🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
85. النهي عن المحاقلة والمخاضرة والمنابذة
محاقلہ، مخاضرة اور منابذة کی بیع سے ممانعت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2375
حدثنا أبو الوليد الفقيه، حدثنا أبو نُعيم الجُرجاني، حدثنا حماد بن الحسن بن عَنبَسة، حدثنا عُمر بن يونس بن القاسم، حدثنا أبي، عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة، عن أنس، قال: نهى رسول الله ﷺ عن المُحاقَلَة والمُخاضَرة والمُنابَذة (2) . قال الأستاذ أبو الوليد: المخاضَرة أن لا يباعَ شيء منها حتى يحمرَّ أو يَصفرَّ.
هذا حديث صحيح الإسناد، وقد تفرَّد بإخراجه البخاري.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2344 - صحيح تفرد بإخراجه البخاري
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ، مخاضرہ اور منابذہ سے منع کیا ہے۔ ٭٭ استاد ابوالولید فرماتے ہیں، مخاضرہ کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت تک کھجوریں نہ بیچی جائیں جب تک کہ سرخ یا زرد نہ ہو جائیں، یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور اس کو صرف امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے نقل کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2375]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2375 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح. أبو نعيم الجُرجاني: هو عبد الملك بن محمد بن عدي الحافظ. ¤ ¤ وأخرجه البخاري (2207) عن إسحاق بن وهب، عن عمر بن يونس، بهذا الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ سند "صحیح" ہے اور امام بخاری (2207) نے بھی اسے روایت کیا ہے۔
والمحاقلة: اشتراء الزرع بالحنطة، واستكراء الأرض بالحنطة، وكذا تطلق على بيع الزرع القائم بالحَبّ كيلًا.
📝 نوٹ / توضیح: "محاقلہ" سے مراد کھیت میں کھڑی فصل کو گندم کے بدلے خریدنا یا زمین کو گندم کے عوض کرائے پر دینا ہے۔
والمنابذة: أن ينبذ الرجل إلى الرجل ثوبه وينبذ الآخر ثوبه، ويكون ذلك بيعهما عن غير نظر ولا تراض. أو هي أن يقول: أنبذ ما معي وتنبذ ما معك، يشتري كلُّ واحدٍ منهما من الآخر، ولا يدري كل واحد منهما كم مع الآخر.
📝 نوٹ / توضیح: "منابذہ" بیع کی ایک جاہلی قسم ہے جس میں ایک دوسرے کی طرف کپڑا پھینکنا ہی بیع سمجھ لیا جاتا تھا، بغیر دیکھے اور بغیر باقاعدہ رضامندی کے۔