المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
87. إن الله ليبلغ العبد بحسن خلقه درجة الصوم والصلاة
اللہ بندے کو اس کے اچھے اخلاق کے ذریعے روزہ اور نماز کا درجہ عطا فرماتا ہے
حدیث نمبر: 200
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا أبو النَّضر، حدثنا الليث بن سعد، عن يزيد بن عبد الله بن الهاد، عن عمرو ابن أبي عمرو، عن المطَّلب، عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ:"إِنَّ الرجلَ لَيُدرِكُ بحُسْنِ خُلُقِه، دَرَجاتِ قائم الليل صائم النهار" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وشاهدُه صحيح على شرط مسلم:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 199 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وشاهدُه صحيح على شرط مسلم:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 199 - على شرطهما
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک آدمی اپنے حسنِ اخلاق کے ذریعے راتوں کو قیام کرنے والے اور دنوں کو روزے رکھنے والے کے درجات پا لیتا ہے“۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کا ایک صحیح شاہد امام مسلم کی شرط پر بھی موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 200]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کا ایک صحیح شاہد امام مسلم کی شرط پر بھی موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 200]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 200 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات إلّا أنه منقطع، المطلب ـ وهو ابن عبد الله بن حنطب - لم يسمع من عائشة في قول الجمهور. أبو النضر: هو هاشم بن القاسم الخراساني.
⚖️ درجۂ حدیث: شواہد کی بنا پر یہ "صحیح لغیرہ" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: جمہور محدثین کے نزدیک مطلب بن عبداللہ بن حنطب کا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع ثابت نہیں ہے، اس لیے سند منقطع ہے۔ 📝 نوٹ: ابوالنضر سے مراد "ہاشم بن القاسم خراسانی" ہیں۔
وأخرجه أحمد 40/ (24355) و 41/ (24595) عن أبي النضر هاشم بن القاسم، بهذا الإسناد. وقرن أحمد في الموضع الأول بأبي النضر يونس بن محمد المؤدِّب.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے اپنی مسند میں ابوالنضر ہاشم بن القاسم کی سند سے اسی طریق کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 41 / (25013) و 42 / (25537)، وأبو داود (4798)، وابن حبان (480) من طرق عن عمرو بن أبي عمرو مولى المطلب، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، ابوداؤد (4798) اور ابن حبان (480) نے مولیٰ مطلب "عمرو بن ابی عمرو" کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
ويشهد له حديث أبي هريرة التالي عند المصنف، وإسناده حسن.
🧩 متابعات و شواہد: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اگلی حدیث اس کے لیے شاہد ہے اور اس کی سند "حسن" ہے۔
وآخر من حديث عبد الله بن عمرو عند أحمد 11/ (6648)، وإسناده حسن.
🧩 متابعات و شواہد: حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی روایت (مسند احمد: 11/6648) بھی اس کی تائید کرتی ہے، جس کی سند حسن ہے۔
وثالث من حديث أبي أمامة الباهلي عند البغوي في "شرح السنة" (3499)، وإسناده ضعيف.
🧩 متابعات و شواہد: اس موضوع پر تیسرا شاہد حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، مگر اس کی سند "ضعیف" ہے۔