المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
9. إنَّ خَيْرَ الْبِقَاعِ الْمَسَاجِدُ، وإنَّ شَرَّ الْبِقَاعِ الْأَسْوَاقُ .
سب سے بہترین جگہیں مساجد ہیں اور بدترین جگہیں بازار ہیں۔
حدیث نمبر: 2177
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ وإبراهيم بن عِصْمة العَدْل، قالا: حدثنا السَّرِيّ بن خُزيمة، حدثنا أبو حذيفة موسى بن مسعود، حدثنا زُهير بن محمد، عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل، عن محمد بن جُبير بن مُطعِم، عن أبيه: أنَّ رجلًا أتى رسولَ الله ﷺ، فقال: يا رسول الله، أيُّ البلدان شَرٌّ؟ فقال:"لا أدري"، فلما أتاه جبريل ﵇، فقال:"يا جبريل، أيُّ البلدان شَرٌّ؟ قال: لا أدري حتى أسألَ ربي، فانطَلَقَ جبريلُ، فمَكُثَ ما شاء الله أن يمكُث، ثم جاء، فقال: يا محمد، إنك سألتَني: أيُّ البلدان شَرٌّ؟ وإني قلتُ: لا أدري، وإني سألتُ ربي، فقلت: أيُّ البلدان شَرٌّ؟ فقال: أسواقُها" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رواه قيس بن الربيع وعمرو بن ثابت بن أبي المِقْدام عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل (3) . وله شاهد صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2148 - زهير ذو مناكير هذا منها وابن عقيل فيه لين وله شاهد صحيح ثم ذكر حديث رقم 2149
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رواه قيس بن الربيع وعمرو بن ثابت بن أبي المِقْدام عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل (3) . وله شاهد صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2148 - زهير ذو مناكير هذا منها وابن عقيل فيه لين وله شاهد صحيح ثم ذكر حديث رقم 2149
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا اور بولا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! شہر کی کونسی جگہ سب سے زیادہ بُری ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے نہیں معلوم! جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیدنا جبریل امین علیہ السلام آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے جبریل! شہر کی کونسی جگہ سب سے زیادہ بُری ہے؟ جبریل نے جواباً کہا: مجھے نہیں معلوم، میں اپنے رب سے پوچھ کر بتاؤں گا۔ پھر سیدنا جبریل امین علیہ السلام تشریف لے گئے اور کچھ عرصہ کے بعد تشریف لائے اور بولے: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تھا کہ شہر کی سب سے بُری جگہ کون سی ہے؟ اور میں نے جواباً کہا تھا: مجھے معلوم نہیں، میں اللہ تعالیٰ سے پوچھ کر بتاؤں گا۔ چنانچہ میں نے اللہ تعالیٰ سے پوچھا تھا کہ شہر کی کونسی جگہ سب سے بُری ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:” بازار “۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور اس حدیث کو قیس بن ربیع اور عمرو بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ابوالمقدام کے واسطے سے عبداللہ بن محمد بن عقیل رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ ایک صحیح حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد بھی ہے (جو کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2177]
حدیث نمبر: 2178
حدَّثَناه عبد الله بن محمد بن موسى العَدْل، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا علي بن الحسن الهِسنْجاني ويحيى بن المغيرة السَّعْدي، قالا: حدثنا جَرير، عن عطاء بن السائب، عن مُحارِب بن دِثَار، عن عبد الله بن عمر، قال: جاء رجلٌ إلى النبي ﷺ فقال: يا رسول الله، أيُّ البقاع خَيرٌ؟ فقال:"لا أدري"، قال: فأيُّ البقاع شَرٌّ؟ قال:"لا أدري"، فأتاه جبريلُ (1) ، فقال:"سَلْ ربَّك، فقال جبريل: ما نسألُه عن شيء" قال: فانتفَضَ انتفاضةً كاد أن يُصعَقَ منهما محمدٌ ﷺ، فلما صَعِدَ جبريلُ قال الله:"سألك محمدٌ: أيُّ البقاع خيرٌ؟ فقلتَ: لا أدري، وسألك: أيُّ البقاع شَرٌّ؟ فقلتَ: لا أدري، قال: فقال: نعم، قال: فحَدِّثْه أَنَّ خير البِقاعِ المساجدُ، وأنَّ شَرَّ البِقاعِ الأَسواقُ" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2149 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2149 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کونسی جگہ سب سے زیادہ اچھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نہیں جانتا، اس نے پوچھا: کونسی جگہ سب سے زیادہ بُری ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نہیں جانتا، آپ کی خدمت میں سیدنا جبریل علیہ السلام آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے یہ بات پوچھ کر آؤ، تو جبریل کہنے لگے: ہم اللہ تعالیٰ سے کچھ پوچھا نہیں کرتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کپکپی طاری ہو گئی۔ قریب تھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر غشی طاری ہو جاتی۔ جب سیدنا جبریل علیہ السلام اوپر گئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آپ سے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پوچھ رہے ہیں کہ کونسا مقام سب سے بہتر ہے؟ اور تم نے جواب دیا کہ میں نہیں جانتا، انہوں نے پوچھا: کونسا مقام سب سے بُرا ہے؟ تم نے اس سے بھی لا علمی کا اظہار کر دیا۔ (عبداللہ) فرماتے ہیں: سیدنا جبریل علیہ السلام نے اقرار کر لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ان کو بتا دو کہ سب سے بہتر مقام ”مساجد“ ہیں اور سب سے بُرا مقام ”بازار“ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2178]