المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
33. فضيلة قراءة سورة الكهف ذكر فضائل سور وآي متفرقة
سورۂ کہف کی تلاوت کی فضیلت اور مختلف سورتوں و آیات کے فضائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 2097
أخبرنا أبو الحُسين أحمد بن عثمان المقرئ ببغداد، حدثنا أبو قِلابة عبد الملك بن محمد، حدثنا يحيى بن كثير، حدثنا شعبة، عن أبي هاشم [عن أبي مِجلَزٍ] (1) عن قيس بن عُبَاد، عن أبي سعيد الخُدْري قال: قال رسول الله ﷺ:"من قرأ سورةَ الكهف كما أُنزلت كانت له نُورًا يومَ القيامة من مَقامِه إلى مكةَ. ومن قرأ عشرَ آيات مِن آخرها ثُمَّ خرج الدجّالُ، لم يُسلَّطْ عليه. ومن توضأ ثم قال: سبحانَك اللهمَّ وبِحمدِك، لا إله إلَّا أنت أستغفرُك وأتوبُ إليك، كُتِبَ في رَقٍّ، ثم طُبِع بطابَعٍ فلم يُكْسَر إلى يومِ القيامة" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. ورواه سفيان الثَّوْري عن أبي هاشم فأوقفه:
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. ورواه سفيان الثَّوْري عن أبي هاشم فأوقفه:
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ” سورۂ کہف “ اسی طرح پڑھے جس طرح نازل ہوئی تو یہ قیامت میں اس کے لیے اس کے کھڑا ہونے کی جگہ سے مکہ تک روشنی ہو گی۔ اور جو شخص اس کی آخری دس آیتیں تلاوت کرے اس پر دجال مسلط نہیں ہو سکے گا۔ اور جو شخص وضو کر کے یہ پڑھے: (سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ اس کو ایک کاغذ پر لکھ کر اسے سربمہر کر دیا جاتا ہے تو وہ کاغذ قیامت تک نہیں کھولا جائے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ اس حدیث کو سفیان ثوری رضی اللہ عنہ نے ابوہاشم سے موقوفاً روایت کیا ہے۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2097]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2097 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) ما بين المعقوفين سقط من النسخ الخطية، وهو ثابت في جميع الروايات عن يحيى بن كثير، وكذا في جميع الروايات عن أبي هاشم. وأبو مجلز هذا: هو لاحق بن حميد.
📝 نوٹ / توضیح: بریکٹ میں دی گئی عبارت قلمی نسخوں سے گر گئی تھی، جسے دیگر روایات کی مدد سے مکمل کیا گیا ہے۔ ابو مجلز سے مراد لاحق بن حمید ہیں۔
(2) صحيح، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، لكنه اختُلف فيه على أبي هاشم - وهو يحيى بن دينار الرُّمّاني، وقيل غير ذلك - في رفع هذا الحديث ووقفه كما سيأتي بيانه هنا، وفي الطريق التالية، وعند الرواية الآتية برقم (3432)، وقد صحَّح وقفَه النسائيُّ والدارقطنيُّ، وقال الحافظ ابن حجر في "نتائج الأفكار" 5/ 39 و 40: رجال الموقوف في الطرق كلها أتقن من رجال المرفوع، قال: لكن له مع ذلك حكم المرفوع، إذ لا مجال للرأي فيه.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: صحیح ہے، راویوں میں حرج نہیں مگر اس کے مرفوع و موقوف ہونے میں اختلاف ہے۔ نسائی اور دارقطنی نے "موقوف" کو صحیح کہا ہے، مگر حافظ ابن حجر کے بقول اس کا حکم "مرفوع" کا ہی ہے کیونکہ یہ رائے سے نہیں کہا جا سکتا۔
