🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
78. فضيلة العمرة فى رمضان
رمضان میں عمرہ کرنے کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1800
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني ابن أبي الزِّناد، عن عَلْقَمة بن أبي عَلْقَمة، عن أمِّه، عن عائشة: أنَّ رسول الله ﷺ أمَرَ الناسَ عامَ حجَّةِ الوداع، فقال:"مَن أحبَّ أن يَرجِعَ بعُمرةٍ قبل الحجِّ فلْيَفعَلْ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
اُمّ المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے سال لوگوں کو حکم دیا: اور فرمایا: جو شخص حج سے پہلے صرف عمرہ کر کے لوٹنا چاہے اس کو اجازت ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1800]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1800 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين، أم علقمة بن أبي علقمة - واسمها مرجانة. ¤ ¤ وإن لم يرو عنها غير اثنين، فهي تابعية وقد وثقها ابن حبان والعجلي، وقد توبعت على معنى الحديث. الربيع بن سليمان: هو المرادي صاحب الشافعي، وابن أبي الزناد: هو عبد الرحمن بن عبد الله بن ذكوان.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے اور یہ سند "حسن" کے درجے کی ہے۔ علقمہ کی والدہ مرجانہ اگرچہ زیادہ مشہور نہیں مگر وہ تابعیہ ہیں اور ابن حبان و عجلی نے انہیں ثقہ کہا ہے، نیز اس کے معنی کے دیگر شواہد موجود ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ: ربیع بن سلیمان المرادی امام شافعی کے شاگرد ہیں اور ابن ابی الزناد سے مراد عبدالرحمن بن عبداللہ ہیں۔
وأخرجه أحمد 41/ (24615) من طريق عبد العزيز بن محمد الدراوردي، عن علقمة بن أبي علقمة، بهذا الإسناد. وزاد في آخره: وأفرد رسول الله ﷺ الحج ولم يعتمر. وانظر علّة هذه الزيادة في التعليق على "المسند".
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (41/24615) نے الدراوردی کے طریق سے روایت کیا ہے اور آخر میں یہ اضافہ ہے کہ "نبی ﷺ نے صرف حج کا احرام باندھا اور عمرہ نہیں کیا"۔ اس اضافے کی علت مسند احمد کی تعلیق میں دیکھی جا سکتی ہے۔
وقد ورد معنى هذا الحديث دون هذه الزيادة بإسناد صحيح من حديث هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة، ضمن حديث الحج، وفيه قول النبي ﷺ: "من أحب منكم أن يهل بالحج فليهل، ومن أحب أن يهل بعمرة فليهل" الحديث، أخرجه أحمد 42/ (25587)، والبخاري (317) و (1783) و (1786)، ومسلم (1211) (15) و (16)، وأبو داود (1778)، وابن ماجه (3000)، والنسائي (3683)، وابن حبان (3792) و (3942).
🧩 متابعات و شواہد: بغیر مذکورہ اضافے کے یہ روایت "صحیح سند" کے ساتھ ہشام بن عروہ عن ابیہ عن عائشہؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "تم میں سے جو چاہے حج کا احرام باندھے اور جو چاہے عمرہ کا"۔ (بخاری 317، مسلم 1211)۔