🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
82. قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِمَكَّةَ : " مَا أَطْيَبَكِ مِنْ بَلْدَةٍ "
رسولُ اللہ ﷺ کا مکہ کے بارے میں فرمان: اے مکہ! تو کتنی پاکیزہ بستی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1807
أخبرنا أبو جعفر محمد بن عليٍّ الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزة، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا زهير، عن عبد الله بن عثمان بن خُثَيم، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عباسٍ قال: قال رسولُ الله ﷺ لِمكَّةَ:"ما أطيَبَكِ من بلدةٍ، وأحبَّكِ إليَّ، ولولا أنَّ قومَكِ أَخرَجوني ما سكنتُ غيرَكِ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کو مخاطب کر کے فرمایا: تو کتنا پاکیزہ شہر ہے اور تو مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے، اگر تیری قوم (قریش) نے مجھے یہاں سے نہ نکالا ہوتا تو میں تیرے سوا کہیں اور سکونت اختیار نہ کرتا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1807]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي، من أجل عبد الله بن عثمان بن خثيم. أبو نعيم: هو الفضل بن دكين، وزهير: هو ابن معاوية.» [ترقيم الرساله 1807] [ترقيم الشركة 1793]

الحكم على الحديث: إسناده قوي

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1807 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده قوي من أجل عبد الله بن عثمان بن خثيم. أبو نعيم: هو الفضل بن دكين، وزهير: هو ابن معاوية.
⚖️ درجۂ حدیث: عبداللہ بن عثمان بن خثیم کی وجہ سے سند "قوی" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: ابونعیم سے مراد فضل بن دکین اور زہیر سے مراد ابن معاویہ ہیں۔
وأخرجه الترمذي (3926)، وابن حبان (3709) من طريق الفضيل بن سليمان، عن عبد الله بن عثمان بن خثيم، بهذا الإسناد. وقَرَن الفضيل بسعيد بن جبير أبا الطفيل عامر بن واثلة، وقال الترمذي: حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی (3926) اور ابن حبان نے فضیل بن سلیمان کے طریق سے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے اسے "حسن صحیح غریب" کہا ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 1807 in Urdu