🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. كَفَى بِالْمَرْءِ مِنَ الْكَذِبِ أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ
آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ سنی سنائی ہر بات بیان کرتا پھرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2229
أخبرنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا سعيد بن أبي عَرُوبة، عن قَتَادة، عن الحسن، عن عُقبة بن عامر الجُهَني: أنَّ رسول الله ﷺ قال في عُهْدة الرَّقيق:"ثلاثُ ليالٍ" (2) . قال سعيد: فقلت لقَتَادة: كيف يكون هذا؟ قال: إذا وَجَدَ المشتري عيبًا بالسِّلعة، فإنه يَردُّها في تلك الأيام، ولا يُسألُ البيّنةَ، فإذا مَضَتْ عليه أيامٌ فليس له أن يَرُدَّها إلّا ببيِّنةِ أنه اشتراها وذلك العيبُ بها، وإلّا فيمينُ البائع أنه لم يَبِعْه وبه داءٌ. هكذا قال سعيد وهمام عن قَتَادة، وكذلك رواه يونس بن عُبيد عن الحسن:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2198 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلاموں کی خریداری میں عیب کی وجہ سے واپسی کی مدت (عہدہ) کے بارے میں فرمایا: تین راتیں ہیں۔ سعید کہتے ہیں: میں نے قتادہ سے پوچھا: یہ کیسے ہوگا؟ انہوں نے کہا: جب خریدار سودے میں کوئی عیب پائے تو وہ ان تین دنوں میں اسے واپس کر سکتا ہے اور اس سے گواہ طلب نہیں کیے جائیں گے، لیکن جب یہ دن گزر جائیں تو اسے گواہی کے بغیر واپس کرنے کا حق نہیں ہوگا کہ اس نے اسے خریدا تھا اور یہ عیب اس وقت موجود تھا، ورنہ پھر بیچنے والے سے قسم لی جائے گی کہ اس نے اسے اس حال میں نہیں بیچا کہ اس میں کوئی بیماری تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2229]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لانقطاعه، فإنَّ الحسن - وهو ابن أبي الحسن البصري - لم يسمع من عقبة بن عامر، فيما قاله المصنف هنا، وسبقه إلى القول بذلك علي بن المديني، وأحمد فيما نقله عنه الخطابي، وأبو حاتم فيما نقله عنه ابنه في "العلل" (1184)، وغيرهم، وقد اختُلف فيه أيضًا عن الحسن، ...» [ترقيم الرساله 2229] [ترقيم الشركة 2211] [ترقيم العلميه 2198]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لانقطاعه

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2229 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده ضعيف لانقطاعه، فإنَّ الحسن - وهو ابن أبي الحسن البصري - لم يسمع من عقبة بن عامر، فيما قاله المصنف هنا، وسبقه إلى القول بذلك علي بن المديني، وأحمد فيما نقله عنه الخطابي، وأبو حاتم فيما نقله عنه ابنه في "العلل" (1184)، وغيرهم، وقد اختُلف فيه أيضًا عن الحسن، فمرة يُروى عنه عن عقبة كما وقع عند المصنف هنا، ومرة يُروى عنه عن سمرة بن جندب، واختُلف في لفظه كذلك كما أشار إليه الحاكم.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند "منقطع" ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے، کیونکہ امام حسن بصری کا عقبہ بن عامر سے سماع (سننا) ثابت نہیں 🔍 علّت / فنی نکتہ: اس پر علی بن المدینی، امام احمد اور ابوہاتم وغیرہ کا اتفاق ہے، نیز اس روایت کے الفاظ اور سند میں اضطراب بھی پایا جاتا ہے۔
وأخرجه أحمد 28/ (17384) عن إسماعيل ابن عُليَّة، عن سعيد بن أبي عَروبة، به. دون كلام قَتَادة الذي بإثره في شرح الحديث.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (28/ 17384) نے سعید بن ابی عروبہ کے طریق سے روایت کیا ہے مگر اس میں قتادہ کی تشریح موجود نہیں ہے۔
وتابع ابنَ عُليَّة وعبد الوهاب الخفاف على ذكر عقبة بن عامرٍ هُشَيمُ بنُ بشير عند يونس بن سُريج في "القضاء" (95). ¤ ¤ وأخرجه أبو داود (3507) من طريق همام بن يحيى، وأحمد 28/ (17385) من طريق شعبة بن الحجاج، وأبو داود (3506) من طريق أبان بن يزيد العطّار، ثلاثتهم عن قتادة، به.
🧩 متابعات و شواہد: ابن علیہ اور عبد الوہاب کی تائید ہشیم بن بشیر، ہمام بن یحییٰ، شعبہ اور ابان بن یزید نے کی ہے، ان سب نے اسے عقبہ بن عامر ہی سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (2244) من طريق عَبْدة بن سليمان، عن سعيد بن أبي عروبة، به. لكن قال: عن سمرة بن جندب، فجعله من مسند سمرة.
📖 حوالہ / مصدر: ابن ماجہ نے اسے سمرہ بن جندب کے مسند سے روایت کیا ہے جو کہ سابقہ سند کے خلاف ہے۔
وتابع عبدةَ بنَ سليمان على ذلك جماعةٌ منهم أبو عاصم الضحاك بن مخلد عند الطحاوي في "شرح مشكل الآثار" (6092)، ومحمد بن بشر عند ابن حزم في "المحلى" 8/ 379 - 380، فروياه عن سعيد بن أبي عروبة، فقالا: عن سمرة بن جندب. وكذلك قال هشام الدستوائي في رواية سيأتي التنبيه عليها برقم (2231) غير أنه ذكره على الشك، فقال: عن سمرة أو عقبة.
🧩 متابعات و شواہد: سمرہ بن جندب والے قول کی تائید ابوعاصم اور محمد بن بشر نے کی ہے، جبکہ ہشام الدستوائی نے اسے شک کے ساتھ "سمرہ یا عقبہ" سے روایت کیا ہے۔
لكن الأشبه رواية من رواه عن سعيد بن أبي عروبة بذكر عقبة بن عامر، لموافقتهم رواية من رواه عن قتادة كذلك ممَّن تقدَّم ذكرهم، والله تعالى أعلم.
📌 اہم نکتہ: لیکن قرینِ قیاس یہی ہے کہ یہ عقبہ بن عامر کی روایت ہے کیونکہ قتادہ کے اکثر شاگردوں نے اسی طرح روایت کیا ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2229 in Urdu