المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
16. دع ما يريبك إلى ما لا يريبك ، فإن الخير طمأنينة وإن الشر ريبة
جس چیز میں شبہ ہو اسے چھوڑ دو اور جس میں شبہ نہ ہو اسے اختیار کرو، کیونکہ بھلائی اطمینان ہے اور برائی بے چینی۔
حدیث نمبر: 2200
حدَّثَناه أبو زكريا العَنْبري وأبو بكر بن جعفر وعلي بن عيسى وعبد الله بن سعد، قالوا: حدثنا محمد بن إبراهيم العَبْدي، حدثنا أبو صالح مَحْبوب بن موسى، حدثنا أبو إسحاق الفَزاري، عن الحسن بن عُبيد الله النَّخَعي، عن بُرَيد بن أبي مريم، عن أبي الحَوْراء، قال: قلتُ للحسن بن علي: مِثلُ مَن كنتَ في عهد رسول الله ﷺ، وماذا عَقَلتَ عنه؟ قال: أتى رجلٌ رسولَ الله ﷺ، فسمعت رسول الله ﷺ يقول:"دَع ما يَريبُك إلى ما لا يَريبُك، فإنَّ الشرَّ رِيبةٌ، والخيرَ اطمَأْنينةٌ" (2) . شاهدُه حديث أبي أُمامة الباهِلي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2170 - سكت عنه الذهبي في هذا الموضع
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2170 - سكت عنه الذهبي في هذا الموضع
سیدنا ابوالجوزاء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، میں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کس جیسے تھے؟ اور آپ نے ان سے کیا سیکھا؟ انہوں نے فرمایا: ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ” جو چیز تمہیں شک میں ڈالے اس کو چھوڑ دو اور جس میں شک نہ ہو اس کو اختیار کر لو۔ بے شک خیر ” اطمینان “ ہے اور ” شر “ شک ہے۔ مذکورہ حدیث کی شاہد حدیث: سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ (درج ذیل) حدیث اس مذکورہ حدیث کی شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2200]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2200 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل محبوب بن موسى. أبو إسحاق الفَزاري: هو إبراهيم بن محمد بن الحارث.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: یہ صحیح حدیث ہے اور محبوب بن موسیٰ کی وجہ سے یہ سند قوی ہے۔ ابو اسحاق الفزاری بھی ثقہ امام ہیں۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (5363) عن أبي عبد الله الحاكم، عن أبي زكريا العنبري وحده، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بیہقی نے حاکم کے واسطے سے ابو زکریا العنبری کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه الطبراني (2708)، وعنه أبو نعيم في "الحلية" 8/ 264 عن هاشم بن مرثد الطبراني، عن أبي صالح الفراء - وهو محبوب - به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے اور ان سے ابو نعیم نے "حلیۃ الاولیاء" میں محبوب بن موسیٰ کے طریق سے روایت کیا ہے۔