🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
60. من سعادة ابن آدم استخارته إلى الله
ابنِ آدم کی سعادت یہ ہے کہ وہ اللہ سے استخارہ کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1924
أخبرني عبد الله بن الحُسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا رَوح بن عُبادة، حدثنا محمد بن أبي حُميد، عن إسماعيل بن محمد ابن سعد بن أبي وقّاص، عن أبيه، عن جده، قال: قال رسولُ الله ﷺ:"من سَعادةِ ابنِ آدمَ استخارتُه إلى الله، ومن شِقْوةِ ابنِ آدمَ تَرْكُه استخارةَ الله" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ سے استخارہ کرنا (یعنی خیر طلب کرنا) ابنِ آدم کی خوش بختی میں سے ہے، اور اللہ سے استخارہ ترک کر دینا ابنِ آدم کی بدبختی میں سے ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1924]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف بمَرّة، محمد بن أبي حُميد متفق على ضعفه، وقد تابعه رجل مثلُه في الضعف، فلا يعتد بمتابعته.» [ترقيم الرساله 1924] [ترقيم الشركة 1909]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف بمَرّة
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1924 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف بمَرّة، محمد بن أبي حُميد متفق على ضعفه، وقد تابعه رجل مثلُه في الضعف، فلا يعتد بمتابعته.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند سخت ضعیف ہے۔ محمد بن ابی حمید کے ضعف پر اتفاق ہے، اور اس کی متابعت کرنے والا راوی بھی اسی طرح ضعیف ہے۔
وأخرجه أحمد 3/ (1444) عن رَوح بن عبادة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے روح بن عبادہ کی سند سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
وأخرجه الترمذي (2151) من طريق أبي عامر العَقَدي، عن محمد بن أبي حميد، به. وقال: غريب لا نعرفه إلّا من حديث محمد بن أبي حميد، وليس هو بالقوي عند أهل الحديث.
📖 حوالہ / مصدر: امام ترمذی نے اسے ابوعامر العقدی کی سند سے روایت کر کے "غریب" کہا ہے اور محمد بن ابی حمید کو ضعیف قرار دیا ہے۔
قلنا: قد تابعه عبد الرحمن بن أبي بكر المُليكي عند البزار (1179)، وأبي يعلى (701)، لكن عبد الرحمن هذا متفق على ضعفه.
🧩 متابعات و شواہد: عبدالرحمن بن ابی بکر المُلیکی نے اس کی متابعت کی ہے، مگر وہ بھی بالاتفاق ضعیف راوی ہے۔
وروي الخبر من وجه آخر عند البزار (1097) من طريق عمران بن أبان الواسطي، عن عبد الرحمن المُليكي أيضًا، لكنه قال فيه: عن محمد بن المنكدر، عن عامر بن سعد بن أبي وقاص، عن أبيه. فعاد الحديث إلى المُليكي، وعمران الراوي عنه ضعيف كذلك.
🔍 علّت / فنی نکتہ: بزار کی ایک اور روایت میں سند پلٹ گئی ہے، مگر گھوم پھر کر یہ المُلیکی پر ہی ختم ہوتی ہے، لہذا سند ضعیف ہی رہتی ہے۔
وقد صحَّ من حديث جابر بن عبد الله عند أحمد 23/ (14707)، والبخاري (1162) وغيرهما قال: كان النبي ﷺ يعلّمنا الاستخارة في الأمور كلها كما يُعلّمنا السورة من القرآن … وذكر دعاء الاستخارة.
📌 اہم نکتہ: دعائے استخارہ کے بارے میں حضرت جابر بن عبداللہ کی صحیح حدیث بخاری و احمد میں موجود ہے، جس میں صراحت ہے کہ آپ ﷺ ہمیں استخارہ سکھاتے تھے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 1924 in Urdu