🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
41. لا ينامن أحدكم حتى يقرأ ثلث القرآن
تم میں سے کوئی نہ سوئے جب تک قرآن کا تہائی حصہ نہ پڑھ لے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2109
أخبرني أبو القاسم عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذان، حدثنا عُمير بن مِرداس، حدثنا عبد الله بن نافع الصائغ، حدثنا يحيى بن عُمير، عن أبيه عمير مولى نوفل بن عَدِيّ، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لا يَنامنَّ أحدُكم حتى يقرأَ ثُلثَ القرآنِ" قالوا: يا رسول الله، وكيف يستطيع أحدُنا أن يقرأ بثلثِ القرآنِ؟ قال:"لا يستطيعُ أن يقرأَ ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ و ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ و ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾؟" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی شخص اس وقت نہ سوئے جب تک ایک تہائی قرآن کی تلاوت نہ کر لے۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کوئی شخص ایک تہائی قرآن کیسے پڑھ سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ، قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ» نہیں پڑھ سکتا؟ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2109]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2109 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لجهالة عمير مولى نوفل بن عدي فلا يعرف أنه روى عنه غير ابنه، وعبد الرحمن بن الحسن شيخ الحاكم ضعيف، وقد روي الحديث من وجه آخر عن عمير، وهو ضعيف أيضًا.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: عمیر (مولیٰ نوفل) کے مجہول ہونے اور شیخِ حاکم (عبدالرحمن) کے ضعیف ہونے کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (2336) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: بیہقی نے امام حاکم کی اسی سند سے اسے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أبو داود الطيالسي (2601) عن محمد بن أبي حميد الأنصاري، عن عمير، به. ومحمد بن أبي حميد متفق على ضعفه.
📖 حوالہ / مصدر: طیالسی نے اسے محمد بن ابی حمید سے روایت کیا ہے جو کہ متفقہ طور پر ضعیف راوی ہیں۔
ويخالف هذا الحديث الأحاديث الدالة على أنَّ سورة الإخلاص وحدها تعدل ثلث القرآن، كما تقدَّم برقم (2103) وذكرنا شواهده هناك.
⚠️ تعارض: یہ روایت ان صحیح احادیث کے خلاف ہے جن میں سورہ اخلاص کو اکیلے ہی "تہائی قرآن" کے برابر کہا گیا ہے۔