المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
29. مَنْ تَدَايَنَ بِدَيْنٍ وَلَيْسَ فِي نَفْسِهِ وَفَاؤُهُ ، ثُمَّ مَاتَ ، اقْتَصَّ اللَّهُ لِغَرِيمِهِ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
جو شخص قرض لیتا ہے اور دل میں ادائیگی کی نیت نہیں رکھتا، پھر مر جاتا ہے تو قیامت کے دن اللہ اس کے قرض خواہ کو اس سے بدلہ دلائے گا۔
حدیث نمبر: 2237
أخبرَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنّى، حدثنا محمد بن المِنْهال، حدثنا يزيد بن زُريع، حدثنا بِشر بن نُمير، عن القاسم، عن أبي أمامة، قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن تَداين بدَين، وفي نفسه وفاؤُه، ثم مات، تجاوز الله عنه، وأرضَى غريمَه بما شاء، ومَن تَداين بدَين وليس في نفسه وفاؤُه، ثم مات، اقتصَّ اللهُ لغَريمِه منه يومَ القيامة" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2206 - بشر متروك
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2206 - بشر متروك
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی قرض لیا اور اس کے دل میں اسے ادا کرنے کی نیت تھی، پھر وہ (ادائیگی سے پہلے) فوت ہو گیا، تو اللہ تعالیٰ اس سے درگزر فرمائے گا اور اس کے قرض خواہ کو جس طرح چاہے گا راضی کر دے گا، اور جس نے قرض لیا جبکہ اس کے دل میں ادائیگی کی نیت نہ تھی، پھر وہ مر گیا، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے قرض خواہ کے لیے اس سے بدلہ لے گا۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2237]
تخریج الحدیث: «إسناده تالف بمرةٍ، بشر بن نمير متروك الحديث، واتهمه بعضهم بالكذب.» [ترقيم الرساله 2237] [ترقيم الشركة 2219] [ترقيم العلميه 2206]
الحكم على الحديث: إسناده تالف بمرةٍ
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2237 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده تالف بمرةٍ، بشر بن نمير متروك الحديث، واتهمه بعضهم بالكذب.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند "تالف" (بالکل تباہ/ناکارہ) ہے، بشر بن نمیر متروک الحدیث ہے اور بعض نے اسے کذاب (جھوٹا) قرار دیا ہے۔
وأخرجه الطبراني في "معجمه الكبير" (7937) عن إبراهيم بن هاشم البَغَوي، عن محمد بن المنهال، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "المعجم الکبیر" (7937) میں اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه الحارث بن أبي أسامة في "مسنده" كما في "إتحاف الخيرة" للبوصيري (2922/ 1) من طريق أبي هلال، عن بشر بن نمير، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند (اتحاف الخیرہ 2922/1) میں ابوہلال عن بشر کے طریق سے روایت کیا ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2237 in Urdu