المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
85. الدعاء فى ليلة القدر
لیلۃ القدر کی دعا۔
حدیث نمبر: 1963
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن عَتّاب العَبْدي، حدثنا أبو بكر بن أبي العوّام الرِّيَاحي، حدثنا أبو النَّضْر، حدثنا الأشجَعي، عن سفيان الثَّوْري، عن عَلقمة بن مَرثَد، عن سليمان بن بُريدة، عن عائشة، قالت: قلتُ: يا رسولَ الله، أرأيتَ إن وافقتُ ليلةَ القدرِ، ما أقولُ فيها؟ قال:"قُولي: اللهمَّ إنك عَفُوٌّ تُحِبُّ العَفْوَ، فاعفُ عنّي" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
اُمّ المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر میں شبِ قدر پاؤں تو کیا دعا مانگوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (یہ دعا مانگو): ” اللّٰھمّ انّک عفوٌّ تحب العفو فاعف عنی۔ “ ” اے اللہ! تو معاف کرنے والا ہے، معافی کو پسند کرتا ہے، لہٰذا مجھے معاف کر دے۔) ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1963]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1963 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أبي بكر الرياحي - واسمه محمد بن أحمد بن يزيد - وقد توبع. أبو النضر: هو هاشم بن القاسم، والأشجعي: هو عُبيد الله بن عُبيد الرحمن.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے اور یہ سند ابوبکر الریاحی کی وجہ سے "حسن" ہے، جن کی متابعت موجود ہے۔
وأخرجه أحمد 43/ (26215)، وأخرجه النسائي (10647) عن العباس بن عبد العظيم، كلاهما (أحمد والعباس) عن أبي النضر هاشم بن القاسم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: امام احمد اور نسائی نے اسے ابوالنضر ہاشم بن القاسم کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 42/ (25741)، وابن ماجه (3850) من طريق وكيع، والترمذي (3513)، والنسائي (10642) من طريق جعفر بن سليمان، و (7665) و (10643) و (11624) من طريق خالد بن الحارث، ثلاثتهم عن كهمس بن الحسن، عن عبد الله بن بريدة، عن عائشة. فذكر كهمسٌ عبد الله بن بريدة بدل أخيه سليمان بن بريدة، وكلاهما ثقة، على أنَّ خالد بن الحارث وحده أطلق فقال: عن ابن بريدة، فلم يقيّده، ولا يمتنع سماعُ كلا الأخوين للحديث من عائشة. وقال الترمذي حديث حسن صحيح.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے "حسن صحیح" کہا ہے۔ یہ روایت حضرت عائشہؓ سے مروی ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں؛ دو بھائیوں (عبداللہ اور سلیمان) میں سے کسی ایک کا نام لینے سے صحت پر فرق نہیں پڑتا۔
وأخرجه أحمد 42/ (25384) عن محمد بن جعفر، و (25497) عن يزيد بن هارون، والنسائي (10644) من طريق المعتمر بن سليمان، ثلاثتهم عن كهمس بن الحسن، عن ابن بريدة (وقيَّد يزيدُ ابنَ بريدة بعبد الله، وأطلق الآخران، فقالا: ابن بريدة)، قال: قالت عائشة: يا نبي الله … فذكروه مرسلًا، ومثل هذا لا يضرُّ ما دام الواصلون ثقات.
📖 حوالہ / مصدر: امام احمد اور نسائی نے اسے کہمس بن الحسن کے طریق سے روایت کیا ہے۔ بعض راویوں نے اسے "مرسل" بیان کیا ہے، مگر ثقہ راویوں کا اسے موصل (مکمل سند سے) بیان کرنا ہی معتبر ہے۔
وأخرجه أحمد 42/ (25505) عن علي بن عاصم، والنسائي (10646) من طريق سفيان الثوري، كلاهما عن سعيد بن إياس الجريري، قال الثوري: عن ابن بريدة، وقال الآخر: عن عبد الله بن بريدة، عن عائشة قالت: قلتُ: يا رسول الله … والثوريُّ سماعُه من الجريري قبل ¤ ¤ تغيُّره واختلاطه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد اور نسائی نے جریری کے طریق سے روایت کیا ہے۔ سفیان ثوری کا جریری سے سماع ان کے اختلاط (یاداشت کی کمزوری) سے پہلے کا ہے، اس لیے یہ معتبر ہے۔
وأخرجه أحمد 42/ (25495) عن يزيد بن هارون، عن الجريري، عن عبد الله بن بريدة، أنَّ عائشة قالت: يا رسول الله، فذكره مرسلًا. ويزيد سماعه من الجُريري بعد اختلاطه، فقول سفيان الثوري مقدَّم عليه.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: یزید بن ہارون نے اسے جریری سے ان کے اختلاط کے بعد سنا ہے، اس لیے سفیان ثوری کی روایت کو ان پر فوقیت حاصل ہے۔
ولعله لأجل بعض الروايات المرسلة السالفة ونظائرها في أحاديث ابن بريدة عن عائشة نفى الدارقطنيُّ سماعَ عبد الله بن بريدة من عائشة، وتبعه البيهقيُّ، وتعقبه ابن التركماني في "الجوهر النقي" 7/ 118 بأنَّ ابن بريدة ولد سنة خمس عشرة وسمع جماعة من الصحابة، وقد ذكر مسلم في مقدمة كتابه: أنَّ المتفق عليه أنَّ إمكان اللقاء والسماع يكفي للاتصال، ولا شكَّ في إمكان سماع ابن بريدة من عائشة، فروايته عنها محمولة على الاتصال، على أنَّ صاحب "الكمال" صرَّح بسماعه منها. قلنا: وفي إطلاق الترمذي تصحيح الحديث دلالة على أنه كان يرى سماع ابن بريدة من عائشة، إذ لو كان لا يرى ذلك لنبَّه عليه على عادته، وقد صحَّح إسناد هذا الحديث النووي في "الأذكار" والبُوصيري في "مصباح الزجاجة".
🔍 فنی نکتہ: امام دارقطنی نے عبداللہ بن بریدہ کا حضرت عائشہؓ سے سماع نہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے، مگر محققین کے نزدیک ان کی پیدائش کے سال اور ملاقات کے امکان کی بنا پر سماع ثابت ہے، جیسا کہ امام مسلم اور ترمذی کے طرزِ عمل سے ظاہر ہے۔