🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
94. صاحب الدابة أحق بصدر دابته
سواری والے جانور کی اگلی جگہ کا زیادہ حق اس کے مالک کو ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2402
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه وعلي بن حَمْشاذَ العَدْل، قالا: حدثنا عُبيد بن عبد الواحد، حدثنا سعيد بن أبي مريم، أخبرنا يحيى بن أيوب، أخبرني عمرو بن الحارث، أن بكر بن سَوَادة أخبره عن أبي سالم الجَيْشاني، عن زيد بن خالد الجُهَني، أَنَّ رسول الله ﷺ قال:"مَن آوى ضالَّةً فهو ضالٌّ ما لم يُعرِّفْها" (2) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2371 - صحيح
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے کسی گمشدہ چیز کو اپنے پاس جگہ دی تو وہ گمشدہ ہی ہے جب تک کہ اس کا اعلان نہ کرواؤ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2402]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2402 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل يحيى بن أيوب - وهو الغافقي - وقد توبع.
⚖️ درجۂ حدیث: "حدیث صحیح" ہے، اور یحییٰ بن ایوب الغافقی کی وجہ سے سند "حسن" ہے، نیز اس کے متابعات بھی ثابت ہیں۔
أبو سالم الجيشاني: هو سفيان بن هانئ.
📝 نوٹ / توضیح: ابو سالم الجیشانی کا اصل نام سفیان بن ہانی ہے۔
وأخرجه أحمد 28/ (17055)، ومسلم (1725)، والنسائي (5774)، وابن حبان (4897) من طريق عبد الله بن وهب، عن عمرو بن الحارث، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: یہ حدیث صحیح مسلم (1725) میں موجود ہے، اس لیے مستدرک میں اس کا استدراک امام حاکم کی بھول ہے۔
وأخرجه أحمد (17055) من طريق عبد الله بن لَهيعة، عن بكر بن سوادة، به.
📖 حوالہ / مصدر: امام احمد نے اسے ابن لہیعہ کے طریق سے بھی روایت کیا ہے۔
قال النووي في "شرح مسلم" 12/ 28: هذا دليل للمذهب المختار أنه يلزمه تعريف اللقطة مطلقًا سواءًا أراد تملّكها أو حفظها على صاحبها، وهذا هو الصحيح. ويجوز أن يكون المراد بالضالة هنا ضالة الإبل ونحوها مما لا يجوز التقاطه للتملك، بل إنها تُلتقط للحفظ على صاحبها، فيكون معناه: من آوى ضالة فهو ضالٌّ ما لم يعرّفها أبدًا. والمراد بالضالّ المفارق للصواب.
📚 فقہی نکتہ: امام نووی کے مطابق یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ "لقطہ" (گری ہوئی چیز) کی تشہیر (تعریف) ہر حال میں واجب ہے، چاہے اسے خود رکھنے کی نیت ہو یا مالک تک پہنچانے کی۔ "ضالّ" (گمراہ) کا مطلب یہاں "حق سے ہٹنے والا" ہے۔