ملی۔ اس سند میں ان پر شدید اختلاف ہوا ہے اور ان کے اضطراب کی تفصیل ہم نے "مسند احمد" (45/27106) کے حاشیہ میں دی ہے۔
وهو في "مسند أحمد" (27286)، وقرن هناك بمحمد بن جعفرٍ الحجاجَ بن محمد المصيصي الأعور.
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت "مسند احمد" (27286) میں موجود ہے، اور وہاں محمد بن جعفر کے ساتھ حجاج بن محمد المصیصی کا بھی ذکر ہے۔
وأخرجه أحمد (27107)، وأبو داود (1988) من طريق أبي عوانة، عن إبراهيم بن مهاجر، عن أبي بكر بن عبد الرحمن، أخبرني رسول مروان الذي أرسل إلى أم معقل قال: قالت … فذكره.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد اور ابوداؤد (1988) نے ابوعوانہ عن ابراہیم بن مہاجر کے طریق سے روایت کیا ہے کہ مروان کے قاصد نے ام معقلؓ سے پوچھا تو انہوں نے یہ واقعہ بیان کیا۔
وأخرجه أحمد (27287) من طريق محمد بن أبي إسماعيل، عن إبراهيم بن مهاجر، عن أبي بكر بن عبد الله، عن معقل بن أم معقل: أنَّ أمه أتت رسول الله ﷺ فقالت … فذكر معناه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (27287) نے معقل بن ام معقل کے واسطے سے روایت کیا ہے کہ ان کی والدہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں... (مطلب یہی تھا)۔