وأخرجه النسائي (9829) و (10722)، والطبراني في "الأوسط" (1455)، وفي "الدعاء" (390)، والبيهقي في "شعب الإيمان" (2499) من طريق يحيى بن محمد بن السكن، والبيهقي (2221) من طريق أبي قُدامة عبيد الله بن سعيد، وأبو العباس المستغفري في "فضائل القرآن" (816) من طريق محمد بن سِنان القزّاز، ثلاثتهم عن يحيى بن كثير، بهذا الإسناد - واقتصر أبو قدامة ومحمد بن سنان على القسم الأول من الحديث، ولم يذكر البيهقي في رواية ابن السكن القسم الثاني منه، وجاء في رواية محمد بن سنان ما نصُّه: رفعه شعبة مرةً، ومرةً لم يرفعه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے نسائی، طبرانی، بیہقی اور مستغفری نے یحییٰ بن کثیر کے طریق سے روایت کیا ہے۔ شعبہ کی روایت میں کبھی رفع اور کبھی عدمِ رفع کا ذکر ملتا ہے۔
وأخرجه ابن مردويه في "تفسيره" كما في "نتائج الأفكار" 5/ 40، والبيهقي في "الشعب" (2499) من طريق عبد الصمد بن عبد الوارث عن شعبة، به - دون ذكر القسم الثاني.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن مردویہ اور بیہقی نے عبدالصمد کے طریق سے شعبہ سے روایت کیا ہے (پہلے حصے کے بغیر)۔
وخالف يحيى بنَ كثير وعبدَ الصمد من هم أكبر منهما من الحفّاظ من أصحاب شعبة، فرووه عنه موقوفًا:
⚠️ سندی اختلاف: یحییٰ القطان اور محمد بن جعفر جیسے کبار حفاظ نے اسے شعبہ سے "موقوف" ہی روایت کیا ہے۔
فقد أخرجه مُسدَّد في "مسنده" كما في "إتحاف الخيرة" للبوصيري (582/ 1)، وجعفر الفريابي في "الذكر" كما في "النكت على ابن الصلاح" لابن حجر 2/ 738 عن يحيى القطان، والنسائي ¤ ¤ (9830) و (10723) من طريق محمد بن جعفر، والطبراني في "الدعاء" (391) من طريق عمرو بن مرزوق ثلاثتهم عن شعبة، به موقوفًا - واقتصر يحيى القطان وعمرو بن مرزوق على القسم الثالث من الحديث.
📖 حوالہ / مصدر: مسدد، فاریابی، نسائی اور طبرانی نے اسے شعبہ سے "موقوف" روایت کیا ہے۔
وقال الحافظ ابن حجر: إسناده صحيح، وهو موقوف، لكن له حكم المرفوع، لأنَّ مثله لا يقال بالرأي.
⚖️ حکم: حافظ ابن حجر کے مطابق سند صحیح ہے اور موقوف ہونے کے باوجود "مرفوع" کے حکم میں ہے۔
ورواه عن أبي هاشم جماعة فرفعوه:
⚠️ سندی اختلاف: ایک جماعت نے اسے ابو ہاشم سے "مرفوع" بھی روایت کیا ہے۔
فقد أخرجه الطبراني في "الدعاء" (388) من طريق قيس بن الربيع، و (389) من طريق الوليد بن مروان، وأبو إسحاق المزكِّي في "فوائده" (55) من طريق روح بن القاسم، ثلاثتهم عن أبي هاشم، به مرفوعًا - واقتصروا على القسم الثالث من الحديث أيضًا.
📖 حوالہ / مصدر: طبرانی اور مزکی نے قیس بن ربیع اور روح بن قاسم کے طریق سے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے۔
وسيأتي القسم الأول من الحديث برقم (3432) من طريق نعيم بن حماد، عن هُشَيم بن بشير، عن أبي هاشم مرفوعًا، بلفظ: "من قرأ سورة الكهف في يوم الجمعة أضاء له من النور ما بين الجمعتين"، هكذا رواه نعيم مُقيِّدًا قراءتها بيوم الجمعة، ووافقه غيره من الثقات من أصحاب هُشَيم في التقييد بيوم الجمعة، لكنهم خالفوه في رفع الحديث فوقفوه، كما خالفوه في نصه، فقالوا: أضاء له نور فيما بينه وبين البيت العتيق. وهو نحو لفظ حديث شعبة هنا، وسيأتي بيان ذلك في موضعه إن شاء الله تعالى.
🔁 تکرار: حدیث کا پہلا حصہ (جمعہ کے دن سورہ کہف کی فضیلت) نمبر (3432) پر آئے گا۔ نعیم بن حماد نے اسے "جمعہ" کے ساتھ مقید کیا ہے، مگر دیگر ثقہ راویوں نے اسے موقوف روایت کیا ہے۔
وسيأتي الحديث بعده من طريق سفيان الثَّوري عن أبي هاشم موقوفًا.
🔍 ہدایت: اس کے بعد سفیان ثوری کے طریق سے "موقوف" روایت ملاحظہ فرمائیں۔