🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. إنَّ خَيْرَ الْبِقَاعِ الْمَسَاجِدُ ، وإنَّ شَرَّ الْبِقَاعِ الْأَسْوَاقُ .
سب سے بہترین جگہیں مساجد ہیں اور بدترین جگہیں بازار ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2178
حدَّثَناه عبد الله بن محمد بن موسى العَدْل، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا علي بن الحسن الهِسنْجاني ويحيى بن المغيرة السَّعْدي، قالا: حدثنا جَرير، عن عطاء بن السائب، عن مُحارِب بن دِثَار، عن عبد الله بن عمر، قال: جاء رجلٌ إلى النبي ﷺ فقال: يا رسول الله، أيُّ البقاع خَيرٌ؟ فقال:"لا أدري"، قال: فأيُّ البقاع شَرٌّ؟ قال:"لا أدري"، فأتاه جبريلُ (1) ، فقال:"سَلْ ربَّك، فقال جبريل: ما نسألُه عن شيء" قال: فانتفَضَ انتفاضةً كاد أن يُصعَقَ منهما محمدٌ ﷺ، فلما صَعِدَ جبريلُ قال الله:"سألك محمدٌ: أيُّ البقاع خيرٌ؟ فقلتَ: لا أدري، وسألك: أيُّ البقاع شَرٌّ؟ فقلتَ: لا أدري، قال: فقال: نعم، قال: فحَدِّثْه أَنَّ خير البِقاعِ المساجدُ، وأنَّ شَرَّ البِقاعِ الأَسواقُ" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2149 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کون سے مقامات بہترین ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نہیں جانتا، اس نے پوچھا: کون سے مقامات بدترین ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نہیں جانتا، پھر جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے رب سے پوچھیں، جبرائیل علیہ السلام نے کہا: ہم اس (اللہ) سے کسی چیز کے بارے میں (خود سے) سوال نہیں کرتے، پھر جبرائیل علیہ السلام پر ایسی کپکپی طاری ہوئی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان کی حالت دیکھ کر دنگ رہ گئے، پھر جب جبرائیل علیہ السلام اوپر گئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: محمد نے آپ سے پوچھا کہ بہترین مقامات کون سے ہیں تو آپ نے کہا کہ میں نہیں جانتا، اور انہوں نے پوچھا کہ بدترین مقامات کون سے ہیں تو آپ نے کہا کہ میں نہیں جانتا؟ فرمایا: ہاں، تو اللہ نے فرمایا: انہیں بتا دیں کہ بہترین مقامات مساجد ہیں اور بدترین مقامات بازار ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2178]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن عطاء بن السائب اختلط بأخرة، وسماع جرير» [ترقيم الرساله 2178] [ترقيم الشركة 2159] [ترقيم العلميه 2149]

الحكم على الحديث: حسن لغيره

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2178 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) قوله: فأتاه جبريل، أثبتناه من "تلخيص المستدرك" للذهبي، وسقط من نسخنا الخطية، وقد جاء على حاشية (ز) ما نصّه: في حاشية الأصل: لعله سقط منه: فلما نزل جبريل سأله، فقال: لا أدري.
📝 تصحیحِ متن: "پس ان کے پاس جبرئیلؑ آئے" کا جملہ قلمی نسخوں سے گر گیا تھا، جسے علامہ ذہبی کی تلخیص سے مکمل کیا گیا ہے۔
(2) حسن لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن عطاء بن السائب اختلط بأخرة، وسماع جرير - وهو ابن عبد الحميد - منه بعد اختلاطه، وقد تقدم برقم (310).
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: یہ حدیث حسن لغیرہ ہے۔ عطاء بن السائب آخری عمر میں اختلاط (یادداشت کی کمزوری) کا شکار ہو گئے تھے اور جریر نے ان سے اسی دور میں سنا تھا۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2178 in Urdu