المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
103. شفاعتي لأهل الكبائر من أمتي
میری شفاعت میری امت کے گناہگاروں کے لیے ہے۔
حدیث نمبر: 233
حدَّثَناه أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن بشَّار وإسحاق بن منصور قالا: حدثنا أبو داود، حدثنا محمد بن ثابت البُنَاني، عن جعفر بن محمد، عن أبيه، عن جابر بن عبد الله، أنَّ النبي ﷺ قال:"شفاعتي لأهلِ الكبائرِ من أمَّتي". قال أبو جعفر: وقال لي جابر: يا محمدُ، مَن لم يكن من أهل الكبائر، فما له وللشفاعةِ (3) . حدثنا الحاكمُ أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ إملاءً في رجب سنة ثلاث وتسعين:
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہگاروں کے لیے ہے۔“ ابو جعفر (راوی) کہتے ہیں کہ مجھ سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے محمد! جو شخص کبیرہ گناہ کرنے والوں میں سے نہ ہو، اسے شفاعت کی کیا ضرورت؟ (یعنی شفاعت تو بنی ہی گناہگاروں کے لیے ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 233]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 233 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) صحيح لغيره كما سبق، وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن ثابت البُنَاني، وقد توبع كما ¤ ¤ في الحديث السابق. أبو داود: هو الطيالسي سليمان بن داود.
⚖️ درجۂ حدیث: جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، یہ حدیث "صحیح لغیرہ" ہے، لیکن یہ مخصوص سند محمد بن ثابت البنانی کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے، البتہ گزشتہ حدیث کی طرح یہاں بھی متابعت موجود ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہاں ابوداؤد سے مراد سلیمان بن داؤد الطیالسی ہیں۔
وأخرجه الترمذي (2436) عن محمد بن بشار وحده، بهذا الإسناد. وقال: حديث حسن.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی نے (2436) صرف محمد بن بشار کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے "حدیث حسن" قرار دیا ہے۔