🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
62. النهي عن عسب الفحل
نر جانور کے ملاپ کی اجرت لینے سے ممانعت ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2313
حدثنا أبو بكر أحمد بن سَلْمان الفقيه، حدثنا الحسن بن مُكْرم، حدثنا رَوْح بن عُبادة، حدثنا حَيّان بن عُبيد الله العَدَوي، قال: سألت أبا مِجلَزٍ عن الصَّرْف، فقال: كان ابنُ عباس لا يرى به بأسًا زمانًا من عمره ما كان منه عَينًا - يعني يدًا بيد - وكان يقول: إنما الربا في النَّسيئة، فلَقِيَه - أبو سعيد الخُدْري، فقال له: يا ابن عباس، ألا تتَّقي اللهَ، إلى متى تُوكِل الناسَ الربا؟! أمَا بَلَغَك أنَّ رسول الله ﷺ قال ذات يوم وهو عند زوجته أم سَلَمة:"إني لأشتَهي تمرَ عَجْوةٍ"، فبعثَتْ صاعَين من تمرٍ إلى رجلٍ من الأنصار، فجاءت بدلَ صاعَينِ صاعًا من تمرِ عَجْوةٍ، فقامت فقدَّمتْه إلى رسول الله ﷺ، فلما رآهُ أعجبَه، فتناولَ تمرةً ثم أمسَكَ، فقال:"من أين لكم هذا؟" فقالت أم سَلَمة: بعثتُ صاعَين من تمرٍ إلى رجل من الأنصار، فأتانا بدلَ صاعَين هذا الصاعُ الواحدُ، وها هو، كُلْ، فألقى التمر من بين يديه، قال:"رُدُّوه، لا حاجةَ لي فيه: التمرُ بالتمرِ، والحنطةُ بالحنطةِ، والشعيرُ بالشعيرِ، والذهبُ بالذهبِ، والفضةُ بالفضةِ، يدًا بيد، عينًا بعين، مِثلًا بمِثل، فمن زاد فهو رِبًا". ثم قال:"كذلك ما يُكال أو يُوزن أيضًا". فقال ابن عباس: جزاك الله يا أبا سعيدٍ الجنةَ، فإنك ذكَّرتني أمرًا كنت نُسِّيتُه، أستغفرُ اللهَ وأتوبُ إليه. فكان ينهى عنه بعد ذلك أشدَّ النَّهْي (1)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2282 - حبان بن عبيد الله العدوي فيه ضعف وليس بالحجة
سیدنا حبان بن عبیداللہ عددی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے: میں نے ابومجلز سے بیع صرف کے متعلق مسئلہ پوچھا: تو انہوں نے جواباً کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ایک زمانے تک یہ موقف رہا ہے کہ اگر ہاتھوں ہاتھ ہوں تو کوئی حرج نہیں، وہ کہا کرتے تھے کہ سود تو صرف ادھار میں ہوتا ہے۔ ایک دفعہ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا: اے ابن عباس رضی اللہ عنہما تم اللہ سے نہیں ڈرتے ہو تم لوگوں کو کب تک سود میں مبتلا کیے رکھو گے؟ کیا تمہیں اس حدیث کی اطلاع نہیں ہے؟ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عجوہ کھجور کھانے کی خواہش کا اظہار کیا، تو انہوں نے دو صاع کھجوریں ایک انصاری کے پاس بھیجیں تو وہ دو صاع کھجوروں کے بدلے ایک صاع عجوہ کھجوریں دے گیا۔ پھر ام المومنین رضی اللہ عنہا نے یہ کھجوریں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کھجوروں کو دیکھا تو بہت پسند کیا اور ان میں سے ایک کھجور اٹھا کر کھا لی اور پھر رُک گئے اور پوچھا: یہ کھجوریں تمہارے پاس کہاں سے آئیں؟ ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: میں نے دو صاع کھجوریں ایک انصاری آدمی کی طرف بھیجی تھیں تو وہ ان دو صاع کے بدلے ایک صاع عجوہ کھجوریں دے گیا۔ یہ وہی ہیں، آپ تناول فرمایئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تمام کھجوریں پھینک دیں اور فرمایا: یہ واپس بھیج دو، مجھے ان کی ضرورت نہیں ہے۔ کھجور کھجور کے بدلے، گندم گندم کے بدلے، جَو، جَو کے بدلے، سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے ہاتھوں ہاتھ ہو اور برابر، برابر ہو (تو جائز ہے) جو زیادہ ہو گا وہ سود ہے پھر اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چیزوں کے متعلق جن کو ماپا جاتا ہے اور جن کا وزن کیا جاتا ہے بھی یہی فرمایا۔ اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کو جنت کی دعائیں دیں اور کہنے لگے: آج آپ نے مجھے وہ بات یاد دلا دی ہے جس کو میں بھلا چکا تھا، میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں اور معافی مانگتا ہوں، اس کے بعد آپ بڑی شدت کے ساتھ بیع صرف سے منع کیا کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2313]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2313 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن من أجل حيّان بن عُبيد الله العَدَوي. أبو مجلَز: هو لاحق بن حُميد. ¤ ¤ وأخرجه محمد بن نصر المروَزي في "السنة" (177)، وأبو القاسم بن بشران في "أماليه" (1442)، وابن حزم في "المحلى" 8/ 479 من طريق إسحاق بن راهويه، عن روح بن عُبادة، بهذا الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث: حیان بن عبید اللہ العدوی کی وجہ سے اس کی سند حسن ہے۔ ابو مجلز کا نام لاحق بن حمید ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے مروزی نے "السنہ" (177)، ابن بشران نے "امالی" (1442) اور ابن حزم نے "المحلی" 8/ 479 میں اسحاق بن راہویہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن عدي في "الكامل" 2/ 425، ومن طريقه البيهقي 5/ 286 من طريق إبراهيم بن الحجاج، والبيهقي 5/ 286، والخطيب البغدادي في "الفقيه والمتفقه" (372) من طريق يونس بن محمد المؤدِّب، كلاهما عن حيّان بن عبيد الله، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن عدی نے "الکامل" 2/ 425، بیہقی 5/ 286 اور خطیب بغدادی نے "الفقیہ والمتفقہ" (372) میں حیان بن عبید اللہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرج منه فتوى ابنِ عباس بنحو ما وقع هنا مسلمٌ (1595) (99) و (100) من طريق أبي نضرة - واسمه المنذر بن مالك بن قِطْعة - عن ابن عباس.
📖 حوالہ / مصدر: ابن عباس رضی اللہ عنہ کا اسی طرح کا فتویٰ امام مسلم (1595/ 99، 100) نے ابو نضرہ (منذر بن مالک) عن ابن عباس کے طریق سے نقل کیا ہے۔
وأخرج البخاري (2178)، ومسلم (1596) من طرق عن ابن عباس أنَّ الذي أخبره عن النبي ﷺ: أنَّ الربا إنما يكون في النسيئة؛ وهو أسامة بن زيد.
📖 حوالہ / مصدر: بخاری (2178) اور مسلم (1596) میں ابن عباس سے مروی ہے کہ انہیں اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "ربا (سود) صرف ادھار (نسیئہ) میں ہوتا ہے"۔
وأخرج مراجعة أبي سعيد الخُدْري لابن عباس في ذلك البخاريُّ (2178)، ومسلمٌ (1596) (101) من طريق أبي صالح السمان، ومسلم (1596) (104) من طريق عطاء بن أبي رباح، كلاهما عن أبي سعيد الخُدْري.
📖 حوالہ / مصدر: اس مسئلے میں ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کا ابن عباس سے رجوع کرنا بخاری (2178) اور مسلم (1596/ 101، 104) نے ابوصالح السمان اور عطاء بن ابی رباح کے طرق سے روایت کیا ہے۔
وأخرج البخاري (2312)، ومسلم (1594) نحو القصة التي بيَّن فيها أبو سعيد حجته في تحريم الفضل من طريق عقبة بن عبد الغافر، عن أبي سعيد الخُدْري. لكن ذكر فيها بلالًا ولم يذكر أم سلمة، ولم يذكر فيها الأصناف الربوية المذكورة هنا، بل اقتصر على ذكر التمر، وقال: "إذا أردتَ أن تشتري فبع التمر ببيع آخر، ثم اشتره".
📖 حوالہ / مصدر: بخاری (2312) اور مسلم (1594) میں اس قصے کی مثل مروی ہے جس میں ابوسعید خدری نے سود کی حرمت پر حجت قائم کی۔ وہاں حضرت بلال کا ذکر ہے اور آپ ﷺ نے فرمایا: "جب تم (اچھی کھجور) خریدنا چاہو تو اپنی کھجوریں دوسری بیع کے عوض بیچ دو، پھر اس سے خریدو"۔
ونحوه عند مسلم (1595) (100) من طريق أبي نَضْرة، عن أبي سعيد.
📖 حوالہ / مصدر: اسی کی مثل مسلم (1595/ 100) میں ابونضرہ عن ابی سعید خدری سے مروی ہے۔
وأخرج البخاري (2201) و (2302) و (7350)، ومسلم (1593) من طريق سعيد بن المسيب عن أبي سعيد وأبي هريرة، قصةً حصلت لعامل النبي ﷺ على خيبر باع منها تمرًا بتمر صاعًا بصاعين، وقال فيها النبي ﷺ نحو ما قال في رواية عقبة بن عبد الغافر المذكورة، وزاد فيها: وكذلك الميزان، وفي رواية: وقال في المِيْزان مثل ذلك.
