🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
44. دعاء حصول النفع بالنفع
نفع حاصل ہونے کی دعا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1900
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني أسامة بن زيد، أنَّ سليمان بن موسى حدَّثه عن مكحول: أنه دَخَلَ على أنس بن مالكٍ، قال: فسمعتُه يَذكُرُ أنَّ رسول الله ﷺ كان يقول:"اللهمَّ انفَعْني بما علَّمْتَني، وعلِّمْني ما يَنفَعُني، وارزُقْني عِلْمًا تَنفَعُني به" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے: انفعنی بما علمتنی، وعلمنی ما ینفعنی، وارزقنی علما تنفعنی بہ اے اللہ! تو مجھے اس چیز سے نفع دے جو تو نے مجھے سکھائی اور مجھے وہ سکھا جو مجھے فائدہ دے اور مجھے ایسا علم عطا فرما جو مجھے نفع دے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1900]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1900 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن من أجل أسامة بن زيد - وهو الليثي - وسليمان بن موسى - وهو الأشدق - لكن أسامة قد توبع. الربيع بن سليمان: هو المرادي، ومكحول: هو الشامي.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: یہ سند اسامہ بن زید اللیثی اور سلیمان بن موسیٰ الاشدق کی وجہ سے "حسن" ہے، تاہم اسامہ کی متابعت موجود ہے۔ ربیع بن سلیمان: یہ المرادی ہیں، اور مکحول: یہ شامی راوی ہیں۔
وأخرجه النسائي (7819) عن يونس بن عبد الأعلى، عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی (7819) نے یونس بن عبدالاعلیٰ عن عبداللہ بن وہب کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه الطبراني في "الأوسط" (1748)، وفي "مسند الشاميين" (3371) من طريق عمارة بن غزية، عن سليمان الأشدق، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "الاوسط" اور "مسند الشامیین" میں عمارہ بن غزیہ عن سلیمان الاشدق کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وله شاهد من حديث أبي هريرة عند الترمذي (3599)، وابن ماجه (251) و (3833)، وإسناده ضعيف.
🧩 متابعات و شواہد: اس کا شاہد حضرت ابوہریرہ کی حدیث ہے جو ترمذی (3599) اور ابن ماجہ میں مروی ہے، مگر اس کی سند ضعیف ہے۔