المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
85. فضل مسجد النبى صلى الله عليه وآله وسلم ومسجده بقباء
مسجدِ نبوی ﷺ اور مسجدِ قباء کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 1811
أخبرنا أبو النضر الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا يحيى بن صالح الوُحاظيّ، حدثنا عبد العزيز بن محمد، حدثنا أُنيس بن أبي يحيى، حدثني أبي، قال: سمعتُ أبا سعيدٍ الخُدْريَّ: أنَّ رجلًا من بني عمرو بن عوف ورجلًا من بني خُدْرة اختلفا - أو امتَرَيا - في المسجد الذي أُسِّس على التقوى، فقال العَوْفي: هو مسجد قُباءٍ، وقال الخُدْري: هو مسجدُ رسولِ الله ﷺ، فأَتَيا النبيَّ ﷺ فسألاه، فقال:"هو مسجدي هذا، وفي ذلك خيرٌ كثير" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وأُنيس بن أبي يحيى بخلاف أخيه إبراهيم (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وأُنيس بن أبي يحيى بخلاف أخيه إبراهيم (1) .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بنی عمرو بن عوف کے ایک آدمی اور بنی خدرہ کے ایک آدمی کے درمیان اس مسجد کے بارے میں اختلاف ہو گیا جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی۔ عوفی شخص نے کہا: اس سے مراد مسجد قبا ہے اور خدری نے کہا: وہ مسجد نبوی ہے۔ یہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیش ہو گئے اور آپ سے اس بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ میری یہی مسجد ہے اور اس میں بہت زیادہ بھلائی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ اور انیس بن ابی یحیی کا اپنے بھائی سے اختلاف ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1811]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1811 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل أبي يحيى والد أُنيس: وهو الأسلمي، واسمه سمعان. أبو النضر: اسمه محمد بن محمد بن يوسف، وعبد العزيز بن محمد هو الدراوردي. ¤ ¤ وأخرجه أحمد 17/ (11178) و 18/ (11864)، والترمذي (323)، وابن حبان (1626) من طرق عن أنيس بن أبي يحيى، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، اور انیس کے والد (سمعان) کی وجہ سے سند "قوی" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: ابوالنضر کا نام محمد بن محمد اور عبدالعزیز سے مراد الدراوردی ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد، ترمذی (323) اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے اسے "حسن صحیح" کہا ہے۔
وسيأتي موقوفًا برقم (3324)، ومرفوعًا برقم (3325)، ويأتي الكلام عليه هناك.
🔁 تکرار: یہ روایت آگے موقوفاً (3324) اور مرفوعاً (3325) آئے گی اور وہیں اس پر مفصل کلام ہوگا۔
(1) كذا قال المصنف ﵀، والصواب أنَّ إبراهيم ليس أخا أُنيس، وإنما ابن أخيه محمد، وأبو يحيى جدُّه، فهو إبراهيم بن محمد بن أبي يحيى، وهو متروك.
🔍 علّت / فنی نکتہ: مصنف (حاکم) کا یہ کہنا کہ ابراہیم، انیس کے بھائی ہیں، غلط ہے۔ درست یہ ہے کہ ابراہیم (ابن ابی یحییٰ) انیس کے بھتیجے ہیں اور وہ "متروک" راوی ہیں۔