📖 حوالہ / مصدر: بخاری (2201، 2302، 7350) اور مسلم (1593) میں سعید بن المسیب کے طریق سے خیبر کے عامل کا قصہ مروی ہے جس میں صاع کے بدلے دو صاع کھجوروں کا ذکر ہے، وہاں آپ ﷺ نے فرمایا: "میزان (تولنے والی چیزوں) کا بھی یہی حکم ہے"۔
وهذه الزيادة هي بمعنى قوله في رواية الحاكم هنا: كذلك ما يُكال أو يُوزَن أيضًا.
📌 اہم نکتہ: یہ اضافہ (میزان والا) امام حاکم کی اس روایت کے ہم معنی ہے جس میں کہا گیا: "اسی طرح ہر وہ چیز جسے ناپا یا تولا جاتا ہے"۔
وقد ذكر البيهقي في "السنن الكبرى" 5/ 286 أنَّ هذه الجملة من جهة أبي سعيد الخُدْري، أي: من قوله استعمل فيها القياس، وليست مرفوعةً، واستدل لذلك برواية داود بن أبي هند، عن أبي نضرة، عن أبي سعيد في احتجاجه على ابن عباس بقصة التمر، وقوله له: فالتمر بالتمر أحق أن يكون ربا أم الفضة بالفضة، قال: فكان هذا قياسًا من أبي سعيد للفضة على التمر الذي روى فيه قصة، إلّا أنَّ بعض الرواة رواه مفسَّرًا مفصولًا، وبعضهم رواه مجملًا موصولًا. ¤ ¤ قلنا: يعني أنه أدرجه بعضُ الرواة في الخبر.
🔍 فنی نکتہ: بیہقی نے "السنن الکبریٰ" 5/ 286 میں ذکر کیا کہ یہ جملہ (ما یکال او یوزن) ابوسعید خدری کا اپنا قول ہے جو انہوں نے بطور قیاس استعمال کیا، یہ مرفوع حدیث کا حصہ نہیں ہے بلکہ بعض راویوں نے اسے حدیث میں داخل (ادراج) کر دیا ہے۔
لكن قال ابن عبد البر في "التمهيد" 20/ 57: هو أمر مُجتَمَعٌ عليه لا خلاف بين أهل العلم فيه كلٌّ يقول على أصله: إن ما داخَلَه الربا في الجنس الواحد من جهة التفاضل والزيادة لم تجز فيه الزيادة والتفاضل لا في كيل ولا في وزن، والكيل والوزن عندهم في ذلك سواء.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: ابن عبدالبر "التمہید" 20/ 57 میں فرماتے ہیں کہ اس مسئلے پر اجماع ہے اور اہل علم میں کوئی اختلاف نہیں کہ جن چیزوں میں ایک ہی جنس کی وجہ سے ربا ہوتا ہے، وہاں کمی بیشی جائز نہیں، چاہے وہ ناپ کر ہوں یا تول کر۔
وأخرج المرفوع منه في ذكر الأصناف التي يجري فيها الربا: أحمد 18/ (11466)، ومسلم (1587) (81)، والنسائي (6113) من طريق أبي المتوكل الناجي، عن أبي سعيد الخُدْري، بزيادة ذكرُ "الملح بالملح"، وزاد أيضًا: "فمن زاد أو استزاد فقد أربي، الآخِذُ والمعطي فيه سواءٌ".
📖 حوالہ / مصدر: ان اجناس کے ذکر والی مرفوع حدیث کو امام احمد 18/ (11466)، مسلم (1587/ 81) اور نسائی (6113) نے ابومتوکل الناجی کے طریق سے روایت کیا ہے، جس میں "نمک کے بدلے نمک" کا اضافہ ہے اور یہ بھی کہ "لینے اور دینے والا سود میں برابر ہیں"۔
وأخرج منه تراجُع ابن عباس عن قوله أحمد 18/ (11479) من طريق أبي الجوزاء، ومسلم (1595) (100) من طريق أبي الصهباء، كلاهما عن ابن عباس. وفي رواية أبي الجوزاء قال له ابنُ عباس: إنَّ ذلك كان عن رأيي، وهذا أبو سعيد الخُدْري يُحدِّث عن رسول الله ﷺ، فتركت رأيي إلى حديث رسول الله ﷺ.
📖 حوالہ / مصدر: ابن عباس کا اپنے قول سے رجوع کرنا احمد 18/ (11479) اور مسلم (1595/ 100) نے روایت کیا ہے۔ ابوالجوزاء کی روایت میں ابن عباس نے کہا: "وہ میری اپنی رائے تھی، اور ابوسعید رسول اللہ ﷺ سے حدیث بیان کرتے ہیں، لہذا میں نے اپنی رائے کو حدیث کے لیے چھوڑ دیا"۔
وتمر العجوة: هو أجود التمر في المدينة، ومن خِياره الصَّيحاني.
📝 نوٹ / توضیح: عجوہ کھجور مدینہ کی بہترین کھجور ہے، اور اس کی اعلیٰ اقسام میں سے "صیحانی" ہے۔