🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
59. كسب الحجام خبيث
حجام کی کمائی ناپاک ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2309
حدثنا الحسن بن يعقوب وإبراهيم بن عِصْمة، قالا: حدثنا السَّرِي بن خُزيمة، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا أبان بن يزيد، عن يحيى بن أبي كثير، عن إبراهيم بن عبد الله بن قارِظ، عن السائب بن يزيد، عن رافع بن خَديج، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"كسبُ الحجّام خَبيثٌ، وثَمنُ الكلب خَبيثٌ، ومَهْر البغيّ خَبيثٌ" (1) . صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2278 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حجام (فصد لگانے والے) کی کمائی حرام ہے۔ کتے کے ثمن (کمائی) حرام ہیں اور زانیہ کا مہر حرام ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2309]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2309 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد جيد من أجل إبراهيم بن قارظ.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے اور ابراہیم بن قارظ کی وجہ سے یہ سند جید ہے۔
وأخرجه أبو داود (3421) عن موسى بن إسماعيل، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (3421) نے موسیٰ بن اسماعیل کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 25/ (15812)، وابن حبان (5153) من طريقين عن أبان بن يزيد، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 25/ (15812) اور ابن حبان (5153) نے ابان بن یزید کے دو طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (15827)، والترمذي (1275) من طريق معمر بن راشد، ومسلم (1568)، والنسائي (4668)، وابن حبان (5153) من طريق الأوزاعي، والنسائي (4669) من طريق هشام الدَّستُوائي، ثلاثتهم عن يحيى بن أبي كثير، به. إلّا أنَّ هشامًا قال في روايته: حدثنا عبد الله بن إبراهيم بن قارظ، وانفرد بذلك من بين أصحاب يحيى بن أبي كثير.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (15827)، ترمذی (1275)، مسلم (1568)، نسائی (4668، 4669) اور ابن حبان (5153) نے یحییٰ بن ابی کثیر کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه مسلم (1568)، والنسائي (4663) من طريق يحيى بن سعيد القطان، عن محمد بن يوسف ابن أخت نمر، والنسائي (4665) من طريق يزيد بن عبد الله بن خُصيفة، كلاهما عن السائب بن يزيد، به. ¤ ¤ وأخرجه النسائي (4664) من طريق حاتم بن إسماعيل، عن محمد بن يوسف ابن أخت نمر، عن السائب بن يزيد، رفعه. فجعله من مسند السائب بن يزيد، وهو صحابي صغير، فلا يؤثر ذلك بصحة الحديث، لأنَّ مراسيل الصحابة حجة.
🔍 علّت / فنی نکتہ: اسے مسلم (1568) اور نسائی (4663، 4664، 4665) نے سائب بن یزید سے روایت کیا ہے۔ اگرچہ بعض نے اسے مرسل کہا ہے لیکن صحابہ کے مراسیل حجت ہوتے ہیں۔
وقد صحَّت أحاديث أخرى يدل ظاهرها على حِلّ كسب الحجّام من ذلك حديث ابن عباس الذي أخرجه البخاري (2103) و (2278)، ومسلم (1577) (65) و (66): أنَّ رسول الله ﷺ احتجم وأعطى الحجام أجره، ولو كان سُحتًا لم يُعطه النبي ﷺ. ونحوه عن أنس عند البخاري (2280)، ومسلم (1577).
🧩 متابعات و شواہد: دیگر صحیح احادیث حجام کی کمائی کے حلال ہونے پر دلالت کرتی ہیں، جیسے ابن عباس کی روایت (بخاری 2103، 2278، مسلم 1577/ 65، 66) کہ آپ ﷺ نے پچھنے لگوائے اور اجرت دی؛ اگر یہ حرام ہوتی تو آپ ﷺ نہ دیتے۔ یہی مفہوم انس کی روایت (بخاری 2280، مسلم 1577) میں ہے۔
لكن قال الشافعي: ليس في شيء من هذه الأحاديث شيء مختلف، ولا ناسخ ولا منسوخ، فإنا أُخبرنا أنه رخَّص لمحيّصة أن يعلفَه ناضحه، ويُطعمه رقيقَه (أخرجه أحمد 39/ 23690، وأبو داود 3422، والترمذي 1277 وحسَّنه) ولو كان حرامًا لم يُجز رسولُ الله ﷺ لمحيصة أن يملك حرامًا، ولا يعلفه ناضحه ويطعمه رقيقه، ورقيقه ممَّن عليه فرض الحلال والحرام، ولم يُعطِ رسول الله ﷺ حجّامًا على الحجامة، لأنه لا يُعطي إلّا ما يحل له أن يُعطيه، وما يحلّ لمالكه ملكُه، والمعنى في نهيه عنه وإرخاصه في أن يُطعمه الناضح والرقيق أنَّ من المكاسب دَنِيًّا وحَسَنًا، فكان كسب الحجام دَنيًّا، فأحبَّ له تنزيه نفسِه عن الدناءة. نقله عنه البيهقي في "معرفة السنن والآثار" (19329).
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: امام شافعی نے فرمایا: ان میں کوئی تعارض یا ناسخ و منسوخ نہیں؛ آپ ﷺ نے حجام کی اجرت کو "دنی" (پست) قرار دیا تاکہ انسان خود کو پستی سے بچائے، لیکن اسے قطعی حرام نہیں کیا، جیسا کہ بیہقی نے "معرفة السنن والآثار" (19329) میں نقل کیا ہے۔