المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
83. الله لا يلقي حبيبه فى النار
اللہ اپنے محبوب کو آگ میں نہیں ڈالے گا
حدیث نمبر: 195
حدثني علي بن بُندار الزاهد، حدثنا جعفر بن محمد الفريابي، حدثنا محمد بن المثنى الزَّمِنُ، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا حُميد، عن أنس قال: كان صبيٌّ على ظهر الطريق، فمرَّ النبي ﷺ ومعه ناس، فلما رأت أمُّ الصبي القومَ خَشِيَت أن يُوطأ ابنُها، فسَعَتْ فحَمَلَته، فقالت: ابني ابني، قال القوم: يا رسول الله، ما كانت هذه لتُلقِيَ ابنَها في النار، فقال رسول الله ﷺ:"ولا اللهُ يُلقي حبيبه في النار" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 194 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 194 - على شرطهما
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بچہ راستے میں تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے اپنے صحابہ کے ساتھ گزرے، جب بچے کی ماں نے لوگوں کو دیکھا تو اسے ڈر لگا کہ کہیں اس کا بیٹا پاؤں تلے نہ کچل دیا جائے، وہ دوڑی اور اسے اٹھا لیا اور کہنے لگی: میرا بیٹا! میرا بیٹا! لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ ماں تو اپنے بیٹے کو کبھی آگ میں نہیں ڈال سکتی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور اللہ بھی اپنے محبوب کو کبھی آگ میں نہیں ڈالے گا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 195]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 195]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 195 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. حميد: هو ابن أبي حميد الطويل.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: راوی حمید سے مراد "حمید بن ابی حمید الطویل" ہیں۔
وأخرجه أحمد 19 (12018) و (13467) من طريقين عن حميد الطويل، به. وسيأتي برقم (7534).
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے دو مختلف طرق سے حمید الطویل کے واسطے سے روایت کیا ہے، اور یہ آگے نمبر (7534) پر دوبارہ آئے گی۔