🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
110. دعاء النبى صلى الله عليه وآله وسلم لعمه أبى طالب بالشفاء وإجابته معا
نبی ﷺ کی اپنے چچا ابو طالب کے لیے شفا کی دعا اور اس کی قبولیت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2014
حدَّثَناه محمد بن صالح، حدثنا إبراهيم بن محمد الصَّيدلاني، حدثنا عُقبة بن مُكْرَم العَمَّي، حدثنا شَريك بن عبد المجيد (1) ، أخو أبي بكر الحَنَفي، حدثنا الهيثم (2) بن جَمّاز البَكّاء، عن ثابت البُناني، عن أنس بن مالك: أنَّ أبا طالبٍ مَرِضَ فثَقُل فعادَه النبيُّ ﷺ، فقال: يا ابنَ أخي، ادْعُ ربَّك الذي تعبُدُ (3) أن يُعافيَني، فقال النبيُّ ﷺ:"اللهمَّ اشفِ عَمِّي"، فقامَ كأنَّما نُشِطَ من عِقَال، فقال أبو طالب: إِنَّ ربَّك الذي تعبُدُ لَيُطِيعُك، قال:"وأنتَ يا عَمِّ، لئِنْ أَطعتَ اللهَ ليُطِيعُك (4) " (5) .
سیدنا انس بن مالک رصی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ابوطالب بیمار ہو گئے اور ان کی بیماری شدت اختیار کر گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کو گئے۔ ابوطالب نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے میرے چچا کے بیٹے! اپنے اُس رب سے دعا مانگیں جس نے آپ کو مبعوث فرمایا ہے کہ وہ مجھے صحت عطا فرمائے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے یہ دعا مانگی: اللّٰھمّ اشف عمِّی (یا اللہ میرے چچا کو شفاء عطا فرما)۔ (سیدنا انس رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں: (وہ فوراً ٹھیک ہو گئے اور) یوں لگا جیسے ان کی رسیاں کھول دی گئی ہوں۔ تو سیدنا ابوطالب رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ کے رب نے آپ کو مبعوث کیا ہے، اس لیے وہ آپ کی بات بھی مانتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے چچا! اگر تو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے گا تو اللہ تعالیٰ تیری بھی ضرور بات مانے گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 2014]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2014 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: عبد الحميد، بحاء مهملة بعدها ميم.
📝 توضیح: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف (غلطی) ہو کر "عبد الحمید" (ح اور م کے ساتھ) لکھا گیا تھا، جسے درست کر لیا گیا ہے۔
(2) تحرَّف في النسخ إلى: القاسم وفي "التلخيص" على الصواب.
📝 توضیح: قلمی نسخوں میں یہاں نام "القاسم" ہو گیا تھا، جبکہ "التلخیص" میں یہ درست درج ہے۔
(3) في النسخ في الموضعين: بعثك، والمثبت من نسخة بهامش (ز) في كلا الموضعين، وهو الموافق لما في مصادر تخريج الحديث.
📝 توضیح: اصل نسخوں میں دونوں جگہ "بعثك" لکھا تھا، مگر ہم نے نسخہ (ز) کے حاشیے اور دیگر مصادرِ تخریج کے مطابق اسے درست کر دیا ہے۔
(4) كذلك وقعت مرفوعةً في نسخنا الخطية مع كونها جوابًا للشرط، لأنَّ الجواب إذا كان مضارعًا وكان الشرط ماضيًا ففي ذلك الجواب وجهان الرفع والجزم، والجزم أكثر. انظر "المُفصَّل" للزمخشري ص 321، و"شواهد التوضيح" لابن مالك ص 176، و"حاشية الشَّنَواني على شرح مقدمة الإعراب لابن هشام" ص 71 - 72.
📝 توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں یہ لفظ "مرفوع" (پیش کے ساتھ) آیا ہے کیونکہ یہ جملہ شرط کا جواب ہے۔ لغتِ عرب کے مطابق اگر شرط ماضی ہو اور جواب مضارع، تو جواب پر رفع اور جزم دونوں جائز ہیں، اگرچہ جزم زیادہ فصیح ہے۔
(5) إسناده ضعيف جدًّا من أجل الهيثم بن جَمّاز البكاء، فقد تركوه كما قال الذهبي في "تلخيصه"، والراوي عنه شريك بن عبد المجيد الحنفي غير معتمد كما قال الدارقطني في "سؤالات البرقاني له" (319).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "شدید ضعیف" ہے کیونکہ اس میں ہیثم بن جماز البکاء ہے، جسے محدثین نے ترک کر دیا ہے۔ نیز راوی شریک بن عبد المجید بھی معتبر نہیں ہیں۔
وأخرجه الطبراني في "الأوسط" (3973)، وابن عدي في "الكامل" 7/ 102، وأبو طاهر الذهبي في "المخلِّصيات" (606)، والبيهقي في "دلائل النبوة" 6/ 184، والخطيب في "تاريخ بغداد" ¤ ¤ 9/ 353، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 66/ 324 و 325 من طرق عن عُقبة بن مُكرَم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی، ابن عدی، بیہقی، خطیب بغدادی اور ابن عساکر نے عقبہ بن مکرم کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أبو محمد عبد الله بن زيدان البجلي في "مسنده" (44)، وأبو بكر القطيعي في زياداته على "فضائل الصحابة" (1152)، وابن عساكر 66/ 325 من طريق محمد بن يونس القرشي الكُديمي، عن شريك بن عبد المجيد الحَنَفي، به. والكديمي ضعيف جدًّا.
⚖️ درجۂ حدیث: اسے عبد اللہ بن زیدان اور قطیعی نے بھی روایت کیا ہے، مگر اس کی سند میں محمد بن یونس الکدیمی موجود ہے جو کہ "شدید ضعیف" راوی ہے۔