المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
10. لا تختلفوا فتختلف قلوبكم
اختلاف نہ کرو ورنہ تمہارے دل مختلف ہو جائیں گے۔
حدیث نمبر: 2180
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا العوّام بن حَوشَب، عن إبراهيم السَّكْسَكِي، عن ابن أبي أَوفى: أنَّ رجلًا أقامَ سلعةً له، فحلَفَ بالله لقد أُعطيَ بها ما لم يُعْطَ بها، فنزلت هذه الآية: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾ الآية [آل عمران: 77] (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه (2) ، إنما اتفقا على حديث عمرو بن دينار والأعمش، عن أبي صالح، عن أبي هريرة: رجل حَلَفَ على سِلْعةٍ له، الحديث (3) ، وهذا غير ذاك بزيادة نزول الآية وغيرها.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2151 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه (2) ، إنما اتفقا على حديث عمرو بن دينار والأعمش، عن أبي صالح، عن أبي هريرة: رجل حَلَفَ على سِلْعةٍ له، الحديث (3) ، وهذا غير ذاك بزيادة نزول الآية وغيرها.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2151 - صحيح
سیدنا عبداللہ ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک شخص اپنا سامان بیچنے کے لیے کھڑا تھا۔ اس نے اللہ کی قسم کھا کر کہا کہ یہ سامان اس کو اتنے میں پڑا ہے حالانکہ اس کو وہ سامان اتنے میں نہیں پڑا تھا تو یہ آیت نازل ہوئی: (اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَھْدِاللّٰہِ وَاَیْمَانِھِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا) ” جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے ذلیل دام لیتے ہیں۔“ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے سیدنا عمرو بن دینار رضی اللہ عنہ اور سیدنا اعمش رضی اللہ عنہ کی ابوصالح کے واسطے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی یہ حدیث نقل کی ہے کہ ایک شخص نے اپنے سامان پر قسم کھائی اس کے بعد پوری حدیث ذکر کی۔ تاہم اس حدیث میں اور سابقہ حدیث میں نزول آیت اور دیگر اضافہ کا فرق ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2180]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2180 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن من أجل إبراهيم السَّكْسَكي - وهو ابن عبد الرحمن - وقد أخرج له البخاري هذا الحديث الواحد، وقال ابن عدي: لم أجد له حديثًا منكر المتن.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: ابراہیم السکسکی کی وجہ سے یہ سند حسن ہے۔ امام بخاری نے ان سے یہی ایک حدیث روایت کی ہے اور ابن عدی کہتے ہیں کہ ان کی کوئی روایت منکر (غلط) نہیں ملی۔
وأخرجه البخاري (2675) من طريق يزيد بن هارون، بهذا الإسناد. بلفظ: "أعطَى بها ما لم يُعطَها".
📖 حوالہ / مصدر: امام بخاری نے اسے یزید بن ہارون کی سند سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا: "اسے وہ کچھ دیا گیا جو کسی اور کو نہیں دیا گیا"۔
وأخرجه أيضًا (2088) و (4551) من طريق هُشَيم بن بشير، عن العوّام بن حوشب، به.
📖 حوالہ / مصدر: امام بخاری نے اسے ہشیم بن بشیر کے واسطے سے بھی دو جگہ روایت کیا ہے۔
وزاد: ليُوقع فيها رجلًا من المسلمين.
📝 اضافہ: (راوی نے) یہ اضافہ بھی کیا: تاکہ اس (جھوٹی قسم) کے ذریعے کسی مسلمان کو دھوکے میں ڈال دے۔
قوله: أُعطي بها ما لم يُعطَ بها، ضبط بضم الهمزة وكسر الطاء في "أُعطي"، وضم الياء وفتح الطاء في "يعط"، والمعنى: دُفِعَ له فيها من قِبل المُستامين ما لم يكن أحدٌ دفعه.
📖 مطلبِ حدیث: اس جملے کے دو مطلب ہیں: ایک یہ کہ خریداروں نے اس چیز کی اتنی قیمت لگائی جتنی پہلے کسی نے نہیں لگائی تھی۔
وضبط أيضًا بفتح الهمزة والطاء في الأول، وضم الياء وكسر الطاء في الثاني، بمعنى: دَفَعَ بها من ماله ما لم يكن دفعه على الحقيقة. أفاده القسطلّاني في "إرشاد الساري" 4/ 30 عند شرح الحديث (2088).
📖 دوسرا مطلب: قسطلانی کے مطابق دوسرا مطلب یہ ہے کہ بیچنے والے نے (دھوکہ دینے کے لیے) اپنی جیب سے اتنی رقم دکھائی جو حقیقت میں اس نے ادا نہیں کی تھی۔
ولا يمنع من ضبطه بضم الهمزة وكسر الطاء في الأول، مع ضم الياء وكسر الطاء في الثاني، ويكون له معنيان: أحدهما: أنه دُفع له فيها من قبل المستامين ما لم يدفعه هذا المستام الأخير، والثاني: أنه دُفع له من قبل المستامين ما أَبَى أن يدفع السلعة به. وكل هذه صور تقع من التجار، ويُحمل الحديث عليها جميعًا.
📌 تحقیقی نکتہ: اس کے معانی میں وسعت ہے؛ یا تو قیمت بڑھانے کے لیے جھوٹ بولا گیا یا سودا کینسل کرنے کے لیے۔ یہ تمام صورتیں تاجروں میں پائی جاتی ہیں اور حدیث ان سب پر محمول ہے۔
(2) بل قد أخرجه البخاري كما قدَّمنا!
📝 تصحیح: امام حاکم کا اسے بخاری میں نہ ہونا کہنا غلط ہے، بلکہ جیسا کہ ہم نے واضح کیا، اسے امام بخاری نے خود روایت کیا ہے۔
(3) أخرجه البخاري (2369)، ومسلم (108)، ولفظه عند مسلم: "حلف له بالله لَأَخذها بكذا وكذا، فصدّقه وهو على غير ذلك".
📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری و مسلم نے روایت کیا، مسلم کے الفاظ ہیں: "اس نے اللہ کی جھوٹی قسم کھائی کہ میں نے یہ اتنے میں خریدی تھی تاکہ خریدار اسے سچا سمجھے"۔