🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

29. مَنْ تَدَايَنَ بِدَيْنٍ وَلَيْسَ فِي نَفْسِهِ وَفَاؤُهُ، ثُمَّ مَاتَ، اقْتَصَّ اللَّهُ لِغَرِيمِهِ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
جو شخص قرض لیتا ہے اور دل میں ادائیگی کی نیت نہیں رکھتا، پھر مر جاتا ہے تو قیامت کے دن اللہ اس کے قرض خواہ کو اس سے بدلہ دلائے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2237
أخبرَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنّى، حدثنا محمد بن المِنْهال، حدثنا يزيد بن زُريع، حدثنا بِشر بن نُمير، عن القاسم، عن أبي أمامة، قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن تَداين بدَين، وفي نفسه وفاؤُه، ثم مات، تجاوز الله عنه، وأرضَى غريمَه بما شاء، ومَن تَداين بدَين وليس في نفسه وفاؤُه، ثم مات، اقتصَّ اللهُ لغَريمِه منه يومَ القيامة" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2206 - بشر متروك
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص قرضہ لے اور اس کے دل میں اس کی ادائیگی کا ارادہ ہو (لیکن وہ قرضہ ادا کیے بغیر ہی) مر جائے تو اللہ تعالیٰ اس کو معاف کر دے گا اور اس کے قرض خواہ کو اس کی خواہش کے مطابق راضی کر دے گا اور اگر کوئی قرضہ لے لیکن اس کے دل میں اس کی ادائیگی کا ارادہ نہ ہو اور وہ (ادا کیے بغیر) مر جائے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے قرض خواہ کو اس سے بدلہ دلوائے گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2237]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2238
حدثنا الأستاذ أبو الوليد حَسّان بن محمد وأبو بكر محمد بن قُريش، قالا: حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا محمد بن المِنْهال، حدثنا يزيد بن زُريع، حدثنا عُمارة بن أبي حفصة، عن عِكْرمة، عن عائشة، قالت: كان على رسول الله ﷺ بُردان قِطْريان غَليظان خَشِنان، فقلت: يا رسول الله، إنَّ ثوبَيك خَشِنان غليظان، وإنك تَرشَحُ فيهما فيَثقُلان عليك، وإنَّ فلانًا قَدِمَ له بَزٌّ من الشام، فلو بعثتَ إليه فأخذْتَ منه ثوبَين بنَسيئةٍ إلى مَيسَرة، فأرسلَ إليه رسولُ الله ﷺ، فقال: قد علمتُ ما يريدُ محمدٌ، يريدُ أن يَذهَبَ بِثَوبيَّ ويَمطُلَني بهما، فأتى الرسولُ إلى النبيِّ ﷺ فأخبره، فقال النبيُّ ﷺ:"قد كَذَبَ، قد عَلِمُوا أني أتقاهُم لله وآدَاهُم للأمانة" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. وقد روي عن شعبة عن عُمارة بن أبي حفصة مختصرًا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2207 - على شرط البخاري
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو موٹی کھردری چادریں تھیں۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کی یہ دونوں چادریں بہت موٹی اور کھردری ہیں۔ آپ کو ان میں پسینہ آتا ہے، جس کی وجہ سے آپ کو بہت مشقت ہوتی ہے۔ فلاں آدمی نے ملک شام سے کاٹن کے کپڑے منگوائے ہیں۔ اگر آپ اس کی طرف کوئی آدمی بھیج دیں اور اس سے دو چادریں کشادگی آنے تک ادھار کے طور پر لے آئیں (تو بہت ہی اچھا ہو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف ایک آدمی بھیجا (جس نے اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پیغام دیا) تو اس نے جواباً کہا: میں یہ جانتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) چاہتا ہے کہ وہ مجھ سے کپڑا لے لے اور پھر اس کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرتا رہے (یوں کہہ کر اس نے کپڑا دینے سے انکار کر دیا) وہ شخص نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس معاملے کی اطلاع دی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص جھوٹا ہے، تم تو مجھے جانتے ہو کہ میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرتا ہوں اور سب سے زیادہ امانت کی ادائیگی کا خیال کرتا ہوں۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ اور یہ حدیث شعبہ کے واسطے سے عمارہ بن ابی حفصہ سے مختصراً روایت کی گئی ہے (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2238]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2239
حدَّثَناه علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا محمد بن شاذان الجوهري، حدثنا عمرو بن مرزوق وعمرو بن حَكّام، قالا: حدثنا شعبة. وحدثنا علي بن حَمْشاذَ، حدثنا الحُسين بن محمد بن زياد، حدثنا محمد بن بشار ومحمد بن المثنى، قالا: حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن عُمارة بن أبي حفصة، عن عكرمة، عن عائشة، قالت: قلت: يا رسول الله، ثوباك غَليظانِ فلو نَزَعْتَهما وبعثتَ إلى فلانٍ التاجرِ، فأرسَلَ إليك ثوبين إلى المَيسَرة، قال: فأرسَلَ إليه:"ابعَثْ إِليَّ ثَوبَينِ إِلى المَيسَرةِ"، فأَبَى (1) .
شعبہ نے عمارہ بن ابی حفصہ کے واسطے سے عکرمہ سے روایت کیا ہے کہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کے یہ دونوں کپڑے بہت موٹے ہیں اگر آپ یہ نہ پہنیں اور فلاں تاجر کو پیغام بھیج دیں کہ وہ آپ کو آسانی آنے تک (قرضے کے طور پر) دو کپڑے بھیج دے (تو بہت اچھا ہو) راوی فرماتے ہیں: آپ نے اس کی طرف پیغام بھیجا کہ وہ مجھے آسانی آنے تک دو کپڑے بھیج دے لیکن اس نے انکار کر دیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2239]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2240
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا محمد بن سعيد بن الأصبهاني. وأخبرنا أبو بكر أحمد (2) ، حدثنا محمد بن أيوب والحسين بن بشار، قالا: حدثنا سعيد بن سليمان الواسطي؛ قالا: حدثنا شَريك، عن سماك بن حَرْب، عن عِكْرمة، عن ابن عباس، قال: قَدِمَتْ عِيرٌ فابتاع النَّبِيُّ ﷺ منها بيعًا، فربح أَوَاقيَّ (3) من ذَهَبٍ، فتصدَّق بها بين أبناء بني عبد المطّلب، وقال:"لا أَشتَري ما ليس عِندي ثمنُه" (1) . قد احتجَّ البخاريُّ بعِكْرمة، واحتجَّ مسلمٌ بِسماكٍ وشريكٍ، والحديث صحيح، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2209 - صحيح
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے، ایک تجارتی قافلہ آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے سودا کیا، اس سودے میں کافی مقدار میں سونے کا نفع ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تمام بنی عبدالمطلب کی اولادوں میں صدقہ کر دیا اور فرمایا: ہم وہ چیزیں نہیں خریدتے جس کی ہمارے نزدیک کوئی قیمت نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے اسے نقل نہیں کیا۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے عکرمہ کی اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے سماک اور شریک کی روایات نقل کی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2240]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں