🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
79. اعتمر رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قبل حجه مرتين أو ثلاثا ولم يحج غيرها
رسولُ اللہ ﷺ نے اپنے حج سے پہلے دو یا تین عمرے کیے، اور اس کے سوا کوئی حج نہیں کیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1802
أخبرنا عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا سعيد بن عامر، حدثنا محمد بن عمرو، حدثنا يحيى بن عبد الرحمن بن حاطب، عن عائشةَ قالت: خرَجْنا مع رسولِ الله ﷺ على أنواعٍ ثلاثٍ، فمنَّا مَن أهلَّ بحَجّةٍ وعُمرة، ومنّا من أهلَّ بحجٍّ مفرَد، ومنّا من أهلَّ بعُمرة، فمَن كان أهلَّ بحجٍّ وعمرةٍ فلم يَحِلَّ من شيءٍ مما حَرُمَ عليه حتى قضى مناسكَ الحج، ومن أهلَّ بحجٍّ مفرَد لم يَحِلَّ من شيءٍ حتى يقضيَ مناسكَ الحجّ، ومَن أهلَّ بعُمرةٍ فطاف بالبيت وبالصّفا والمَرْوةِ حلَّ ثم استَقبَل الحجَّ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
اُمّ المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج کے لیے نکلے تو ہم میں تین طرح کے لوگ تھے، کچھ ایسے تھے جنہوں نے حج اور عمرہ کا اکٹھا احرام باندھا اور کچھ ایسے تھے جنہوں نے صرف حج کا احرام باندھا اور کچھ نے صرف عمرہ کی نیت کی، چنانچہ جن لوگوں نے حج اور عمرہ کا اکٹھا احرام باندھا تھا، وہ مناسک حج کی ادائیگی تک مسلسل احرام کی پابندیوں میں رہے اور جنہوں نے حج مفرد کی نیت کی تھی وہ بھی مناسک حج کی ادائیگی تک مسلسل احرام میں رہے اور جن لوگوں نے صرف عمرے کی نیت کی تھی، انہوں نے بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ میں سعی کر کے احرام ختم کر دیا پھر حج کی طرف متوجہ ہوئے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1802]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1802 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن عمرو: وهو ابن علقمة بن وقاص الليثي. عامر بن سعيد: هو الضُّبعي.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے اور محمد بن عمرو بن علقمہ کی وجہ سے سند "حسن" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: عامر بن سعید سے مراد الضُبعی ہیں۔
وأخرجه أحمد 42/ (25096)، وابن ماجه (3075) من طريقين عن محمد بن عمرو، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (42/25096) اور ابن ماجہ (3075) نے محمد بن عمرو کے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد 40/ (24076) و (24093)، والبخاري (319) و (1562) و (4408)، ومسلم (1211)، وأبو داود (1779) و (1780)، والنسائي (3683) من طريق عروة بن الزبير، عن عائشة.
📖 حوالہ / مصدر: اس کے ہم معنی روایت بخاری (319)، مسلم اور ابوداؤد میں عروہ بن زبیر عن عائشہؓ کی سند سے مروی ہے۔