المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
80. دعاء بعد الفراغ من الأكل
کھانا کھانے کے بعد کی دعا۔
حدیث نمبر: 1956
حدثنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمّاك إملاءً ببغداد، حدثنا عبد الرحمن بن محمد بن منصور الحارثي، حدثنا يحيى بن سعيد القَطّان، حدثنا ثَور بن يزيد، عن خالد بن مَعْدان، عن أبي أُمامة قال: كان رسولُ الله ﷺ إِذا رُفِعَت المائدةُ قال:"الحمدُ لله كثيرًا طيبًا [مُباركًا] (1) فيه، غيرَ مَكفيٍّ، ولا مُودَّع، ولا مُستغنًى عنه ربُّنا" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دسترخوان اٹھایا جاتا تو فرماتے: «الْحَمْدُ للهِ كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، غَيْرَ مَكْفِيٍّ، وَلَا مُوَدَّعٍ، وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبُّنَا» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، بہت زیادہ، پاکیزہ اور برکت والی تعریف، ایسی تعریف جو (اللہ کی نعمتوں کے لیے) کافی نہیں، نہ اسے رخصت کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ہمارا رب اس سے بے نیاز ہو سکتا ہے“۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1956]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1956]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل عبد الرحمن بن محمد الحارثي، وقد توبع.» [ترقيم الرساله 1956] [ترقيم الشركة 1941]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1956 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) لفظة "مباركًا" سقطت من أصولنا الخطيّة، وأثبتناها من "تلخيص الذهبي"، وهي ثابتة في الرواية لجميع من خرَّج هذا الحديث، ولا بدَّ منها لتعلُّق الجار والمجرور اللذين بعدها بها، وقد ثبتت لإسماعيل بن محمد الصفَّار في جزء له ضمن مجموع فيه مصنفاته ومصنفات أبي العباس الأصم (611) عن عبد الرحمن بن محمد الحارثي.
📝 توضیح: لفظ "مباركاً" قلمی نسخوں میں گر گیا تھا، جسے امام ذہبی کی تلخیص اور دیگر کتبِ حدیث کی روشنی میں شامل کیا گیا ہے کیونکہ اس کے بغیر جملہ نامکمل تھا۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل عبد الرحمن بن محمد الحارثي، وقد توبع.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے۔ عبدالرحمن بن محمد الحارثی کی وجہ سے سند "حسن" ہے اور اسے دیگر متابعات حاصل ہیں۔
وأخرجه أحمد 36/ (22200)، وأخرجه الترمذي (3456) عن محمد بن بشار، كلاهما (أحمد وابن بشار) عن يحيى بن سعيد القطان، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: امام احمد اور ترمذی نے اسے یحییٰ بن سعید القطان کی سند سے روایت کیا ہے، اور ترمذی نے اسے "حسن صحیح" قرار دیا ہے۔
وأخرجه أحمد (22168) عن وكيع بن الجراح، والبخاري (5458)، والنسائي (6870) و (10043) من طريق سفيان الثوري، والبخاري (5459) عن أبي عاصم الضحّاك بن مخلد، وابن ماجه (3284) من طريق الوليد بن مسلم، أربعتهم عن ثور بن يزيد، به. وقد ذكر البخاري لأبي عاصم لفظين أحدهما نحو لفظنا، والآخر: "الحمد لله الذي كفانا وأروانا غير مكفيٍّ ولا مَكفُور"، وقال وكيع في روايته: "غير مُكفَّرٍ" بدل: "غير مَكفيٍّ". واستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری، نسائی اور ابن ماجہ نے ثور بن یزید کے طریق سے روایت کیا ہے۔ بخاری کی روایت میں کچھ الفاظ کا فرق ہے، اور امام حاکم کا اسے (بخاری و مسلم سے باہر سمجھ کر) استدراک کرنا ان کی بھول ہے۔
وسيأتي برقم (7375) من طريق مسدَّد بن مسرهد عن يحيى القطان، وبرقم (7374) من طريق عامر بن جَشِيب عن خالد بن معدان.
🔍 ہدایت: یہ روایت آگے رقم (7375) اور (7374) پر دوبارہ آئے گی۔
قوله: "غير مَكفيٍّ" معناه: أنَّ الله غير مُطعَمٍ ولا مَكفيٍّ، إنما هو المُطعِم والكافي، من الكفاية، ويجوز أن يعود الضمير إلى الطعام، يعني: غير مردود ولا مقلوب، من: كَفَأ الإناء.
📚 لغوی تشریح: "غير مَكفيّ" کے دو معنی ہو سکتے ہیں: ایک یہ کہ اللہ کو کسی کے کھانے کی ضرورت نہیں بلکہ وہ سب کو کھلانے والا ہے، دوسرا یہ کہ اس کھانے کو رد نہیں کیا گیا۔
وقوله: "غير مكفَّر" أو "مكفُور"، معناه: غير مجحود النعمة. ¤ ¤ وقوله: "غير مُودَّع" أي: غير متروك الطلب إليه والرغبة فيما عنده.
📚 لغوی تشریح: "غير مكفُور" کا مطلب ہے جس کی نعمت کا انکار نہ کیا جائے، اور "غير مُودَّع" کا مطلب ہے جسے چھوڑا نہ جائے بلکہ ہمیشہ اسی کی طرف رغبت رکھی جائے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 1956 in Urdu