🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. من سأل الله القتل من عند نفسه صادقا ثم مات أو قتل ، فله أجر الشهيد
جس نے سچے دل سے اللہ سے شہادت مانگی، پھر وہ مر گیا یا قتل ہو گیا، اسے شہید کا اجر ملے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2441
أخبرني بَكْر بن محمد بن حَمْدان الصَّيْرَفي بمَرْو، حدثنا أبو قِلابة الرَّقَاشي، حدثنا رَوح بن عُبادة، حدثنا ابن جُرَيج، قال: قال سليمان بن موسى، حدثنا مالك بن يُخامِر، أنَّ معاذ بن جبل حدثهم، أنه سمع رسول الله ﷺ يقول:"مَن قاتَلَ في سبيل الله مِن رجلٍ مُسلمٍ فُواقَ ناقةٍ، فقد وجَبَتْ له الجنةُ، ومن سأل اللهَ القتلَ مِن عند نفسِه صادقًا، ثم ماتَ أو قُتِلَ، فله أجرُ شَهيدٍ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله إسناد صحيح على شرط الشيخين مختصرًا، ولم يُخرجاه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2410 - بل هو منقطع فلعله من الناسخ
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو مسلمان صرف اتنی دیر کے لیے جہاد میں شریک ہو جائے جتنی دیر اونٹنی کو ایک بار دوہنے کے بعد دوسری مرتبہ دوہنے تک وقفہ ہوتا ہے، اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے اور جو شخص سچے دل سے اللہ تعالیٰ سے شہادت طلب کرتا ہے وہ چاہے (طبعی موت) مرے یا قتل کیا جائے (بہرحال) اس کو شہید کا ثواب دیا جاتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ اور اس کی ایک دوسری سند ہے جو کہ شیخین کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ (وہ حدیث درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2441]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2441 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل أبي قِلابة الرقاشي - وهو عبد الملك بن محمد - وسليمان بن موسى - وهو الأشدق - وقد توبعا. وقد صرَّح ابنُ جُرَيج - وهو عبد الملك بن عبد العزيز - بسماعه من سليمان بن موسى عند ابن ماجه والنسائي وغيرهما، فلا معنى لقول الذهبي بأنه منقطع. وكذا صرَّح سليمان بن موسى بسماعه من مالك بن يُخامر هنا عند المصنف وعند غيره، فلا معنى لقول ابن معين بأنَّ روايته عنه مرسلة.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے اور ابوقلابہ الرقاشی اور سلیمان بن موسیٰ کی وجہ سے سند قوی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابن جریج اور سلیمان بن موسیٰ کے سماع کی تصریح موجود ہے، لہذا امام ذہبی کا اسے "منقطع" کہنا اور ابن معین کا "مرسل" کہنا درست معلوم نہیں ہوتا۔
وأخرجه أحمد 36/ (22116)، والترمذي (1657) من طريق روح بن عُبادة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد اور ترمذی (1657) نے روح بن عبادہ کی سند سے روایت کیا ہے۔
واقتصر الترمذي على شطره الأول، وعنده زيادة ليست في حديثنا هنا.
🔍 فنی نکتہ / علّت: امام ترمذی نے صرف پہلے حصے پر اکتفا کیا ہے اور ان کے ہاں کچھ اضافی الفاظ بھی ہیں جو یہاں موجود نہیں۔
وأخرجه أحمد (22014) عن عبد الرزاق، و (22116) عن محمد بن بكر، وابن ماجه (2792) من طريق أبي عاصم الضحاك بن مخلد، والنسائي (4334) من طريق حجاج بن محمد المِصِّيصي، أربعتهم عن ابن جُريج، به. واقتصر ابن ماجه على شطره الأول كذلك.
📖 حوالہ / مصدر: اسے عبدالرزاق، محمد بن بکر، ابن ماجہ (2792) اور نسائی (4334) چاروں نے ابن جریج کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (22050) من طريق خالد بن مَعْدان عن مالك بن يُخامر، به. وإسناده حسن.
⚖️ درجۂ حدیث: خالد بن معدان کی مالک بن یخامر سے روایت کی سند حسن ہے۔
وأخرجه أحمد (22110)، وابن حبان (3191) و (4618) من طريق زيد بن يحيى بن عبيد الدمشقي، وأبو داود (2541) من طريق بقية بن الوليد، كلاهما عن عبد الرحمن بن ثابت بن ثوبان، عن أبيه، عن مكحول، كثير بن مرّة الحضرمي، عن مالك بن يخامر، به. لكن أسقط بقيةُ من إسناده كثيرَ بنَ مُرّة، وبقية معروف بتدليس التسوية، فالقول قول زيد بن يحيى، لأنَّ مكحولًا لم يَلْقَ مالك بن يُخامِر. قال الذهبي: روى مكحول عن طائفةٍ من قدماء التابعين، ما أحسبه لقيهم، وذكر منهم مالك بن يُخامر. وإسناد رواية زيد بن يحيى حسن.
🔍 فنی نکتہ / علّت: زید بن یحییٰ کی روایت میں کثیر بن مرہ کا ذکر ہے جبکہ بقیہ بن ولید کی روایت میں نہیں ہے۔ چونکہ مکحول کا مالک بن یخامر سے سماع ثابت نہیں (جیسا کہ ذہبی نے کہا)، اس لیے زید بن یحییٰ کی سند حسن ہے۔