المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
81. فى اشتراء بقرة للهدي
قربانی کے لیے گائے خریدنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1806
أخبرَناه أبو بكر محمد بن المُؤمَّل، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا النُّفَيلي، حدثنا محمد بن سَلَمة، عن محمد بن إسحاق، عن عمرو بن ميمون بن مِهْران قال: سمعتُ أبا حاضر الحِمْيَري يحدِّث أبي ميمونَ بن مِهْران قال: خرجتُ معتمرًا عامَ حاصَرَ أهلُ الشام ابنَ الزبير بمكة، وبَعَثَ معي رجالٌ من قومي بهديٍ، فلما انتهينا إلى أهل الشام مَنَعُونا أن ندخل الحرم، فنحرتُ الهدي مكاني وأحللتُ، ثم رجعتُ، فلما كان من العام المُقبِل خرجتُ لأقضيَ عُمرتي، فأتيتُ ابن عباس فسألته، فقال: أبدِلِ الهديَ، فإنَّ رسولَ الله ﷺ أَمَرَ أصحابه أن يُبدِلوا الهديَ الذي نَحَروا عام الحديبية في عُمْرة القضاء. قال عمرو: وكان أبي قد أهمَّه ذلك، يقول: لا أدري هل أبدلَ أصحابُ النبيِّ ﷺ الهديَ الذي نحروا بالحديبية في عمرة القضاء، أم لا، حتى حدَّثه أبو حاضر (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وأبو حاضر شيخٌ من أهل اليمن مقبولٌ صدوق.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وأبو حاضر شيخٌ من أهل اليمن مقبولٌ صدوق.
سیدنا ابومیمون بن مہران رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس سال اہلِ شام نے ابن الزبیر کا مکہ میں محاصرہ کیا، میں اس سال عمرہ کے لیے نکلا اور میرے قبیلے کے بہت سارے لوگوں نے میرے ہمراہ قربانی کے جانور بھی بھیجے تھے، جب ہم لوگ مکہ پہنچے تو اہلِ شام نے ہمیں حرم شریف میں داخل ہونے سے منع کر دیا۔ میں نے اسی جگہ پر جانور ذبح کر دئیے اور احرام کھول دیا اور لوٹ آیا پھر اگلے سال میں عمرہ کی قضاء کرنے کے لیے نکلا تو ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: ان قربانیوں کے بدلے قربانیاں دو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو عمرہ قضاء میں دوبارہ قربانیاں کرنے کا حکم دیا تھا جنہوں نے حدیبیہ کے سال جانور ذبح کیے تھے، عمرو بن میمون فرماتے ہیں: جن لوگوں نے حدیبیہ کے سال جانور ذبح کیے تھے، ان کو اس پر عمل کرنا بہت دشوار تھا۔ وہ فرماتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے عمرہ قضاء میں ان قربانیوں کا بدل دیا تھا یا نہیں؟ جو انہوں نے حدیبیہ کے سال ذبح کی تھیں یہاں تک کہ ابوحاضر نے ان کو یہ حدیث سنائی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا اور ابوحاضر اہلِ یمن سے ہیں شیخ الحدیث ہیں۔ مقبول اور صدوق ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1806]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1806 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث قوي، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن إسحاق - وهو ابن يسار - وقد صرَّح بالتحديث عند البيهقي في "الدلائل" فانتفت شبهة تدليسه، وقد توبع. النفيلي: هو عبد الله بن محمد، ومحمد بن سلمة: هو الباهلي.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث قوی ہے اور محمد بن اسحاق کی وجہ سے سند "حسن" ہے، انہوں نے بیہقی کے ہاں سماع کی تصریح کی ہے جس سے تدلیس کا شبہ ختم ہو گیا۔ 🔍 فنی نکتہ: نفیلی سے مراد عبداللہ بن محمد اور محمد بن سلمہ باہلی ہیں۔
وأخرجه أبو داود (1864) عن النفيلي، بهذا الإسناد. إلّا أنه لم يذكر قول عمرٍو في آخره: ¤ ¤ وكان أبي قد أهمه ذلك … إلى آخره.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (1864) نے نفیلی سے روایت کیا ہے، مگر آخر میں عمرو کا قول ذکر نہیں کیا۔
وقول عمرو هذا أخرجه البيهقي في "دلائل النبوة" 4/ 319 - 320 ضمن هذا الحديث من طريق يونس بن بكير عن ابن إسحاق، به.
📖 حوالہ / مصدر: عمرو کا یہ قول بیہقی کی 'دلائل النبوہ' (4/319) میں یونس بن بکیر عن ابن اسحاق کی سند سے موجود ہے۔